ممبئی حملوں کے مقدمے کا آغاز

ممبئی حملے
Image caption ممبئی حملوں میں ہوٹلوں اور ریلوے سٹیشن سمیت یہودیوں کی عبادتگاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا

ممبئی حملوں کا مقدمہ نو مارچ یعنی پیر سے آرتھر روڈ پر واقع سینٹرل جیل میں بنائی گئی مخصوص عدالت میں شروع ہو گا۔

اس لیے ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچے ملزم اجمل قصاب کو آرتھر روڈ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حفاظت مقامی پولیس اور دیگر حفاظتی دستوں کے علاوہ ہند تبت سرحدی پولیس کے خصوصی تربیت یافتہ کمانڈوز کریں گے۔

ریاستی وزیر داخلہ جینت پاٹل نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ چونکہ اجمل قصاب کئی شدت پسند تنظیموں کے نشانے پر ہے اس لیے اس کی حفاظت کے لیے انڈو تبت بارڈر پولیس کے کمانڈوز روانہ کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق اجمل قصاب کو جیل کے خصوصی 'انڈا سیل‘ میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت وہاں چوبیس گھنٹے پولیس کا زبردست پہرہ ہے۔ پولیس اس بات کی کوشش کرتی ہے کہ وہاں قید کوئی بھی ملزم اجمل کی جھلک تک نہ دیکھ سکے۔

سینٹرل جیل میں زیر سماعت قیدیوں کو رکھا جاتا ہے اور اس وقت جیل میں مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن گینگ کے درجنوں ملزمان قید ہیں۔ ابو سالم بھی اسی جیل میں قید ہے۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سیل سے عدالت کے کمرے تک ایک سرنگ بنائی جا رہی ہے تاکہ اجمل کو کھلے آسمان میں لانے کے بجائے اسی سرنگ سے عدالت کے کمرے تک لایا جا سکے۔

لیکن ممبئی کرائم برانچ چیف جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا نے سرنگ بنائے جانے کی بات سے انکار کر دیا۔البتہ ماریا نے اس بات کی تصدیق کی کہ کیس کی سماعت نو مارچ سے شروع ہو گی۔

ممبئی حملوں کی تفتیشی ایجنسی ممبئی کرائم برانچ نے گیارہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل فرد جرم پچیس فروری کو عدالت کے سامنے پیش کر دی تھی۔اس کیس کی سماعت خصوصی نامزد جج ایم ایل تہیلیانی اور حکومت کی جانب سے مقرر خصوصی وکیل اجول نکم اس کیس کی پیروی کریں گے۔

ملزم اجمل قصاب کے لیے ابھی تک وکیل مقرر نہیں کیا جا سکا ہے۔اجمل نے اپنی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو خط لکھ کر وکیل نامزد کرنے کی گزارش کی تھی لیکن ابھی ان کے جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

جوائنٹ پولیس کمشنر ماریا کا کہنا ہے کہ اجمل کے کیس کی پیروی کا فیصلہ جج کے ہاتھوں میں ہے۔اب تک ممبئی سے ایڈوکیٹ کے بی این لام ، دہلی سے ایک اور کلکتہ سے دو وکلاء نے ممبئی پولیس کو اپنے وکالت نامے دیے ہیں۔

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسندانہ حملے ہوئے تھے۔ پولیس کی فرد جرم کے مطابق اس میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور تین سو چار زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے ان حملوں کے لیے لشکر طیبہ نامی تنظیم کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان حملوں کی مبینہ سازش پاکستان میں رچی گئی تھی۔پولیس نے پینتیس افراد کو مطلوب قرار دیا ہے اور اس کا دعوٰی ہے کہ یہ سب پاکستان میں روپوش ہیں۔

اسی بارے میں