لال گڑھ بھارت کی لال مسجد

فائل فوٹو
Image caption حالیہ دنوں میں ماؤنوازوں کے حملے میں تیزی آئی ہے

مغربی بنگال کے 'آزاد' لال گڑھ علاقے کو ماؤنواز باغیوں کے قبضے سے رہا کرانے کے لیے پولیس نے جو آپریشن شروع کیا ہے اس کا انجام بھی اتنا ہی خونریز ہوسکتا ہے جتنا لال مسجد پر فوجی کارروائی سے ہوا تھا۔

لال مسجد کی طرح لال گڑھ میں بھی مہینوں سے حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا جارہا ہے۔

اڑیسہ اور مغربی بنگل کی سرحد پر واقع ایک ہزار مربع کلومیٹر کے اس علاقے میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کا داخلہ ممنوع ہے، حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں کو ماؤنواز باغی جہاں چاہتے ہیں نشانہ بناتے ہیں اور اب شاید پہلی مربتہ لوگوں کی سمجھ میں یہ آرہا ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے نکسلوادیوں کو ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا داخلی خطرہ کیوں قرار دیا تھا۔

اور جس طرح پاکستانی حکومت خون خرابے کے سیاسی مضمرات سے گھبراکر لال مسجد پر کارروائی ٹالتی رہی، تقریباً وہی صورتحال لال گڑھ میں بھی ہے جہاں ریاست کی کمیونسٹ حکومت اس خوف سے باغیوں کے سامنے جھکتی رہی کہ کہیں نندی گرام اور سنگور جیسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہوجائے۔

( نندی گرام اور سنگور میں صنعتوں کے لیے زمین حاصل کرنے کی کوشش نے تشدد کی شکل اختیار کر لی تھی اور یہ دونوں تحریکیں حکومت کے لیے نہ صرف ایک بڑا درد سر بن گئی تھیں بلکہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں کمیونسٹوں کی شکست کی ایک بڑی وجہ بھی بنیں)

کون ہیں ماؤنواز باغی؟

Image caption ریاست مغربی بنگال میں ماؤنوازوں پر پابندی عائد نہیں ہے

ماؤنواز باغی یا نکسلوادی مزدوروں کے حقوق کے لیے کئی دہائیوں سے مسلح تحریک چلا رہے ہیں اور موجودہ نظام حکومت بدلنا چاہتے ہیں۔ نوے کے عشرے میں ان کا اثر صرف پچاس سے ساٹھ اضلاع میں بتایا جاتا تھا جو اب بڑھ کر ملک کے چھ سو میں سے ڈیڑھ سے سو زیادہ اضلاع میں پھیل گیا ہے۔ بدترین طور پر متاثر ریاستوں میں جھاڑکھنڈ، چھتیس گڑھ، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش اور اڑیسہ شامل ہیں۔

لال گڑھ کی ہی طرح ماؤ نوازوں نے چھتیس گڑے کے دانتے واڑہ میں بھی ایک بڑے علاقے کو 'آزاد' کرا رکھا ہے اور وہاں بھی حکومت کی رٹ نہیں چلتی۔

لیکن اب مرکزی حکومت کے دباؤ میں مغربی بنگال کی سرکار نے پولیس کو کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ مرکز نے اسے خصوصی تربیت یافتہ کمانڈوز اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی پانچ کمپنیاں فراہم کی ہیں۔

لال گڑھ کا یہ 'آزاد' علاقہ تقریباً گیارہ سو دیہات پر محیط ہے جہاں ماؤنواز باغیوں کو مقامی قبائلی آبادی کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ لہذا وہاں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دور دراز علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق باغی اور قبائلی آبادی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، خندقیں کھودی جارہی ہیں اور بارودی سرنگیں، جن کے استعمال میں ماؤ نواز باغی ماہر ہیں، بچھائی جارہی ہیں۔

ان کے پاس کس طرح کے ہتھیار ہیں؟

جدید ترین خود کار رائفلوں سے لیکر تیر کمان تک، اس لڑائی میں ہر طرح کے ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں۔ باغیوں کے پاس زیادہ تر وہ اسلحہ ہے جو انہوں نے سکیورٹی فورسز سے لوٹا ہے لیکن انہیں بارودی سرنگیں بنانے اور بچھانے میں خاصی مہارت حاصل ہے۔ لیکن چند ماہ قبل قبائلیوں نے ایک پولیس تھانے پر تیر کمان اور کلہاڑیوں سے حملہ کیا تھا اور پولیس تھانہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگئی تھی کیونکہ اسے گولی چلانے کی اجازت نہیں تھی۔

قبائلی کیوں باغیوں کے ساتھ ہیں؟

مقامی لوگ احساس محرومی کا شکار ہیں، ان کی شکایت ہے کہ ترقیاتی سرگرمیوں میں انہیں پوری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے اور مقامی افسران اور سی پی ایم کے کارکن بدعنوان ہیں، لیکن اس سب سے زیادہ وہ پولیس کی مبینہ ذیادتیوں سے ناراض ہیں۔ ان کا الزام ہےکہ پولیس فرضی مڈبھیڑوں میں مقامی لوگوں کو قتل کرتی ہے اور خواتین کو جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ماؤنواز باغیوں نے اس ناراضگی کا فائدہ اٹھاکر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ یہ گھنے جنگلات والے علاقے ہیں جہاں باغیوں کو سرگرمیوں پر نگاہ رکھنا انتہائی مشکل ہے۔

لیکن ریاستی حکومت کو سب سے زیادہ فکر اس بات پر ہے کہ اگر باقاعدہ کارروائی ہوتی ہے، تو نکسلوادی عورتوں اور بچوں کو ڈھال بناسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں صرف چند لوگوں کی ہلاکت سے بھی صورتحال قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔

یہ بات تو طے ہے کہ لال گڑھ کو دبارہ 'آزاد' کرانے کے لیے کارروائی ہوگی لیکن یہ باغیوں کی عسکریی صلاحیت سے زیادہ ریاستی حکومت کے سیاسی عزم کا امتحان ہوگا۔

اسی بارے میں