ممبئی حملے کیس، سماعت پندرہ اپریل کو

تاج ہوٹل
Image caption گذشتہ برس نومبر میں ممبئی کے تاج ہوٹل پر حملہ ہوا تھا

گزشتہ برس ممبئی پر ہوئے شدت پسندانہ حملوں کے مقدمے کی سماعت ایک بار پھر پندرہ اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

کیس کی سماعت کے لیے سینٹرل آرتھر روڈ جیل میں بم پروف کمرہ اور جیل کی سلاخوں سے عدالت کے کمرے تک بنائے جانے والے بم پروف راستے کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم پندرہ اپریل سے قبل اس کام کے مکمل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

خصوصی نامزد جج ایم ایل تہیلیانی نے ایک بار پھر ویڈیو رابطہ کے ذریعہ ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب اور دو ہندوستانی ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین سے بات کی۔

اجمل نے جج سے اپنے وکلاء سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔انجلی واگھمارے اور کے پی پوار لیگل ایڈ پینل کے وکلاء ہیں جو قصاب کا دفاع کریں گے۔

جج تہیلیانی نے اجمل سے سوال کیا کہ کیا فرد جرم کی کاپی ان کے پاس ہے۔ اجمل کے ہاں کہنے پر جج نے جیل حکام سے کہا کہ وہ فرد جرم کی کاپی جو اجمل کے پاس ہے اسے ان کے وکلاء کو سونپ دیں تاکہ وہ کیس کی تیاری کر سکیں۔

اجمل سے ان کے وکلاء عدالت کی حدود میں ہی پندرہ اپریل کو ملاقات کر سکیں گے۔

اس دوران ملزم فہیم انصاری نے جن کے بارے میں پولیس کا دعوی ہے کہ وہ لشکر طیبہ کا مبینہ کمانڈر ہے، عدالت میں جج سے کہا کہ پولیس ان پر اور ان کے گھر والوں پر اس بات کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ نجی وکیل کے بجائے عدالت سے لیگل ایڈ پینل کے وکیل کا مطالبہ کریں۔

فہیم انصاری کی طرف سے وکیل اعجاز نقوی عدالت میں پیروی کر چکے ہیں۔ اعجاز نقوی اس وقت ملزم صباح الدین شیخ کے وکیل ہیں۔ عدالت نے انہیں اپنے موکل صباح الدین سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔

پندرہ اپریل کو سرکاری وکیل اجول نکم خصوصی عدالت میں ممبئی حملوں کا کیس عدالت کے سامنے رکھیں گے۔ وہ اجمل قصاب اور دیگر ملزماں فہیم انصاری اور صباح الدین کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائیں گے۔

Image caption پولیس دس حملہ آوروں میں سے ایک محمد اجمل قصاب کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی تھی

پولیس نے گیارہ ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل اپنی فرد جرم میں پینتالیس افراد کے خلاف ملک کےخلاف جنگ چھیڑنے، قتل ، اقدام قتل ، دو فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے، اسلحہ قوانین، دھماکہ خیز مواد قوانین اور کسٹم قوانین کے تحت معاملات درج کیے ہیں۔

کیس کی سماعت شروع ہونے سے قبل جیل اور اس کے اطراف پولیس کے پہرے میں زبردست اضافہ کر دیا گیا تھا۔ مقامی پولیس عملہ کے علاوہ ہند تبتی سرحدی فورس کے جوان تعنیات کیے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اجمل قصاب کی سیکیورٹی کے لیے ’ایکس پلوزیو اسکینر‘ وین جیل سے کچھ دوری پر کھڑی کی جائے گی۔ یہ وین سکینر کے ذریعہ تقریباً سو میٹر کے اندر سکین کے ذریعہ بم کا پتہ لگا سکتی ہے۔

تقریباً چھ کروڑ روپے مالیت کی یہ وین پوری طرح کمپیوٹرائزڈ ہے۔ امریکہ اور جرمنی تیکنیک سے بنی یہ وین مقدمہ کی سماعت کے دوران جیل کے اطراف پارک کی جائے گی۔

ممبئی پر گزشتہ برس چھبیس نومبر کو شدت پسندانہ حملے ہوئے تھے جن میں پولیس کے مطابق ایک سو ساٹھ سے زائد افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پولیس دس حملہ آوروں میں سے ایک محمد اجمل قصاب کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔اجمل قصاب جس نے اپنےپاکستانی ہونے کا اعتراف کر لیا ہے اس وقت پولیس کے سخت پہرے میں آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں۔

اسی بارے میں