صلاح الدین کا گاؤں، سوچ بدل رہی ہے

سید صلاح الدین
Image caption سید صلاح الدین کے آبائی گاؤں سوئیبُگ میں پچھلے سال کے اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح پچاس فی صد سے زائد رہی

کشمیری شدت پسندوں کی سب سے بڑی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے 'سپریم کمانڈر‘ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کے آبائی گاؤں سوئیبُگ میں پچھلے سال کے اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح پچاس فی صد سے زائد رہی۔

سرینگر سے محض بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وسطی ضلع بڈگام کے اس انتہائی پسماندہ قصبہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اُنیس سو چھیانوے میں شروع ہوئے سیاسی عمل کے بعد دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں پہلی بار ووٹنگ میں حصہ لیا۔

گو کہ لوگوں کو اب تیس اپریل سے شروع ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا انتظار ہے، اور وہ ووٹ ڈالنا بھی چاہتے ہیں، لیکن بے روزگاری، پسماندگی اور بنیادی ضروریات کے فقدان کے باعث عام لوگوں میں الیکشن سے متعلق بددلی پائی جاتی ہے۔

سوئیبُگ کے ایک دوا فروش تنویر احمد کہتے ہیں کہ اُنیس سو چھیانوے اور دو ہزار دو کے انتخابات میں یہاں مکمل بائیکاٹ ہوا۔ اس عرصہ میں ہمیں صرف اس بات کی سزا دی جاتی رہی کہ صلاح الدین اسی قصبہ کا رہنے والا ہے اور یہاں بہت مقبول ہے۔ لیکن ہم نے پچھلے سال یہ سمجھ کر ووٹ ڈالے کہ بیس سال سے ہمارے ساتھ جو انتقامی رویہ روا رکھا جا رہا ہے، وہ ختم ہوجائےگا۔اب تین ماہ سے حکومت چل رہی ہے، کسی ایک بڑے افسر یا وزیر نے ہمارا حال تک نہیں پوچھا۔

Image caption غربت کی وجہ سے پڑھائی ترک کرچکی، اکیس سالہ طاہرہ

سوئیبُگ کے باشندوں کی سیاسی سوچ میں نمایاں تبدیلی آچکی ہے۔ وہ ایک ساتھ ووٹنگ کی افادیت پر دلائل بھی دیتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ آزادی چاہتے ہیں اور صلاح الدین کو اپنا رُوحانی لیڈر مانتے ہیں۔

نوجوانوں کی ٹولی میں موجود طالب علم معراج الدین کہتے ہیں کہ صلاح الدین ہمارا لیڈر ہے۔ ہم اس کے لیے جان بھی دینگے، لیکن ووٹ ڈالنا ضروری ہے۔ ووٹ کو ضائع کرنا گناہ ہے۔

دیگر نوجوانوں نے بھی معراج کی ہاں میں ہاں ملائی۔

مرسنگھ کالج میں سیاست کی ڈگری حاصل کررہے سوئیبگ کے ہی نثار احمد بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ علاقہ میں پچھلے بیس سال میں اس قدر ظلم ہوا ہے کہ اب لوگ زندہ رہنے کے لیے بھی ووٹ ڈالتے ہیں۔ نثار کہتے ہیں میں وانی محلہ میں رہتا ہوں۔ وہاں صرف پندرہ گھر ہیں۔ ان پندرہ گھروں میں چار لڑکے ہلاک کئے گئے۔

Image caption لوگوں کو اب تیس اپریل سے شروع ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا انتظار ہے

