اجمل کی وکیل کےگھر پر حملہ

اجمل امیر قصاب
Image caption وکیل نا ملنے کے سبب اجمل کے مقدمے کی سماعت آگے نہیں بڑھ سکی ہے

ممبئی حملوں کے واحد ملزم اجمل قصاب کی وکیل انجلی واگھمارے کے گھر پر حملہ کرنے کے الزام میں ممبئی کی ورلی پولیس نے نو افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس حملے کے بعد انجلی نے اجمل کا وکیل بننے سے معذرت کر لی ہے۔

پولیس کے مطابق رات تقریباً ایک بجے کے قریب دو سو سے ڈھائی سو افراد انجلی کے گھر کے باہر جمع ہوگئے اور انہوں نے ان کے گھر پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ انجلی اجمل قصاب کے کیس کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں۔

ورلی کے سینئر پولیس انسپکٹر بھرت ورلیکر کے مطابق حملہ آوروں کے خلاف فساد برپا کرنے، غیر قانونی اجتماعات جیسے الزامات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

ایڈوکیٹ انجلی اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر کی بیوی ہیں اور وہ پولیس کوارٹرز میں رہتی ہیں۔ رات ایک بجے کے قریب ہجوم ان کے گھر کے باہر جمع ہوا اور انہوں نے انجلی کے خلاف نعرے لگانےشروع کر دیے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق شرپسندوں نے انجلی سے اس کیس سے علیحدہ ہونے کے لیے ایک کاغذ پر دستخط بھی لے لیے لیکن ورلی کی پولیس نے اس کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

گزشتہ روز ہی جج ایم ایل تہیلیانی نے عدالت میں لیگل ایڈ پینل کی وکیل انجلی واگھمارے کو اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے نامزد کیا تھا۔اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے جج نے سترہ وکلاء کا ایک پینل بنایا تھاجس میں انجلی کا نام بھی تھا گزشتہ روز ان میں سے سوائے انجلی کے کوئی بھی وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ عدالت نے انجلی کو اجمل کا وکیل مقرر کر دیا تھا۔

گزشتہ روز انجلی نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ انہیں کسی بھی طرح کے پولیس تحفظ کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں عوامی احتجاج کا ڈر نہیں ہے، انہوں نے کہا تھا کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھیں گے کہ انہوں نے کن حالات میں اجمل کے کیس کی پیروی کرنا منظور کیا تھا۔

انجلی نے اجمل کیس کی پیروی کے لیے اپنے فیصلے کے جواز میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ انہوں نے یہ کیس ایک ہندستانی ہونے کے ناطے لیا ہے اور یہ کہ دنیا کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ کسی بھی ملزم کے ساتھ نا انصافی نہیں کی جانی چاہئے۔ انجلی نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا تھا کہ ’ویٹ اینڈ واچ‘۔

انجلی کے مطابق یہ کیس لینے سے قبل انہوں نے اپنےگھر والوں سے مشورہ کیا تھا اور ان کی رضامندی کے بعد ہی انہوں نے اس کیس کی پیروی کرنا منظور کیا تھا۔

ماضی میں اس سے قبل بھی اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے ایڈوکیٹ اشوک سروگی اور کے بی این لام کے گھر پر حملہ ہو چکا ہے۔ وکیل سروگی نے حملے کے بعد اپنا ارادہ بدل دیا تھا۔

لیگل ایڈ پینل کے ایک وکیل اشوک موٹا کو سب سے پہلے حکومت نے اجمل کےکیس کی پیروی کے لیے مقرر کیا تھا لیکن انہوں نے یہ کیس اخلاقی بنیادوں پر لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق انجلی نے اجمل کے کیس کی پیروی سے انکار کر دیا ہے لیکن اس کی تصدیق اب کیس کی آئندہ سماعت یعنی چھ اپریل کو عدالت میں ہو سکے گی۔

اسی بارے میں