انڈیا: سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کیس کا فیصلہ موخر

سمجھوتہ ایکسپریس تصویر کے کاپی رائٹ PTI

انڈیا میں پنچ کولا کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کیس میں آج فیصلہ موخر کر دیا ہے۔

عدالت نے پاکستان کی ایک خاتون کی جانب سے گواہ کے طور پر عدالت کے روبرو پیش ہونے کی عرضی ملنے کے بعد فیصلہ موخر کیا۔

ہریانہ میں پنچ کولا کی ایک ذیلی عدالت کے جج پیر کو فیصلہ سنانے ہی والے تھے اور مقدمے کے چار اہم ملزمان بھی عدالت پہنچ چکے تھے کہ ایک وکیل نے پاکستان کی ایک خاتون کی جانب سے عدالت میں بطور گواہ پیش ہونے کی درخواست داخل کی۔ ان کا تعلق بم دھماکے سے متاثرہ ایک خاندان سے بتایا جاتا ہے۔

سپیشل جج جگدیپ سنگھ نے پاکستانی خاتون راحیلہ وکیل کی درخواست پر غور کرنے کے لیے 14 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اگر عدالت نے ان کی عرضی منظور کر لی تو اس مقدمے کا فیصلہ مزید موخر ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ان کی عرضی مسترد ہو گئی تو عدالت اپنا فیصلہ 14 مارچ یا اس کے بعد کبھی بھی سنا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سمجھوتہ ایکسپریس بحال، لائن آف کنٹرول پرکشیدگی

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کا اصل ملزم رہا ،11 گواہ منحرف

این آئی اے نے اس مقدمے میں سوامی اسیم آنند سمیت بعض ہندو انتہا پسندوں کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ این آئی اے نے عدالت میں یہ دلائل دیے تھے کہ اس دھماکے میں پاکستانی مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔

اسیم آنند کے وکیل ایس سی شرما نے آج فیصلہ موخر ہونے کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا 'پاکستانی خاتون نے فیصلے کے روز گواہی دینے کی جو عرضی داخل کی ہے اس میں بدنیتی لگتی ہے۔ عدالت چھ بار سمن بھیج چکی ہے تب وہ کیوں نہيں آئیں؟'

دہشت گردی کا یہ واقعہ 18 فروری 2007 کی رات رونما ہوا تھا۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس دلی سے چل کر انڈیا کے آخری سٹیشن اٹاری کی طرف بڑھ رہی تھی کہ نصف شب کے قریب جب یہ ٹرین ہریانہ کے شہر پانی پت کے دیوانی گاؤں کے نزدیک پہنچی تو اس کے ایک کمپارٹمنٹ میں بم دھماکہ ہوا۔

دھماکے سے دو بوگیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ اس واقعے میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔

سمجھوتہ ایکپریس دھماکے میں اصل ملزم سوامی اسیم آنند ہیں جن کا تعلق ایک شدت پند تنظیم 'ابیھنو بھارت' سے ہے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ ملزمان تھے، جن میں سے ایک سنیل جوشی 2007 میں قتل کر دیے گئے تھے۔ تین دیگر ملزمان سندیپ ڈانگے، رام چندر کلسانگرا اور امیت فرار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سمجھوتہ ایکپریس کے مقدمے میں 224 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ عدالت نے 13 پاکستانی گواہوں کو بھی پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے کئی بار سمن بھیجا لیکن ان میں سے کسی نے بھی گواہی نہیں دی۔

اس طویل مقدمے میں تقریباً 300 گواہ تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دو برس میں اس مقدمے میں 30 سے زیادہ گواہ منحرف ہوچکے ہیں۔ سماعت کے دوران گذشتہ تین برس میں درجنوں سرکاری گواہ منحرف ہوئے۔

سوامی اسیم آنند سمجھوتہ ایکسپریس کے علاوہ مکہ مسجد اور اجمیر درگاہ سمیت بعض دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملزم تھے لیکن وہ ان میں سے کئی واقعات میں بری ہو چکے ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آنے کا امکان ہے جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ انڈیا پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ ممبئی حملے کے ذمہ داران کو سزا دے تاہم یہ مقدمہ پاکستان میں ابھی بھی زیرِ التوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں