اجمل کی وکیل کو زیڈ سکیورٹی

انجلی واگھ مارے
Image caption پولیس نے انجلی کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کا یقین دلایا تھا

ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب کی وکیل انجلی واگھمارے بدھ کے روز خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی کے سامنے پیش ہوئیں اور عدالت کو بتایا کہ وہ اجمل کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل منگل کے ایڈوکیٹ انجلی واگھمارے نے اپنے گھر پر شیوسینکوں کے حملے کے بعد عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں اس مقدمہ کی پیروی کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ایک دن کا وقت دیا جائے۔

دریں اثناء وکیل واگھمارے کو زیڈ سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اب تک صرف ایڈوکیٹ اجول نکم ایسے وکیل تھیں جنہیں سن ترانوے بم دھماکوں کے کیس کی پیروی کے لیے زیڈ سیکوریٹی دی گئی تھی۔

زیڈ سکیورٹی فراہم کرنے والی ٹیم تئیس پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہوتی ہے جن میں کانسٹیبل سے لیکر انسپکٹر تک شامل ہوتے ہیں اور یہ تحفظ مقدمہ ختم ہونے تک دن رات فراہم کیا جاتا ہے۔

ایڈوکیٹ انجلی نے عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ انہوں نے اس حملے کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ اگر پولیس انہیں مناسب تحفظ فراہم کرتی ہے تب ہی وہ اس کیس کی پیروی کریں گی۔

انہوں نے گزشتہ روز جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا سے ملاقات کی تھی اور انہیں پوری صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔ مسٹر ماریا نے انہیں پولیس تحفظ فراہم کرانے کا یقین دلایا تھا۔

بدھ کو ایڈوکیٹ انجلی پولیس سکیورٹی کے ساتھ دوپہر ایک بجے کے قریب عدالت پہنچیں جہاں انہوں نے اپنا موقف پیش کیا کہ وہ اجمل کا کیس لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کے علاوہ عدالت نے ان کے ماتحت ایک اور وکیل کے پی پوار کو بھی نامزد کیا ہے۔ پوار عدالت کے فیصلہ کے بعد سے عدالت میں حاضر نہیں ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایڈوکیٹ پوار کو بھی پولیس سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

تیس مارچ کو جب عدالت نے لیگل ایڈ پینل کی وکیل انجلی واگھمارے کو اجمل قصاب کا وکیل مقرر کیا تھا تو اسی رات ان کے گھر پر ہندتوا نظریات کی علاقائی سیاسی جماعت شیوسینا کے تقریباً تین سو کارکنوں نے حملہ کر دیا تھا۔ انہوں نے وکیل انجلی کو دھمکی دینے کے علاوہ ان سے ایک کاغذ پر معافی نامہ لکھوا کر انہیں جبری طور پر اس کیس سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

اس گروپ میں ایکناتھ اومبلے بھی شامل تھے۔ایکناتھ اومبلے تکارام کے بھائی ہیں، تکارام جنہوں نے اجمل کو زندہ پکڑنے میں اپنی جان گنوا دی تھی۔ انجلی کے گھر پر حملے کے الزام میں پولیس نے نو افراد کو گرفتار کیا تھا۔

ایڈوکیٹ انجلی پولیس کالونی میں رہتی ہیں اور تکارام کے علاوہ دیگر افراد کا یہ کہنا تھا کہ ایک پولیس اہلکار کی بیوی کس طرح اجمل جیسے ملزم کا دفاع کر سکتی ہے۔ ایڈوکیٹ انجلی کے شوہر اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر ہیں۔

تاہم ایڈوکیٹ انجلی نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ اگر اجمل کو کوئی وکیل مہیا نہیں کرایا جاتا ہے تو اس میں اجمل کا ہی فائدہ ہے۔ وہ عدالت کے فیصلہ کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں اور اس طرح ان کے بری ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

ان کے شوہر رمیش واگھمارے نے اپنی بیوی کے دفاع میں کہا تھا کہ لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ان کی بیوی نے یہ مقدمہ حکومت اور عدالت کے فیصلہ کے بعد لیا ہے۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے ایڈوکیٹ انجلی کے گھر پر حملہ کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر اجمل کو وکیل فراہم نہیں کیا گیا تو دنیا بھر میں ایک غلط پیغام جائے گا کہ ہندوستان میں قانون کی بالا دستی نہیں ہے اور ملزمان کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ایڈوکیٹ انجلی کے علاوہ اب تک جس وکیل نے بھی اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے حامی بھری تھی شیوسینکوں نے ان کے گھروں پر حملے کیے اور انہیں دھمکایا بھی گیا تھا۔

وکیل اشوک سروگی نے اسی بنیاد پر کیس لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے وکیل کے بی این لام کی گزارش کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ لیگل ایڈ پینل میں شامل نہیں ہیں۔ لیگل ایڈ پینل میں شامل وکلاء کو ایک کیس لڑنے کی فیس محض نو سو روپے دی جاتی ہے مگر ایڈوکیٹ انجلی کو اس مقدمہ کی پیروی کے لیے اٹھارہ سو روپے دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں