مسلمان آگے بڑھنے کی کوشش کریں:اظہرالدین

اظہرالدین
Image caption اظہرالدین کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی ایک سیکیولر پارٹی ہے اس لیے وہ کانگریس کے ساتھ ہیں

کرکٹ کے میدان میں ایک لمبے عرصے تک کامیاب اننگز کھیلنے کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بلے باز اظہرالدین نے سیاست میں قدم رکھا ہے اور وہ کانگریس کے ٹکٹ پر اترپردیش کی مرآد آباد لوک سبھا نشست سے انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ اظہرالدین سے ان کے سیاسی حلقے میں بی بی سی اردو کے سہیل حلیم نے ایک خصوصی بات چیت کی۔

اظہرالدین کا انٹرویو، آڈیو

س: اظہر سب سے پہلے یہ بتائیں کہ سیاست کیوں؟

ج: کرکٹ ایک میرا پروفیشن تھا۔تو میں نے سوچا کچھ ہٹ کر کیا جائے۔ دو تین سال سے سوچ رہا تھا کہ پبلک کے لیے کچھ نہ کچھ کروں۔ مجھے پتہ تھا کہ میری مقبولیت کی وجہہ سے پبلک تک پہنچنا آسان ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ کانگریس پارٹی ایک ایسی پارٹی ہے جو سیکولر ہے اور جس نے اپنی سوچ صحیح طریقے سے امپلیمنٹ کی ہے۔ کانگریس نے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔ میں راجیو گاندھی کا بڑا فین ہوں۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی لیڈر شپ بہت اچھی ہے۔ س:آپ نے کانگریس کو اپروچ کیا یا کانگریس نے آپ کو؟

ج: نہیں دونوں طرف سے کوشش جاری تھی۔

س: آپ نے کہا کہ کانگریس نے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن بابری مسجد جو منہدم ہوئی تھی اس تک مرکز میں کانگریس تھی؟

ج: جو ہوا وہ اچھا نہیں ہے۔پرانی باتوں پر اگر بات کرتے رہیں گے تو اس کا کوئی انت نہیں ہے۔ اگر پرانی باتیں کرتے ہیں تو ترقی نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کو آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جو ہوا وہ بدقسمتی تھی۔

س: آندھرا پردیش کیوں نہیں اترپردیش کیوں اور اترپردیش میں مرآداباد کیوں؟

ج: دیکھئے میری دلچسپی کیمپننگ میں تھی۔ بيگم صاحبہ اور ریٹا بھگوانہ نے سونیا گاندھی سے یہ بات کہی اور انہوں نے کہا کہ اگر مرادآباد سے الیکشن لڑ سکتے ہیں تو لڑیں۔ پارٹی ہائی کمانڈ کی بات تو ماننی پڑتی ہے اور میں نے یہی کیا دیکھئے اب کیا ہوتا ہے۔

س: میں نے مرادآباد میں بہت لوگوں سے بات کی ہے اور آپ کے اوپر جو ' آوٹ سائڈر' کا ٹیگ ہے کہ آپ باہر کے ہیں۔ یہاں سے حیدرآباد بہت دور ہے اس کا کتنا مسئلہ ہے؟

ج: سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بھی آؤٹ سائڈر کہہ سکتے ہیں وہ بھی دلی میں رہتے ہیں۔ بہت سے لیڈر ہیں جو جاکر باہر جاکر لڑتے ہیں۔ اگر آپ انڈیا کے شہری ہیں تو آپ کہیں سے بھی لڑ سکتے ہیں۔ اگر لوگ اس بارے میں سوچ رہیں ہیں تو یہ بہت چھوٹی سوچ ہے۔

س: لیکن مقامی لوگوں کے مقامی مسائل ہوتے ہیں اور اگر وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں تو کہاں جاکر ملیں گے؟

ج: یہیں رہوں گا۔ میں تو کہیں بھاگنے والا نہیں ہوں۔ جب میں کچھ کرتا ہوں تو سو فی صد کرتا ہوں۔ اگر جہاں تک مسائل کا سوال ہے تو باہر والا مسائل کو زیادہ اچھی طرح سے حل کرسکتا ہے۔ یہاں کے آدمی کے لیے تو انکا حل کرنا بہت مشکل ہے۔ میری یہی کوشش رہے گی کہ میں ترقی کا کام کروں۔ میری طرف سے کسی کو فائدہ ہوجائے تو اچھا ہے۔ میں اگر انہیں انسپائر کر سکوں، اچھی تعلیم میں مدد کرسکوں، صحت کی سہولیات دے سکوں تو اچھا ہے کیونکہ نوجوان لوگوں کے لیے اچھے منصوبے بنائے جائیں اور زندگی میں کچھ کرنی میں مدد انہيں یہیں ملے تو اچھا ہے۔

