اجمل کے وکیل عباس کاظمی

عباس کاظمی
Image caption عباس کاظمی اجمل امیر قصاب کا مقدمہ لڑ رہے ہیں

گزشتہ برس ممبئی پر ہونے والے حملوں ملزم اجمل قصاب کا دفاع وکیل سید غلام عباس کاظمی کر رہے ہیں۔ وہ لیگل ایڈ پینل نہیں بلکہ ریاستی بار ایسوسی ایشن کے ممبر ہیں اور عدالت نے انہیں قصاب کے دفاعی وکیل کے طور پر مقرر کیا ہے۔

بین الاقوامی حیثیت کے حامل انتہائی حساس کیس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں، ایسے میں ایڈوکیٹ کاظمی پر کتنی ذمہ داریاں ہیں اور وہ کس طرح ان سے نبردآزما ہیں یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے ان سے بات کی۔

ایسے حالات میں جب ان وکلاء پر حملے ہو رہے تھے جنہوں نے اجمل قصاب کا مقدمہ لڑنے کی خواہش ظاہر کی تھی توآپ نے مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیسے کیا؟

عباس کاظمی : میں زندگی میں چیلنجیز سے گھبراتا نہیں اور نہ ہی خوفزدہ ہوتاہوں۔ اس سے پہلے بھی میں نے انتہائی حساس کیس کی پیروی کی تھی۔ سن ترانوے بم دھماکہ کیس، فرضی پولیس انکاؤنٹر کیس، اس کے علاوہ فلمساز گلشن کمار قتل کیس۔ میں نے زندگی میں کبھی کسی روک ٹوک کی پرواہ نہیں کی اور میں پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ ویسے اس کیس کو لڑنے کا پہلے سے ارادہ نہیں کیا تھا۔

آپ لیگل ایڈ پینل کے ممبر بھی نہیں ہیں پھر آپ کو عدالت نے کیسے مقرر کیا؟

عباس کاظمی : یہ تو عدالت بتا سکتی ہے۔ عدالت کا مقصد دراصل دنیا کو بتانا ہے کہ یہاں انصاف ہوتا ہے اور کسی بھی ملزم کو اس کے دفاع کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ مجھے پندرہ اپریل کو آرڈر ملا۔ جج نے کہا کہ اب تک لیگل ایڈ پینل کے وکلاء ان کی کسوٹی پر پورے نہیں اترے ہیں اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ بار ایسوسی ایشن سے کسی اہل اور سینئر وکیل کا انتخاب کیا جائے۔

آپ نے عدالت سے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا، آپ کو کس زمرے کی سیکوریٹی دی گئی ہے؟

کاظمی : میں نے عدالت سے تحفظ کا مطالبہ نہیں کیا تھا جو سیکوریٹی ایڈوکیٹ انجلی واگھمارے کو دی گئی تھی وہی مجھے دے دی گئی۔

آپ کے اس فیصلے کے بعد شیعہ تنظیم نے آپ کی مذمت کی اور اسلام جمخانہ نے آپ کو ممبر شپ سے بے دخل کر دیا؟

کسی شیعہ تنظیم نے میری مذمت نہیں کی بلکہ چند حضرات شاید چار یا پانچ نے موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی پرانی رنجشوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔ میری تقرری سولہ اپریل کو ہوئی جبکہ چودہ اپریل کو اسلام جمخانہ کے صدر کے ساتھ کچھ اختلافات کی وجہ سے جھڑپ ہوئی تھی۔

بین الاقوامی حیثیت کے حامل اس کیس میں دفاعی وکیل کے طوعر پر آپ کو کیا لگتا ہے کہ قصاب کا کیس کتنا مضبوط ہے؟

کاظمی: یہ بات تو ہے کہ استغاثہ کے پاس کافی ثبوت موجود ہیں۔ ملزمین کے فنگر پرنٹس، ڈی این اے رپورٹ، تیس سے بتیس عینی گواہان، تیکنیکی ثبوت، وغیرہ۔۔۔ ویسے کیس بہت ہی سخت ہے۔ اس میں مجھے کافی محنت کرنی ہوگی اور میں بہت ہی ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاؤں گا۔

استغاثہ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس اجمل قصاب کے خلاف پختہ ثبوت کے طور پر وہ ویڈیو ہے جسے دنیا نے دیکھا کہ کس طرح قصاب چل رہا ہے۔ کس طرح وہ فائرنگ کر رہا ہے؟

