اجمل قصاب نابالغ نہیں، عدالت

احمل قصاب
Image caption عدالت کا کہنا ہے کہ ممبئی حملے کے وقت قصاب کی عمر بیس سے زیادہ تھی

خصوصی عدالت نے ممبئی حملوں کے مشتبہ ملزم اجمل قصاب کی عمر پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ قصاب نابالغ نہیں ہے اور ممبئی حملوں کے وقت اس کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ تھی۔

تاہم عدالت نے ملزم قصاب کی کم عمر ہونے کی اپیل کو خارج کر دیا۔

ممبئی حملوں کی سماعت کرنے والےخصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے آج اپنے فیصلہ میں کہا کہ حالانکہ عدالت نے پہلے ہی اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ ملزم بالغ ہے لیکن سرکاری وکیل کی جانب سے ملزم کی عمر کے لیے طبی جانچ کی اپیل کو عدالت نے قبول کر لیا تھا اور طبی جانچ اور نائر ہسپتال کے ڈاکٹر اور جیلر سواتی ساٹھے کی گواہی کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ملزم بالغ ہے اس لیے یہ اپیل مسترد کی جاتی ہے۔

قصاب کی عمر کی تصدیق کے لیے ان کی ہڈیوں کا آسیفکیشن ٹیسٹ اور دانتوں کا ٹیسٹ ہوا تھا اور اس رپورٹ میں ملزم قصاب کی عمر بیس سال سے زیادہ بتائی گئی تھی۔وکیل صفائی کاظمی نے البتہ ڈاکٹروں کی اس رپورٹ کو بھی چیلنج کیا تھا اور جن ڈاکٹروں نے یہ رپورٹ تیار کی تھی ان کے ساتھ جرح کی تھی۔

عدالت میں قصاب کی جانچ کی سولہ ایکسرے رپورٹ پیش ہوئی تھی۔قصاب نے عدالت سے ہڈیوں اور دانتوں کے جانچ کی ایکسرے پلیٹ طلب کی تھی تاکہ وہ اس پر دوسرے ڈاکٹروں سے ان کے رائے حاصل کر سکیں۔سرکاری وکیل نے اس کی مخالفت کی تھی اور عدالت نے قصاب کی اس درخواست کو خارج کر دیا۔

وکیل صفائی کاظمی نے عدالت کے باہر میڈیا نے نمائندوں سے کہا کہ ابھی وہ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی ایسا کریں۔

وکیل کاظمی نے کہا کہ انہوں نے عدالت سے وہ ایکسرے پلیٹ طلب کی تھی کیونکہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ جو رپورٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئی ہے وہ ملزم قصاب کی ہے یا نہیں کیونکہ ایکسرے پلیٹوں پر قصاب کے دستخط نہیں لیے گئے تھے۔

سرکاری وکیل اجول نکم کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت میں ملزم قصاب کی عمر کی تصدیق کے لیے طبی جانچ کی اپیل اس لیے کی تھی کہ کہیں بعد میں یہ معاملہ سر نہ اٹھائے۔ انہوں نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ وہ مقدمہ میں تاخیر کرنے کی سازش کر رہا ہے۔

ملزم قصاب کے وکیل کاظمی نے عدالت میں اس سے پہلے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ان کے موکل کا بیان دباؤ میں لیا گیا تھا۔

اس سے قبل ملزم قصاب نے عدالت سے خوشبودار ٹوتھ پیسٹ اردو اخبار کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اسے جیل کے احاطے میں ٹہلنے کی اجازت دی جائے۔ ملزم قصاب کو ایک بم پروف کمرے میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کی نگرانی ہند تبت سرحدی فورس کا عملہ کرتا ہے۔

ایڈوکیٹ کاظمی کے خلاف شہر میں شیعہ تنظیم نے ان کی مذمت کی تھی اور اب انہیں اسلام جمخانہ ٹرسٹ سے نکال دیا گیا۔ ٹرسٹ کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا ممبر نہیں رکھ سکتے جو ایک دہشت گرد کی وکالت کر رہا ہو۔ ایڈوکیٹ کاظمی نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اسلام جمخانہ کوئی مسلم تنظیم نہیں ہے اور وہ ملزم قصاب کا دفاع کر کے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

بی بی سی سے