س: برابر کے حلقے رامپور سے جے پردا ہیں جو آپکے علاقے سے ہیں۔ آپکا ان سے مقابلہ ہے آپسی مفادات کا کوئی ٹکراؤ تو نہیں ہے؟

ج: میں نہیں سوچتا کہ کوئی کانفلکٹ آف انٹریسٹ ہے۔ میں اپنی پارٹی میں ہوں اور پوری جان لگادوں گا کہ میری پارٹی یہاں پر اچھا کرے۔

س: اچھا کانگریس اترپردیش میں بہت لمبے وقت سے بری حالت میں ہے اور یہاں کانگرس کے نام پر ووٹ دینے والے مشکل سے ہی ملتے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے جتنے لوگ آرہے ہیں میٹنگ میں وہ ایک اسٹار کوالٹی ہوتی ہے کہ لوگ اظہرالدین کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جب وہ ووٹ دیگیں تو سماجوادی پارٹی اوربہوجن سماج پارٹی کو ہی دیگیں؟

ج: دیھکئے یہ تو پبلک کے اوپر ہے۔ میں یہیں سوچ کر نہیں چل رہا کہ وہ مجھے ووٹ دیگیں لیکن جتنی عزت اور خیر مقدم انہوں نے میرا کیا ہے اگر 90 فی صد بھی وہ ووٹ میں تبدیل ہوجائے تو ميں سمجھوں گا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں۔ میں بہت الگ طرح کا آدمی ہوں مجھے جو کرنا وہ اہم ہے۔ دوسرے لوگ کیا کررہے ہیں وہ نہیں میرا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ میں یہاں آيا ہوں اور اگر میری وجہہ سے مرادآباد کی ترقی ہوجائے وہ عالمی سطح کا شہر بن جائے۔ یہاں پتیل کا کاروبار ہوتا ہے اگر وہ عالمی سطح پر آجائے۔ یہاں کے لوگوں کے جو مسائل ہیں، بے روزگاری ہے وہ اہم مسائل ہے۔ کسی بھی ریاست یا شہر کو آگے لے جانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر میرا اور یہاں کے لوگوں کا مقصد ایک ہے تو کوئی پریشانی ہونی ہی نہیں چاہیے۔ س: اچھا یہ بتائیں کہ جب کوئی بھی امیدوار انتخاب لڑتا ہے تو اسکی انتخابی حکمت علمی ہوتی ہے آپ نے کیا سوچا ہے کہ اعدادو شمار کس طرح آپکے حق میں ہونگیں؟ کچھ سوچا ہے اس بارے میں؟

ج: میں تو ترقی کے کام کروں گا انشاء اللہ۔ میں تو علاقہ کا کئی بار دورہ کرچکا ہوں اور انکے مسائل حل کروں گا۔

س: میں دو تین گھنٹے سے آپ کے ساتھ ہوں اور میں نے جو بھیڑ آپ کے ساتھ دیکھی ہے وہ سب مسلمان ہیں یہاں آپکے مقابلے پر ایک مسلمان امیدوار ہے تو آپکی حکمت عملی کیا ہے۔ کس کو ٹارگیٹ کررہے ہیں؟

ج: کسی کو ٹارگیٹ کرنے کی بات ہی نہیں۔ میں تو ترقی کے کام کروں گا۔ اگر آپ ٹارگیٹ کریں گے تو آپ ایک ہی جگہ پر بیٹھ جائیں گے۔سب کو ملا کر چلیں گے تو وہ زیادہ صحیح ہے۔ کرکٹ کے میدان پر جب ہم جاتیں تو ایک منصوبے کے ساتھ جاتے ہیں لیکن اگر وہ منصوبہ فیل ہوگیا تو کیا ہوگا سب کچھ سوچ کرچلنا پڑتا ہے۔

س: یہاں سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے امیدورا اور ديگر امیدورا یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے خلا ف میچ فکسنگ کے جو الزامات ہیں وہ اٹھائے جائیں گے؟

ج: اٹھانے کے لیے تو کوئی بھی معاملہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہاں میرے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔ میراکیس بی سی سی آئی کے خلاف ہے۔ میرے خلاف نہ سی بی آئی نہ حکومت کے پاس کوئی کیس ہے۔ میں آزاد ہوں۔

س: بات یہ نہیں ہے کہ آپ آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں لیکن ان سب باتوں کا پرسنالٹی یاکردار پر تو اثر پڑتا ہے؟ ج: میں نہیں سمجھتا کے اثر پڑے گا کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔

س: اچھا پلان بی کیا ہے اگر ہار گئے تو کیا کروگے؟ ج: پھر بھی کام کریں گے۔ جیتنا اور ہارنا تو چلتا ہے رہتا ہے۔ جیتنے اور ہارنے سے کام نہیں رکتا ہے۔

اسی بارے میں