انڈیا کی طرف سے ہائی وے بین کشمیریوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟

بھارت کے زیر انتظام کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہراہ کی بندش پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے

انڈیا کی فوج کی نقل و حرکت کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں محفوظ رکھنے اور ریاست میں عام انتخابات کرانے کا عذر پیش کرتے ہوئے چند دن قبل ریاستی حکومت نے جموں بارہمولہ ہائی وے کو ہفتے میں دو دن بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سکیورٹی کے نام پر ریاست کو زمینی راستے سے جوڑنے والی تقریباً 300 کلومیٹر طویل بارہمولہ جموں ہائی وے کو ہر ہفتے اتوار اور بدھ کو شہریوں کے لیے بند رکھنے کے حکم سے عام شہریوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بی بی سی اردو سروس نے چند کشمیری شہریوں سے بات کی۔

جاوید پارسا، پارساز فوڈ چین کے مالک، سرینگر

تصویر کے کاپی رائٹ JAVID PARSA
Image caption جاوید پرسا کشمیر کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی فوڈ چین ’پارساز‘ کے مالک ہیں

اس حکم کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ میرا کاروبار اس پابندی سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور خاص طور پر اسلام آباد اور اونتی پورا کے ہمارے 'آؤٹ لیٹس' میں بِزنس نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔

یہ حکم انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک کے لیے شرمندگی کا سبب ہونی چاہیے۔

ہمارے سرینگر والے کیفے بھی متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر اتوار کو، کیونکہ ان کے زیادہ تر گاہک اتوار کو دوسرے علاقوں سے شہر آیا کرتے تھے، اور اب وہ ایسا نہیں کر پا رہے۔ سرینگر سے باہر جو ہمارے کیفے ہیں ان کے کچن چلانے کے لیے ضروری سامان نہیں پہنچ پا رہا جس وجہ سے وہاں بھی نقصان ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JAVID PARSA
Image caption ’اسلام آباد اور اونتی پورا کے ہمارے 'آؤٹ لیٹس' میں بِزنیس نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔‘

میں شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے بانڈی پورہ میں پیدا ہوا۔ میں نے آج تک ایسے حالات نہیں دیکھے جیسے آج ہیں۔

اویس قادر جامعی، تاجر، سرینگر

تصویر کے کاپی رائٹ JAVID PARSA
Image caption ’اس حکم کو جلد از جلد واپس لیا جانا چاہیے‘

’اس شاہراہ سے اوسطاً 100 کروڑ روپے کی اشیاء کی روزآنہ تجارت ہوتی ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے اب 100 کروڑ کی اشیاء اور مال کئی کئی دن تک پھنسے رہتے ہیں۔ مال اور اشیا لے جانے والی گاڑیاں اور ٹرک کئی کئی دن پھنسے رہتے ہیں جس سے کرائے کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

اس حکم کو جلد از جلد واپس لیا جانا چاہیے یا اس کو ختم کیا جانا چاہیے تاکہ کشمیر کا تاجر معمول کے مطابق تجارت کر سکے۔

یہ بھی پڑھیے

اوڑی سے پلوامہ حملے تک

کشمیر: ریاست کے پاس کوئی راستہ نہیں

انڈین مسلم کشمیر کی تحریک میں کیوں؟

بشارت علی، کشمیری طالب علم، دلی

’عجیب سی بات ہے کہ دنیا کی مضبوط ترین افواج میں شامل ہونے والی فوج کو کشمیر میں کشمیریوں سے سکیورٹی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہراہ کے بند ہونے سے پورا خطہ مثاثر ہو رہا ہے

کشمیریوں سے کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں اس لیے اتنی بڑی تعداد میں فوج اور سکیورٹی فورسز تعینات ہیں کہ عام لوگوں کو سرحد پار سے آنے والے 'دہشت گردوں' یا شدت پسندوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

حکومت کی یہ عجیب سی منطق ہے کہ انتخابات کرانے کے لیے آپ کو پوری آبادی کو قید کرنا پڑتا ہے۔

سب لوگ ایک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں۔ گھر جانے کا ارادہ کرتے ہیں تو سوچنا پڑتا ہے کب جائیں کب نہ جائیں۔ گھر والوں سے بات کریں تو وہ بھی شدید تذبذب کا شکار ہیں۔ بچے سکول نہیں جا سکتے، مریضوں کو ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا۔

یاسر بشیر، کشمیری طالب علم، دلی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں ان دنوں عام انتخابات ہو رہے ہیں

میرا تعلق کشمیر کے علاقے بانڈی پورہ سے ہے اور میں دلی کی جامعہ ملیہ یونیوسٹی میں تاریخ میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔ ہائی وے کو بند رکھنے کا حکم کشمیریوں کے لیے پلوامہ حملے کی اجتماعی سزا ہے۔

یہ حکومت ہند کی ان 'کشمیر دشمن' پالیسیوں کا حصہ ہیں جو سنہ 1947 سے ریاست میں تسلسل سے جاری ہیں۔

اس طرح کے اقدامات کی مثال آج کی دنیا میں صرف اسرائیل میں ملتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں