مودی کے نئے وزیر:پڑوسیوں اور اقلیتوں کے لیے کیا پیغام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایس جے شنکر پیشہ ور سفارتکار ہیں اور وہ بی جے پی کے رکن نہیں ہیں۔ انھیں چین اور پاکستان کے امور کا ماہر تصور کیا جاتا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی نے سفارتکار اور سابق خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر کو ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا ہے۔ وہ سشما سوراج کی جگہ لیں گے ۔ سشما سوراج نے انتخاب لڑنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ انہیں نئی وزارتی کونسل میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

بی جے پی کے صدر امیت شاہ کو نیا وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔ امیت شاہ وزیر اعظم کے سب سے قریبی معتمد ہیں۔

سابق وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نئی حکومت میں وزارت دفاع کا چارج سنبھالیں گے ۔

سابق وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ملک کی پہلی خاتون وزیر خزانہ ہیں۔ وہ نئی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کریں گی ۔ گزشتہ حکومت میں ارون جیٹلی وزیر خزانہ تھے۔ اس بار وہ خرابی صحت کے سبب کابینہ میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

امت شاہ: جنھوں نے مودی کو سپرسٹار بنایا

’مودی اور ان کے ایک نئے انڈیا کے تصور کی فتح ہے‘

مودی کا انتخاب:’اچھی امید رکھیں مگر بدتر کے لیے تیار رہیں‘

پیوش گوئل کو ریلوے کی ذمے داری دی گئی ہے۔ کانگریس کے صدرراہل گاندھی کو امیٹھی میں شکست دینے والی سمرتی ایرانی کو خواتین اور بچوں کی بہبود و ترقی کا وزیر بنایا گیا ہے۔ یہ وزارت پہلے مینکا گاندھی کے پاس تھی۔ انہیں نئی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امیت شاہ وزیر اعظم مودی کے بعد بی جے پی میں سب سے با اثررہنما ہیں

نئی وزارت میں سب سے بڑی تبدیلی وزارت خارجہ اور اور وزارت داخلہ میں ہوئی ہے۔ نئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر پیشہ ور سفارتکار ہیں اور وہ بی جے پی کے رکن نہیں ہیں۔ انہوں نے انتخاب بھی نہیں لڑا تھا۔ مودی ان کی سفارتی صلاحیت کے سبب انہیں کابینہ میں لائے ہیں۔

جے شنکر کو چین، امریکہ اور پاکستان کے امور کا ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا عمل ایک طویل عرصے سے ٹوٹا ہوا ہے۔ جے شنکر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

نئے وزیر داخلہ اور داخلح سطح پر اہم فیصلے

امیت شاہ وزیر اعظم مودی کے بعد بی جے پی اور حکومت میں سب سے با اثررہنما ہیں۔ داخلی امور کی وزارت کی ذمے داری انہیں ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ملک میں داخلی سطح پر کئی اہم فیصلے کیے جانے ہیں۔

بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ وہ انڈیا کے زیر انتطام کشمیر کے خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 کو ختم کرے گی۔ امیت شاہ نے انتخابی مہم کے آخری مراحل میں پارٹی کے اس وعدے کا اعادہ کیا تھا۔ کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیمیں اور حکومت نواز جماعتیں دفعہ 370 کو ختم کرنے کی مخالفت کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ کی نگرانی میں میں رام جنم بھومی بابری مسجد کے تنازعے کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لیے اس وقت بات چیت چل رہی ہے۔ آئندہ ڈھائی مہینے میں اس قضیے کا بھی کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

لیکن اس سے بھی اہم شہریت کا ترمیمی بل ہے جو گزشتہ پارلیمنٹ میں پاس نہ ہو سکا۔ اس بل کے تحت پڑوسی ملکوں سے انڈیا میں پناہ لینے والے ہندوؤں، سکھوں، جینوں اور بودھ اقلیتوں کو شہریت دینے کی تجویز ہے لیکن اس میں مسلمانوں کو باہر رکھا گیا ہے۔ یہ بل آسام میں جاری غیرقانونی تارکین وطن کی شناخت کے عمل کے پس منظر میں لایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نرملا سیتا رمن بھارت کی پہلی خاتون وزیر خزانہ ہیں

آسام میں بنگالی بولنے والے لاکھوں باشندوں کو آئندہ دو مہینے میں ممکنہ طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن قرار دیا جانے والا ہے۔ اس میں ہندو بھی ہیں اور مسلم بھی۔ حکومت شہریت کے ترمیمی بل کو قانون کی شکل دے کر ہندوؤں کو شہریت دینا چاہتی ہے جبکہ مسلمانوں کو شہریت اور قومیت سے بے دخل کرنے کی تجویز ہے۔

بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ وہ آسام جیسا شہریت کی شناخت کا عمل بنگال اور دوسری ریاستوں میں بھی شروع کرے گی۔

وزیر اعظم مودی کے ساتھ جمعرات کو 57 وزرا نے حلف لیا تھا۔ نئی وزارتی کونسل میں 37 پرانے وزرا ہٹا دیئے گئے ہیں اور 24 نئے وزراشامل کیے گئے ہیں۔

نیتن گڈکری ٹرانسپورٹ، جے شنکر پرساد قانون و انصاف اور مختار عباس نقوی اقلیتی امور کے محکمے پر بدستور قائم رہیں گے۔

اسی بارے میں