بھوجشالہ: مسجد اور مندر امن میں

Image caption دو ہزار چار میں بی جے پی نے بھوجشالہ مسجد کو انتخابی ایشو بنایا تھا: مقامی لوگ

مدھیہ پردیش کا پارلیمانی حلقہ دھار فرقہ وارانہ فسادات کے لحاظ سے حساس مانا جاتا ہے۔ دو ہزار چار پارلیمانی انتخابات سے پہلے یہاں کئی بار فرقہ وارانہ کشیدگی ہوئی اور کشیدگی کا سبب رہی ہے دھار میں واقع بھوجشالہ کمال مولا مسجد۔

بھوجشالہ کے نام سے مشہور اس عبادت گاہ میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں لیکن گزشتہ عام انتخابات سے پہلے بعض ہندو نظریاتی تنظیمیں جیسے ہندو جاگرن منچ اور بھوجشالہ جاگرن مکتی مورچے نے یہ مہم چلائی تھی کہ یہاں صرف ہندؤں کو عبادت کی اجازت ہونی چاہیے جس کے نتیجے میں شہر میں کئی بار فرقہ وارانہ کشیدگی ہوئی تھی۔

مقامی افراد اور تجزیہ کاروں کے لحاظ سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ووٹ بانٹنے کی نیت سے ان تنظیموں کی حمایت کی تھی اور اسے ایک انتخابی ایشو بنایا تھا۔ لیکن ان انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے دوران بھوجشالہ میں ہندو اور مسلمان آرام سے ایک ساتھ عبادت کررہے ہیں۔

بھوجاشالہ کے اطراف میں پھول مالا بیچنے والی کوثر کا کہنا ہے کہ یہاں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’یہ ہندوؤں کا مندر ہے اس لیے یہاں صرف ہندوؤں کو عبادت کرنے کا حق ہونا چاہیے اس لیے یہ طاقتیں یہاں آپس میں لڑائی کراتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے‘۔

وہیں نفیسہ بیگم کا کہنا ہے کہ ’سیاسی لوگ اپنے مفاد کی وجہ سے لڑائی کراتے ہیں‘۔

بھوجشالہ سے کچھ میٹر دور ایک دوکان کے مالک رام لال کا کہنا ہے کہ بھوجشالہ کی وجہ سے شہر میں کئی بار حالات سنگین ہوئے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ’جب ہندو اور مسلمانوں کو ایک ساتھ عبادت کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے تو کسی سیاسی پارٹی یا کسی تنظیم کو کیا پریشانی ہے۔ ہمیں جھگڑے اور کرفیو نہیں چاہیے۔‘

دھار میں سینیئر وکیل اور سماجی کارکن خالد ناصر کا کہنا ہے کہ ’دھار پارلمیانی حلقہ ایک قبائلی سیٹ ہے اور قبائلی لوگ اپنے آپ کو کانگریس کے قریب پاتے ہیں۔ اس لیے دھار میں زیادہ تر کانگریس ہی جیتتی رہی ہے۔ لیکن دو ہزار چار کے پارلیمانی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت ہوئی تھی۔ اور اس کی جیت کی وجہ یہی تھی کہ اس نے گزشتہ عام انتخابات سے پہلے بھوجشالہ کو ایک بڑا ایشو بنایا جس کی وجہ سے لوگوں نے جذباتی ہوکر اسے ووٹ دیئے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ بھوجشالہ کو ہمیشہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک ایشو بنایا ہے وہ بھی تب تک جب تک وہ یہاں اقتدار میں نہیں آئی۔ ’بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ انتخابات سے پہلے یہاں کی ہندو عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ بھوجشالہ کی جو سروستی کی مورتی انگریز اپنے ساتھ لے گئے تھے وہ اسے واپس لائے گی اور اسی کی بنیاد پر اسے ووٹ ملے تھے۔‘

گزشتہ انتخابات سے پہلے بھوجشالہ کے مسئلے پر جب فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تو ریاست میں کانگریس کی حکومت نے یہ کہا تھا کہ جمعہ کے دن مسلمانوں کو وہاں نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی اور منگل کے دن ہندوؤں کو پوجا کرنے کی۔ یہ روایت تب سے برقرار ہے۔

مسلمانوں کا ماننا ہے کہ بھوجشالہ پر ان کا حق ہے کیونکہ مدھیہ پردیش کے راجا بھوج نے انہیں یہاں سب سے پہلے نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی وہیں ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہ ایک مندر ہے جہاں پر سروستی کی پوجا ہوتی تھی۔ لیکن سروستی کی مورتی انگریز اپنے ساتھ لے گئے تھے جو لندن کے ایک میوزیم میں موجود ہے۔

ہندو جاگرن سماج کمیٹی کے ممبر بھوپال شرما کا کہنا ہے ’بھوجشالہ پر ہندوؤں کا حق ہے اور یہاں مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دے کر ہندو دھرم کو ختم کرنے کی سازش ہے۔‘

Image caption بھوجشالہ پر ہندوؤں کا حق ہے: شرما

ان کا کہنا ہے کہ بھلے ہی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو یہاں نماز کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن بھوجشالہ پر حق ان کا ہی ہے۔

وہیں بھوجشالہ میں جمعہ کے دن نمازیوں کے لیے انتظامات اور بھوجشالہ کے اطراف میں بنی کمال مولا کی درگارہ کے منظمین غلام الدین کا کہنا ہے ’ہندو اور مسلمان بھوجشالہ میں الگ الگ دن میں نماز اور پوجا کرتے ہیں اور وہ اچھی بات ہے لیکن اس بات پر کوئی اتفاق نہیں ہے کہ یہ مندر ہے کیا مسجد‘۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ عام انتخابات میں بھوجشالہ کو ایک اشو بنایا تھا تو اب کیوں نہیں؟ دھار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان گیانین ترپاٹھی کا اس بارے میں کہنا ہے ’بھوجشالہ ہمارے لیے ایک اہم ایشو ہے۔ ہم اس کے بارے پوری طرح سنجیدہ ہیں اور اگر ہماری جماعت مرکز میں حکومت بناتی ہے تو ہم سروستی کی مورتی لندن سے واپس لائیں گے اور بھوجشالہ میں رکھیں گے۔‘

وہیں دھار میں کانگریس کے ترجمان گنگا رام جوشی کا کہنا تھا ’بھوجشالہ کا مسئلہ ہمارے انتخابی منشور کا نہ کبھی حصہ تھا نہ ہے۔ بھوجشالہ میں دونوں مذہب کے لوگ عبادت کرتے ہیں اور ہماری پارٹی نے اسے کبھی غلط نہیں سمجھا۔‘

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جس پارٹی نے اسے ایشو بنایا تھا اس نے اپنا ہدف حاصل کرلیا اور اب اقتدار میں ہے اور شاید اسے امید ہے کہ وہ آئندہ بھی جیتے گی اس لیے ووٹ بانٹنے کی سیاست کی شاید اسے اب ضرورت نہیں ہے۔

اسی بارے میں