غربت کی وجہ سے پڑھائی ترک کرچکی، اکیس سالہ طاہرہ کہتی ہیں کہ میں نے پچھلے سال بھی ووٹ ڈالا ، اس بار بھی ووٹ ڈالوں گی۔ لیکن جس کو ہم چُنتےہیں وہ پھر غائب ہوجاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان جاکر نیا پارلیمنٹ ممبر اُن کو (حکومت ہند کو) یہ بتائے کہ ہم لوگ کیسی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مقامی نوجوان دانشور اور تاریخ کے محقق محمد زُبیرالدین نے سوئیبُگ کے سماجی، ثقافتی اور اقتصادی پہلوؤں پر تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'دس ہزار نفوس پر مشتمل سوئیبُگ میں تعلیم کی شرح پچاس فی صد سے زائد ہے۔ یہاں ایک سو سے زائد نوجوانوں نے پوسٹ گریجویشن مکمل کرلی ہے جبکہ گریجویٹ نوجوانوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ پچاس پوسٹ گریجویٹ نوجوان بے روزگار ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے، پچھلے بائیس سال سے سڑک خستہ حال ہے، پینے کا پانی آلودہ ہے، زمینیں بنجر ہیں۔‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوئیبُگ میں پچاس سے ستر ہزار کنال کی زرعی زمین سیلاب زدہ ہے۔ پانی کے سالہاسال تک زمینوں میں رُکے رہنے کی وجہ سے آلودگی اور پینے کے پانی کی قلّت سے باشندوں کی صحت پر بھی بُرا اثر پڑ رہا ہے۔

طالب علم معراج الدین کا کہنا ہے علاقہ میں ایک ہزار کنال پر مشتمل زمین کی پٹھار نمابالائی پٹی میں سے قریب سات سو کنال پر فوج قابض ہے۔ معراج کہتے ہیں زمین پر پہلے فوج نے قبضہ کرلیا، بعد میں زمین کے مالکان اور فوج کے درمیان کرایہ یا معاوضہ پر مذاکرات شروع ہوئے جو اب بھی جاری ہیں۔ زمین تو گئی ، اب جو کچھ بچا ہے اس میں بھی سکون کی زندگی ممکن نہیں۔ زمینوں میں پانی بھرا پڑا ہے، اور سڑکیں خستہ ہیں۔

لوگوں کی مجموعی رائے یہ کہ جب باشندے ووٹ ڈالتے ہیں، اور ووٹنگ کے بعد ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی تو وہ اس عمل سے بے زار ہوجاتے ہیں۔

Image caption معراج الدین کا کہنا ہے علاقہ میں ایک ہزار کنال پر مشتمل زمین کی پٹھار نمابالائی پٹی میں سے قریب سات سو کنال پر فوج قابض ہے۔

دوافروش تنویر احمد کو خدشہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں پچھلے سال کے اسمبلی الیکشن کی طرز کا جوش و خروش نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں جب صلاح الدین کے گاؤں میں پچاس فی صد لوگوں نے ووٹ ڈالے تو حکومت کو اس تبدیلی پر غور کرنا چاہیئے تھا۔ لیکن شاید حکومت بھی عوام میں علیحدگی پسندانہ جذبات کے فروغ پر خوش ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر سوئٰبُگ کو صلاح الدین کا آبائی گاؤں قرار دے کر ہم سے انتقام کیوں لیا جارہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سوئیبُگ کے ایک مقبول عام صوفی گھرانے سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف شاہ نے مسلم متحدہ محاذ نامی علیحدگی پسند اتحاد کے ٹکٹ پر امیراکدل حلقے سے اُنیس سو ستاسی میں الیکشن لڑا۔ الیکشن میں بھاری دھاندلیوں کے بعد یوسف شاہ پاکستان چلے گئے اور سید صلاح الدین کے کوڈ نام سے حزب المجاہدین کے سربراہ بن گئے۔

دانشور محمد زُبیرالدین اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ الیکشن دھاندلیوں نے یوسف شاہ کو صلاح الدین بنایا تھا۔ یوسف صاحب کے خلاف ان دھاندلیوں کے بعد سوئیبُگ والوں کو الیکشن عمل سے بھروسہ اُٹھ گیا تھا، لیکن اگر حکومت نے پرانی ہی روش اپنائی تو نہ جانے کتنے یوسف شاہ دوبارہ صلاح الدین بن جائینگے۔

اسی بارے میں