فنِ خطاطی سے فنِ کمپیوٹر تک

 نسخ کشش
Image caption قرآن شریف کا ہند و پاک نسخ کشش

ممبئی کی ایک کمپنی نے ایک ایسا سافٹ ویئرتیار کیا ہے جس سے نہ صرف قرآن شریف کی خطاطی میں کمپیوٹر پر ہی کشش لائی جا سکتی ہے بلکہ قرآن کو آپ اپنی مرضی کے ترجمے کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہے۔

یہ پروگرام ایکسیس سافٹ میڈیا نے تیار کیا ہے۔ اس کمپنی کے مالک سید منظر نے اردو کے پہلے کمپیوٹر سافٹ ویئر ’اِن پیچ‘ بنانے کے علاوہ لاہوری نستعلیق اور دیگر چالیس غیر نستعلیق خطوں کو بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایک کاتب ہی تحریر میں کشش لا سکتا ہے لیکن اب انہوں نے جو سافٹ ویئر بنایا ہے اس سے کوئی بھی شخص حروف کی خطاطی کا اسلوب تبدیل کر سکتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پرورگام مدارس اور قرآن کی اشاعت کے اداروں کے لیے مفید ہوگا۔ سید منظر کے مطابق انہوں نے اس کی قیمت بھی کم رکھنے کی کوشش کی ہے اور اس کی بھارت میں قیمت صرف تین ہزار روپے ہوگی۔ اس پروگرام کی ٹیسٹنگ جاری ہے اور اس کو اپریل کے پہلے ہفتے میں لانچ کیا جا رہا ہے۔

ایکسیس سافٹ میڈیا کو اس پروگرام کو بنانے میں ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ لگا ہے۔

سید منظر کے مطابق انہوں نے مالیگاؤں کے نوجوان عارف انجم انصاری اور سید احمد کے ساتھ مل کر ڈیڑھ سال کے عرصہ میں قرآن کو پورا لوڈ کر لیا ہے۔ ڈیٹا بیس میں ہر مسلک کے عالم جیسے احمد رضا خان ، فتح محمد جالندھری، مولانا اشرف علی تھانوی، ڈاکٹر طاہرالقادری، ذیشان حیدر جوادی اور انگریزی میں عبداللہ یوسف علی کے تراجم شامل کیے گئے ہیں۔

Image caption کیا فنِ کمپیوٹر فن خطاطی کو ختم کر دے گا؟

تو کیا فن کمپیوٹر نے فن خطاطی کو آخر مات دے دی ہے؟ پہلے اخبارات، پھر کتابیں کمپیوٹر پر شائع ہونے لگیں اور اب قرآن شریف کا ہند و پاک نسخ کشش کے ساتھ ورڈ کی فائل میں قدم رکھنا اس خدشے کو جنم دے رہا ہے کہ اب کاتبین کو اپنی قلم اور سیاہی کا ساتھ چھوڑنا ہو گا۔ یہ سوال اس وقت سے درپیش ہے جب سے کمپیوٹر نے ورڈ کی فائل بنائی اور پھر ان پیچ وجود میں آیا۔ دنیا کی ہر زبان کے اخبارات میں قلم اور سیاہی کا دور تھا۔ کاتب خبروں کو لکھتے آخری وقت میں خبروں میں تبدیلی ایک ہنگامہ سا رہتا تھا اور کاتب صحافیوں سے بالاتر ہوتے تھے کیونکہ اگر وہ لکھنے سے انکار کرتے تو خبریں شائع کیسے ہوتیں۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے کمپیوٹر نے کاتبوں کی بالا دستی ختم کر دی۔ وہ کام جو گھنٹوں میں ہوتا تھا وہ منٹوں میں ہونے لگا۔ اخبارات کے بعد جب کتابیں بھی کمپیوٹر پر لکھی جانے لگیں تو کاتبوں کو اپنی روزی روٹی خطرے میں نظر آئی جس کے بعد انہوں نے قران لکھنے کا کام شروع کر دیا۔ وہ ایسی کئی دعاؤں کی کتابیں بھی لکھنے لگے جس میں قرانی آیات شامل ہوتی ہیں۔

ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں ہند پاک نسخ کافی مقبول ہے اور اسی خط میں قرآن شریف لکھا جاتا رہا ہے۔ عام قاری کے لیے تیرہ سطری قرآن اور حافظ قرآن اور دیگر عالم کے لیے پندرہ یا اٹھارہ سطری قران لکھا جاتا ہے۔

Image caption اب ورڈ کے صفحے میں ہی خطاطی میں کشش لائی جا سکتی ہے

عام طور پر ایک قرآن لکھنے میں کم سے کم ڈھائی سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور اسے لکھنے کا ہدیہ پانچ سے پندرہ لاکھ روپے تک دیا جاتا ہے۔ ایک کاتب غیاث الدین مظاہری جو پہلے اخبار میں کتابت کیا کرتے تھے اب قرآن کی کتابت میں مشغول ہیں۔ انہوں نے تیرہ سطری قرآن مکمل کر لیا ہے اور اب پندرہ اور اٹھارہ سطری قرآن کی کتابت کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انہیں قرآن کی کتابت میں تین سال کا عرصہ لگا کیونکہ ایک اچھے سے اچھا مشاق کاتب بھی روزانہ ایک یا ڈیڑھ صفحہ سے زیادہ نہیں لکھ سکتا ہے۔ اس لیے اگر یہ سافٹ ویئر بازار میں آگیا تو ان جیسے کئی کاتبوں کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ کوئی بھی کمپنی لاکھوں روپیہ دینے کے بجائے چند ہزار کا سافٹ ویئر خرید کر قرآن شائع کرا لے گی۔

غیاث الدین کہتے ہیں کہ خطاطی کا فن کمپیوٹر کے دماغ میں نہیں بلکہ ایک ماہر مشاق کاتب کے ذہن اور اس کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کاتبوں نے اپنے خطاطی کے ہنر کا استعمال قرآن کی کتابت میں بھی کیا۔ الفی قرآن یعنی قرآن کا ہر صفحہ الف سے شروع ہوتا ہے جسے چند برس قبل کاتب نورالدین آزاد نے ترتیب دیا اور کاتب باقی بن جان محمد نے لکھا۔ غیاث کہتے ہیں کہ فن خطاطی کے نادر و نایاب نسخے حیدر آباد کے سالار جنگ میوزیم میں موجود ہیں جن کا مقابلہ کوئی کمپیوٹر نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن سید منظر کمپیوٹر کے دفاع میں کہتے ہیں کہ آج کے اس دور میں لوگ کم خرچ اور جلدی سب کچھ پانا چاہتے ہیں اور کمپیوٹر اس کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔

فن خطاطی سے فن کمپیوٹر تک کا یہ سفر جب شروع ہوا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ قلم کا جادو کبھی ختم ہوگا۔ اخبارات، کتابوں کے علاوہ تغرے اتنے خوشنما انداز میں لکھے جاتے تھے کہ کاتبوں کی مشاقی پر عقل حیران رہ جاتی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان میں کتابت کے کئی استاد اس فن کے ماہر رہ چکے ہیں۔ ہندوستان میں فیض مجدد کا لاہوری خط دنیا بھر میں مقبول تھا۔ تقریباً چالیس خط رائج ہو چکے ہیں جن میں اسلوب، اسیر، نستعلیق، محقق، خط رِکاں ان میں سے چند ہیں۔اردو اخبارات میں ایک دور میں کاتبوں کا طوطی بولتا تھا۔ درجنوں کاتب اخبار کے دفتر میں قلم اور سیاہی کے ساتھ پورا پورا اخبار لکھ ڈالتے۔

کتابت فن کے ساتھ ہی روزی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ لیکن کمپیوٹر کی آمد نے سب کچھ رفتہ رفتہ ختم کر دیا۔ کاتب اسد کہتے ہیں کہ ان کی خطاطی کے فن کے چاہنے والے اب کہاں بچے ہیں اس لیے انہیں اب روزی کے لیے ہاتھ پیر مارنا پڑ رہا ہے۔ کمپیوٹر نے کتابت کا ذریعہ چھین لیا لیکن خطاطی کا ہنر نہیں چھین سکتا اور فن زندہ رہے گا وہ کبھی نہیں مر سکتا۔ کاتب غیاث بھی انہی کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فن خطاطی دنیا سے کبھی ختم نہیں ہو گا۔