ممبئی چھ ماہ بعد

ممبئی
Image caption تاج ہوٹل اور ناریمان ہاؤس پر حملے کے نشانات ابھی بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہونے والے حملوں کے چھ ماہ گزرنے کے بعد عوام کا خوف تو دور ہو گیا لیکن ان مقامات پر نہ تو پولیس تحفظ میں اضافہ ہی ہوا اور نہ ہی حکومت کا پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کا وعدہ پورا ہوا۔

چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسندوں کے حملوں کے بعد یہ راز کھل گیا کہ ملک کا وہ شہر جو ہمیشہ سے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے نشانہ بنتا رہا ہے اس کی پولیس کے پاس نہ تو بُلٹ پروف جیکٹ ہیں نہ ہیلمیٹ اور نہ ہی جدید اسلحہ اور بُلٹ پروف گاڑیاں۔ اگر ممبئی پولیس کے پاس یہ سب کچھ ہوتا تو کم سے کم انسداد دہشت گردی عملہ کے چیف ہیمنت کرکرے ، انکاؤنٹر کے ماہر وجے سالسکر اور ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے اے کے 47 رائفل سے نکلی گولیوں کا مقابلہ کر سکتے تھے یا پھر گولیاں ان کے گاڑی کو نہیں لگتی تھیں اور وہ شاید آج زندہ ہوتے۔

ان حملوں کے بعد ریاستی حکومت نے کئی منصوبے بنائے۔ سب سے پہلے نیشنل سیکوریٹی فورس یعنی این ایس جی کمانڈوز کی طرز پر ریاستی پولیس کمانڈوز بنایا جائے اس فورس کو فورس ون بٹالین کا نام دیا جائے گا۔ اس کی تربیت این ایس جیکمانڈوز فوجی افسران اور غیر ملکی تربیتی ایجنسیاں انہیں تربیت دیں گی۔ ان کی تربیت سٹیٹ ریزرو پولیس فورس سینٹر میں ہو رہی ہے لیکن ابھی تک اس فورس کی تربیت مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ ریاستی محکمہ داخلہ ذرائع کے مطابق یہ فورس اس سال کے آخر تک تیار ہو سکے گی۔

Image caption پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہوا

حکومت نے پولیس کو جو سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا اس کا بلیو پرنٹ تیار کیا تھا اس کے مطابق پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے لیے اسالٹ رائفل ، بلیٹ پروف جیکٹ ، ہیلمیٹ ، پندرہ آرمڈ کار جو نکسلی علاقوں میں پولیس کو مہیا کرائی جاتی ہیں، بم کی جانچ کرنے والی گاڑیاں ان پر حکومت نے سو کروڑ روپےخرچ کرنا طے کیا تھا۔ پولیس کو ابھی تک یہ سب سامان مہیا ہی نہیں کیا گیا البتہ بم اور دھماکہ خیز اشیا کا پتہ لگانے والی مخصوص وین پولیس ہیڈ کوارٹر میں آ چکی ہے۔

حملے کے دوران پولیس کے اعلی افسران پر مبینہ لاپرواہی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اس کے علاوہ انٹیلی جینس کی ناکامی پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ حکومت نے اس وقت کے حالات میں پولیس کے رول کی جانچ اور انٹیلی جنس کی ناکامی کا پتہ لگانے کے لیے دو رکنی کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔ سابق آئی اے ایس افسر آر جی پردھان اور خفیہ ایجنسی 'را' کے سابق ڈپٹی چیف وی بال چندرن پر مشتمل اس دو رکنی ٹیم نے ریاستی انٹیلی جنس مشینری کے طریقہ کار کا پوری طرح جائزہ لیا اور اس کی رپورٹ حکومت کی میز پر پہنچ چکی ہے لیکن وہ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔

ریلوے پولیس نے البتہ چھتر پتی شیواجی ریلوے سٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں۔ ریلوے پروٹیکشن فورس اور گورنمنٹ ریلوے پولیس کے جوان تعنیات ہیں۔ سٹیشن پر سکریننگ مشین لگی ہے۔ پولیس لوگوں کا سامان چیک کرتی ہے لیکن ان سب کے باوجود روزانہ ہزارہا افراد کا سامان چیک کرنا پولیس کے لیے ممکن نہیں ہے اس کا اعتراف اس ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر نے کیا۔

Image caption گیٹ وے آف انڈیا پر وہی ہجوم ہے لوگ اسی طرح بے خوف ہو کر ان مقامات پر جاتے ہیں جو دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے

کاما ہسپتال کی گلی میں جہاں ہیمنت کرکرے اور دیگر پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر حملہ آوروں نے گولیاں ماری تھیں، میں اب لوگ شام ڈھلتے ہی گھروں سے باہر نہیں نکلتے۔ اسی گلی میں مبینہ طور پر قصاب کی گولیوں سے ہلاک ہوئے جی ٹی ہسپتال کے ملازم واگھیلا کے بھائی بھرت اب اپنا جھوپڑا پختہ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنے پختہ مکان میں کم سے کم محفوظ رہیں گے۔ بھرت کے مطابق اس سنسان گلی میں ایک بھی پولیس اہلکار تعنیات نہیں ہے۔ ' پولیس کہتی ہے کہ وہ یہاں ہے اور آئندہ ایسا کچھ نہیں ہو گا اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ' حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جہاں پولیس اہلکاروں کا قتل ہوا وہیں آزاد میدان پولیس سٹیشن ہے اور اسی گلی میں ایس بی ون آفس بھی ہے۔

تاج ہوٹل اور ٹرائیڈینٹ ہوٹل حملہ آوروں کا نشانہ تھے۔ ان دونوں ہوٹلوں کے اطراف سیکوریٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے لیکن یہ ان کی اپنی سیکوریٹی ہے۔ تاج ہوٹل کی قدیم عمارت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تھا وہ ابھی بھی بند ہے۔ ہوٹل نے اپنی نجی سیکوریٹی میں کافی اضافہ کیا ہے لیکن گیٹ وے آف انڈیا جہاں سیاحوں کی بھیڑ ہوتی ہے محض ایک پولیس کی وین کھڑی ہے۔ تفریح کی غرض سے آئے مقامی افراد اور سیاحوں کو وہ دن یاد ہے لیکن کسی کو ڈر نہیں لگتا۔

تاج ہوٹل میں ایک بائس سالہ نوجوان اخلاق بھی ہلاک ہوا تھا جو اترپردیش کے اپنے سیاسی لیڈر سے ملاقات کے لیے اس روز ہوٹل گئے تھے۔ ان کی بہن خورشید کہتی ہیں کہ انہیں معاوضہ کے طور پر سات لاکھ روپے کا چیک مل گیا لیکن اب ان کے دلوں میں خوف گھر کر چکا ہے۔ 'گھر سے باہر جانے کے خیال سے کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔'

Image caption تاج میں ہلاک ہونے والے اخلاق کی بہن کو معاوضے کا چیک مل گیا ہے لیکن ان کا خوف نہیں گیا

ممبئی حملوں کے چھ ماہ گزرنے کے بعد تاج ہوٹل اور ناریمان ہاؤس پر حملے کے نشانات ابھی بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں لیکن شہر کی روش لوٹ آئی ہے ریلوے سٹیشن پر اسی طرح شہر سے باہر جانے اور شہر میں آنے والوں کی بھیڑ، گیٹ وے آف انڈیا پر وہی ہجوم ہے۔ لوگ اسی طرح بے خوف ہو کر ان مقامات پر جاتے ہیں جو دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے شاید ممبئی کے لوگوں کو اسی طرح جینے کی عادت ہو چکی ہے۔