لکھنؤ کی بھول بھلیاں

Image caption لکھنومیں نوابین کی بڑی نشانیوں میں بڑا امام باڑہ بھی شامل ہے

لکھنؤ میں میری ملاقات گووند، علمدار حسین، سدھارتھ اور ایک سردار جی سے ہوئی۔

دلی سے ٹرین کے ذریعے لکھنؤ کا سفر کرتے ہوئے امراؤ جان کا نام بھی ذہن میں تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ جہاں کسی زمانے میں طوائفوں کے کوٹھے تھے وہ گلیاں اب چکن کاری کے خوبصورت کام والے ملبوسات کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔

انہی گلیوں میں کاریگر انہماک سے ساڑھیوں اور لہنگوں پر زردوزی کا کام کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ چکن کاری کا کام لکھنؤ شہر کے گرد دیہات میں ہوتا ہے جہاں سینکڑوں خاندان اس کام سے وابستہ ہیں۔

لکھنؤ کے نام کے ساتھ ہی نوابین کا خیال آتا ہے جو کبھی وہاں حکمران تھے۔ شہر میں نوابین کی بڑی نشانیوں میں بڑا امام باڑہ شامل ہے۔ اسی امام باڑے میں میری ملاقات علمدار حسین، کولکتہ سے سیر کے لیے آئے سدھارت اور ان کی شہر میں ان کی رہنمائی کرنے والے سردار جی سے ہوئی۔

میں امام باڑے پہنچا تو معلوم ہوا کہ گائیڈ کے بغیر عمارت کے راز سمجھنا آسان نہیں ہوگا۔ امام باڑے کے گائیڈ نے میرا نام پوچھا۔ میں نے کہا اسد علی۔ اس پر انہوں نے سینے پر ہاتھ رکھا اور زور دے کر کہا کہ مجھے علمدار حسین کہتے ہیں۔

انہوں نے مجھے سدھارتھ اور ان کے دو ساتھیوں کو امام باڑے کے بڑے ہال میں لے جا کر اس کی تاریخ بتائی اور پھر ایک طرف سے سیر شروع کروائی جہاں نجف کے روزے کی شبیہہ رکھی تھی۔

Image caption امام باڑے کی اوپر کی منزل میں بھول بھلیوں سے ثابت ہوا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں

علمدار حسین نے روزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جیسے ہی کہا کہ یہ امام کا روزہ ہے اور یہاں ماتھا ٹیکنے سے من کی مرادیں پوری ہوتی ہیں، تینوں بنگالیوں میں سے جو ہندو تھے ایک نے تعظیم سے فرش کو چھوا اور ایک نے ماتھا بھی ٹیکا۔

گائیڈ نے کچھ توقف کے بعد میری طرف دیکھا اور دہرایا کہ ’یہ امام کا روزہ ہے‘۔ میں نے کہا کہ ’ٹھیک ہے‘ اور خاموش کھڑا رہا اور چلتے ہوئے وہاں تصویر بھی بنائی۔

وہ کچھ دور جا کر میری طرف مڑے اور پوچھا کہ کیا نام بتایا تھا آپ نے، میں نے کہا اسد علی، انہوں نے پھر تسلی کی کہ اسد، میں نے کہا جی۔

اس طرح کچھ سیکنڈ کے لیے علمدار حسین اور اسد علی کے بیچ جو خلیج پیدا ہوئی تھی وہ ختم ہو گئی اور عمارت کی سیر کے دوران وہ کچھ بھی بتانے سے پہلے انتظار کرتے کہ میں تصویر بنا لوں اور باقی تینوں سیاحوں سے آگے کھڑا کرتے۔

امام باڑے کی اوپر کی منزل میں بھول بھلیوں کے راز بتائے گئے اور ثابت ہوا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ حسین بھائی ایک تاریک برآمدے میں ہمیں کھڑا کر کے اس کے دوسرے کونے میں پہنچ گئے اور ہمیں دیوار سے کان لگانے کے لیے کہا۔ انہوں نے دور جا کر آہستہ سے ہیلو بولا جو ہمیں دیوار میں سے سنائی دیا۔

اسی طرح انہوں نے ہال کےایک کونے میں کاغذ پھاڑا اور ماچس جلائی تو اس کی آواز بھی عمارت کے دوسرے کونے میں سنی گئی۔ حسین بھائی نے بتایا کہ بھول بھلیوں میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے ہر مقام پر چار راستے بنائے گئے ہیں جن میں سے تین غلط اور ایک درست ہے۔

Image caption چکن کاری کا کام لکھنؤ کے مضافاتی دیہات میں ہوتا ہے جہاں سینکڑوں خاندان اس کام سے وابستہ ہیں

عمارت کا چکر کافی عجلت میں لگایا گیا کیونکہ ہم چاروں کو جلدی تھی۔ اسی دوران بنگالیوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ میں پاکستانی ہوں۔ انہوں نے عمارت کے باہر شدید گرمی میں مجھے روک کر پہلے تو پاکستان کے حالات پر افسوس کا اظہار کیا جو انڈیا میں پہلے بھی ایک آدھ جگہ پر لوگ کر چکے تھے۔

وہ بہت شدت سے جاننا چاہتے تھے کہ یہ طالبان کون لوگ ہیں، کیا چاہتے ہیں اور انہیں اتنا آگے کیوں بڑھنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا دیکھ کر مسلمانوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اور ان کے علاقوں سے گزرو تو لگتا ہے یہاں کچھ غلط ہی ہوتا ہوگا لیکن جب کسی سے بات کرو تو اچھا لگتا ہے اور خیال آتا ہے جو سنا تھا وہ غلط ہے۔

