ملیے دنیا کے سب سے تیز 'انسانی کیلکولیٹر' بھانو سے

  • منیش پانڈے
  • نیوز بیٹ رپورٹر
بھانو

،تصویر کا ذریعہNEELAKANTHA BHANU PRAKASH

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ریاضی میں نیل کنٹھ بھانو کا وہی حال ہے جو دوڑ میں یوسین بولٹ کا۔

محض بیس برس کی عمر میں انھوں نے مینٹل کیلکولیشن ورلڈ چیمپین شپ میں انڈیا کو پہلا گولڈ میڈل دلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریاضی 'دماغ کا ایک بڑا کھیل ہے' اور وہ 'ریاضی سے منسلک خوف' کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔

حیدر آباد کے نیل کنٹھ بھانو ہر وقت نمبروں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور اب وہ دنیا کے سب سے تیز رفتار ہیومن کیلکولیٹر ہیں۔ وہ مینٹل میتھ کا موازنہ سپرنٹنگ سے کرتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ بھانو پیدائشی میتھ جینیئس ہیں۔

ریاضی کے ساتھ ان کے سفر کا آغاز پانچ برس کی عمر میں ہوا تھا۔ ان کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا تھا۔ سر پر چوٹ لگنے کے سبب ایک برس وہ بستر پر رہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا 'میرے والدین کو بتایا گیا تھا کہ میری بینائی، سماعت اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی دوران میں نے اپنے ذہن کو مصروف رکھنے کے لیے ریاضی کی کیلکولیشنز کرنی شروع کیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کے مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھنے والا شخص عام طور پر سوچتا ہے کہ وہ اچھی نوکری لے کر سیٹل ہو جائے یا پھر اپنا کوئی کاروبار شروع کر لے۔ لیکن ریاضی کو مستقبل سے جوڑ کر وہ کم ہی سوچتا ہے۔

بھانو کی ریاضی میں غیر معمولی دلچسپی کے سبب انھوں نے ریاضی میں ڈگری حاصل کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا۔ ان کی ڈگری اب مکمل ہونے والی ہے۔

ذہن کا کھیل

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

بھانو بتاتے ہیں کہ انھوں نے اس کامیابی کے لیے شدید محنت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ محض کرسی میز پر بیٹھ کر پڑھائی کرنے جتنا آسان نہیں ہے۔ بلکہ یہ 'ذہن کا کھیل' ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'میں نے خود کو صرف ایک عمدہ ریاضی دان کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک تیز سوچنے والے شخص کے طور پر بھی تیار کیا ہے۔'

بچپن میں بھانو سکول سے آنے کے بعد چھ سے سات گھنٹوں تک ریاضی کی مشق کیا کرتے تھے۔

لیکن چیمپین شپ جیتنے اور ریکارڈ بنانے کے بعد سے وہ ہر روز اتنی زیادہ منظم محنت نہیں کرتے ہیں۔ اس کے بجائے اب وہ دن بھر عام طور پر پریکٹس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'میں ہر وقت نمبروں کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔'

بھانو نے بتایا کہ 'میں تیز میوزک کے ساتھ مشق کرتا ہوں۔ اس درمیان لوگوں سے بات کرتا ہوں، ان سے ملتا ہوں، کرکٹ بھی کھیلتا ہوں۔ اس سے آپ کے ذہن کی کسی ایک وقت میں ایک ساتھ کئی کام کرنے کے لیے تربیت ہوتی ہے۔'

انھوں نے یہ بھی دکھایا کہ وہ اس انٹرویو کے درمیان بھی پریکٹس جاری رکھے ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا 'اپنے نزدیک سے گزرنے والی ہر ٹٰیکسی کے نمبر کو میں جوڑتا رہوں گا۔ اگر میں کسی سے بات کر رہا ہوں تو گنتا رہوں گا کہ وہ کتنی بار پلکیں جھپکا رہے ہیں۔ یہ سب سن کر عجیب لگ سکتا ہے لیکن اس سے آپ کا ذہن مسلسل چلتا رہتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہNEELAKANTHA BHANU PRAKASH

لوگوں کو متاثر کرنے کی خواہش

صرف ریکارڈز بنانا اور توڑنا بھانو کا مقصد نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں 'ریکارڈ اور کیلکولیشن صرف یہ بتانے کا طریقہ ہے کہ دنیا میں ریاضی کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ ریاضی ہمارے لیے دلچسپ ہونی چاہیے۔ ایسا ہو کہ لوگ کہیں یہ موضوع ہمیں بہت پسند ہے۔'

انھوں نے کہا کہ لوگ ریاضی سے بہت خوف کھاتے ہیں اور ان کا اصل مقصد ہے کہ لوگوں میں ریاضی کا خوف ختم ہو۔

بھانو کے مطابق 'یہ خوف لوگوں کے کریئر کے انتخاب پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ریاضی سے دور بھاگنا چاہتے ہیں۔'

بھانو کو لگتا ہے کہ ریاضی کے ماہرین کو 'سماجی طور پر اناڑی اور کتابی کیڑا' سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر مقابلے میں حصہ لینے کا مطلب ہے کہ ریاضی کے دلچسپ روپ کو پیش کرنا اور اسے فروغ دینا آپ کی زمہ داری ہے۔

بھانو نے اب تک چار عالمی ریکارڈ اور متعدد کامیابیاں اپنے نام کی ہیں۔ ان کے خاندان والے ان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

بھانو نے بتایا 'جب میں نے پہلا مقابلہ جیتا تھا تو میرے انکل نے کہا تھا کہ مجھے اتنا تیز بننا چاہیے جتنا آج تک کوئی نہیں ہو سکا۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ میں ایک دن سب سے تیز ہیومن کیلکولیٹر بن جاوٴں گا۔'