کاظمی : میں اسے بڑا ثبوت نہیں مانتا کیونکہ دنیا جانتی ہے کس طرح تصویروں کے ساتھ ردوبدل کیا جاتا ہے، جسم کسی اور کا اور چہرہ کسی اور کا۔

عدالت کی کارروائی سے آپ ناراض ہیں، کئی مرتبہ آپ پر سرکاری وکیل ہی نہیں جج نے بھی الزام عائد کیا کہ آپ جان بوجھ کر مقدمہ میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں؟

کاظمی: دیکھئے یہ بڑا ہی تاریخی اور حساس مقدمہ ہے۔ اس پر بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہے۔ اس طرح کی جلد بازی میرے موکل کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے ایک ایک قدم پر لوگوں کی نظریں ہیں۔ وہ مجھ پر مقدمہ ختم ہونے کے بعد بھی تنقیدیں کریں گے۔ اس لیے مجھے اپنے موکل کے دفاع کا بھر پور موقع ملنا چاہئیے۔ مجھے جو پروفیشنل ذمہ داریاں دی گئی ہیں، میں پوری ایمانداری کے ساتھ نبھاؤں گا۔

عدالتی کارروائی کے دوران آپ نے کئی مرتبہ اس کیس سے ہٹ جانے کی دھمکی دی ہے؟

کاظمی: میں نے کیس سے ہٹنے کی بات نہیں کی۔ دوچار مرتبہ کیا ہوا کہ گواہان کی پیشی اور جرح کے دوران جج صاحب سے اختلاف ہوگیا۔ اس پر جج نے کہا کہ اگر آپ اس کیس سے ہٹنا چاہتے تو ہٹ جائیں، تب میں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو میں تیار ہوں۔ لیکن پھر بات ختم ہوگئی۔ ویسے جس وقت مجھے لگے گا کہ میں اپنے موکل کا دفاع پورے انصاف اور مضبوطی کے ساتھ نہیں کر پا رہا ہوں تو میرے لیے یہ بہتر ہو گا کہ میں اس کیس سے ہٹ جاؤں۔

کیا آپ اجمل کی عمر کی تصدیق کے لیے دستاویزات حاصل کرنے پا کستان جانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں؟

کاظمی: پاکستان جانے کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔ ان سے رابطہ قائم کرنے کا بھی مطلب نہیں ہے۔ آیا اس کی دستاویزات ہیں یا نہیں یہ بھی نہیں پتہ۔ میں اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کروں گا۔

اجمل سے آپ نے کتنی مرتبہ ملاقات کی، اس کے انداز گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کیسا انسان ہے؟

کاظمی: کچی عمر کا ہے۔اگر چلیئے سترہ اٹھارہ سال کا نہ سہی عدالت کے حساب سے بھی وہ اکیس سال کا ہی ہے۔ یہ عمر بڑی نادانی کی ہوتی ہے۔ اس پر سنگین الزامات ہیں۔ اسے بیرک میں اکیلا رکھا گیا ہے۔ بلیٹ پروف لوہے کی شیٹ سے بنا کمرہ جہاں تازہ ہوا کا جھونکا بھی نہیں ہے۔ اس کے کمرے میں کسی اور ملزم کو بھی نہیں رکھا گیا ہے۔ یہ ایک طرح سے اس کی نظر نبدی ہے۔ ایسے حالات میں کسی کا بھی دماغی توازن پلٹ سکتا ہے۔ وہ پوری طرح سے باہوش نظر نہیں آتا ہے۔ آپ نے اجمل کو عدالت میں پڑھنے کے لیے کتابیں دی ہیں وہ کون سی ہیں؟

کاظمی: میں نے انہیں لطائف اور چھوٹی موٹی کہانی کی کتابیں دی ہیں۔

اجمل نے عدالت سے اخبار پڑھنے کی گزارش کی تھی کیا عدالت نےا سے منظور کیا؟

کاظمی: عدالت نے اسے منسوخ کر دیا۔

آپ کو کیا لگتا ہے یہ کیس کتنے وقت تک چلے گا؟

کاظمی: یہ سب استغاثہ اور ان کے گواہان کی فہرست پر منحصر ہے۔ اس کیس میں دو ہزار سے زائد گواہان ہیں۔ دیکھیے کتنا وقت لگتا ہے۔

اسی بارے میں