پاک بھارت تعلقات کے بارے میں بات ہوئی تو انہوں نے کہا دوستی دشمنی اپنی جگہ لیکن پاکستا ن کی خبریں پڑھ کر خیال آتا ہے کہ کسی کو ان حالات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

اتنے میں ان کے گائیڈ سردار جی انہیں لینے آ گئے، لیکن ان کے مجھ سے ابھی سوالات ختم نہیں ہوئے تھے۔ بیس پچیس منٹ تک میرا انٹرویو جاری رہا جس کے بعد پتوں کا تبادلہ ہوا۔

ان کے گائیڈ کو میرے صحافی ہونے کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ سر آٹو رکشہ والوں کے بارے میں کچھ لکھیں۔ پھر جب اسے میرے پاکستانی ہونے کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا۔

میں نے پوچھا کہ پنجاب میں کہاں سے تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف پانچ سال کے تھے جب ان کے والدین تقسیم کے وقت لکھنؤ آ گئے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کہاں سے آئے تھے اور انہوں نے جواب دیا کہ ضلع گجرات سے۔ میں نے کہا کہ اسی بات پر گلے ملیں میرا بھی تعلق گجرات سے ہے۔ سردار جی مہاراج کہہ کر آگے بڑھے اور میرے پاؤں چھو لیے۔

Image caption لکھنؤ سے آئے ہوئے سِدھارتھ اور ان کے دو ساتھی بھی اسی وقت امام بارگاہ کی سیر کر رہے تھے

سردار جی کا دل تھا کہ میں رات کو ان کے گھر جا کر ان کی والدہ سے ملوں جو گجرات کو یاد کرتی ہیں لیکن مجھے شام کو دلی کے لیے روانہ ہونا تھا لہذا ایسا نہیں ہو سکا۔ لیکن میں نے سوچا کے اتنا نام پتہ رکھ لوں گا۔

میں اپنی ٹیکسی کے ڈرائیور کو بتانے کے لیےگیا کہ پانچ دس منٹ انتظار کرے۔ مجھے تاثر ملا تھا کہ سردار جی سدھارتھ وغیرہ کو رکشہ پر بٹھا کر وہیں رکیں گے لیکن پھر میں نے دیکھا کہ وہ ان کے رکشے کے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے اور رکشہ چلا گیا۔

رکشہ کھینچنے والے بائیس تئیس سال کے اور پتلے دبلے گووند سے میری ملاقات لکھنؤ کے سٹیشن پر ٹرین سے اترتے ہی ہوگئی تھی۔ میں اپنا بیگ سیدھا کر رہا تھا کہ اس نے التجا کی کہ سر آپ نے کہیں نہ کہیں تو جانا ہی ہے اگر یہ پانچ دس روپے مجھے دے دیں گے تو آپ کا کیا جائے گا۔

ہوٹل جاتے ہوئے میں نے گووند سے سیاست پر بات کرنی چاہی تو اس نے کہا کہ صاحب جو بھی آئے ہمارے نصیب میں تو یہی لکھا ہے۔ ہوٹل تک اس نے لوگوں کے اس ہجوم کی نمائندگی کی جو انڈیا بھر میں بوجھ اٹھاتے یا کھینچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن تک ترقی نہیں پہنچ سکی۔

اس نے مجھے ہوٹل چھوڑا اور شام کو شہر گھمانے کی پیشکش کی۔ اس کا دل تھا کہ ہم چار بجے چلیں میں نے کہا نہیں سات بجے۔ وہ سات بجے نہیں آیا۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ اس نے کہا تھا کہ وہ سات بجے رکشہ کھڑا کر دیتا ہے۔ میں نے سوچا کہ دن بھر کام کے بعد سات بجے اس میں شاید مزید رکشہ کھینچنے کی سکت نہ رہی ہو۔

لکھنؤ کے کنگ جارج ہاسپٹل کے آگے سے گزرتے ہوئے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ مایا وتی جب پہلے وزیر اعلیٰ بنی تھیں تو انہوں نے اس کا نام تبدیل کر کے چھترپتی شاہو جی مہاراج ہاسپٹل رکھ دیا اور اس کو برطانیہ سے ملنے والی امداد بند ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ پھر ملائم سنگھ یادو کی حکومت آئی تو انہوں نے دوبارہ اس کا نام کنگ جارج ہاسپٹل رکھ دیا لیکن مایا وتی نے پھر حکومت میں آ کر اس کا نام بدل دیا۔

دن بھر کی شدید گرمی سے نمنٹنے کے لیے شہر کی سب سے مشہور لسی کی دکان سے میٹھی لسی پی تو کچھ افاقہ ہوا۔ بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کےلیے یہاں سے لسی جاتی تھی۔ لسی والی دکان کے سامنے ایک چوک ہیں جہاں پر نوابین کے زمانے کا کوئی ڈھانچہ تھا جو مجھے بتایا گیا کہ بی جے پی کے ایک مقامی رہنما نے تڑوا دیا۔

شام کو ہوائی اڈے روانہ ہوگیا جہاں دلی روانہ ہونے سے پہلے پتلی، ٹھنڈی اور نمکین لسی سے توانائی اور طبیعت بحال کی۔

اسی بارے میں