ممبئی حملہ آوروں کےناقابل ضمانت ورانٹ

اجمل قصاب
Image caption اجمل قصاب کےاقبالی بیان کی بنیاد پر بائیس ملزمان کے وارنٹ جاری کیےگئے ہیں

ممبئی کی ایک عدالت نے ممبئی پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنےوالے بائیس مفرور ملزمان کےخلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان ملزمان کے بارے میں سرکاری وکیل کا دعویٰ ہے کہ وہ یا تو پاکستان میں ہیں یا پھر پاکستان کے زیرِ انتظام کمشیر میں روپوش ہیں۔

جنرل نےہماری ٹرینگ دیکھی: اجمل قصاب

سرکاری وکیل اجول نکم نےگزشتہ روز عدالت میں ان حملوں کے مبینہ ستائیس ملزمان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا عدالت سے مطالبہ کیا تھا۔

ان ملزمان میں حافظ سعید، ضرار شاہ، ذکی الرحمن لکھوی، ابو کہافہ ، کرنل آر سعادت اللہ کے نام شامل ہیں۔

اس سے قبل بھی سرکاری وکیل نے عدالت میں کیس کی سماعت کے آغاز میں ملزمان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی اپیل کی تھی لیکن عدالت نےیہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ ان ملزمان کے نام اور پتے مکمل نہیں ہیں۔

لیکن اس مرتبہ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب ان کے پاس ملزمان کے مکمل پتے اور مکمل نام موجود ہیں۔

جج تہیلیانی نےاپنے حکم میں کہا کہ چونکہ اس مقدمے کےواحد زندہ ملزم اجمل امیر قصاب کے اقبالی بیان میں ان بائیس ملزمان کے نام شامل ہیں اس لیے عدالت انہی بائیس ملزمان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیتی ہے۔

نکم کا کہنا ہے کہ وارنٹ اب حکومت پاکستان کو سفارتی ذرائع کے توسط سے بھیجا جائےگا لیکن سب سے پہلے عدالت کا یہ حکم ممبئی پولیس کمشنر کے سپرد کیا جائے گا اس کے بعد آگے کی کارروائی ہو گی۔

بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت اس کےبعد ملک کی مرکزی تفتیشی ایجنسی کے ذریعے اسے انٹرپول یا سفارتی ذرائع کےذریعہ حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کی کارروائی کرے گی۔

سرکاری وکیل نکم نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں ان ملزمان کے خلاف الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کی مبینہ طور پر سازش تیار کی اور انہوں نے دس مبینہ حملوں آوروں کو تربیت بھی دی۔

استغاثہ نےاپنی فرد جرم میں پینتیس افراد کو ملزم قرار دیا تھا لیکن ان میں سے ستائیس کے پتے حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اجمل قصاب نے پولیس کو دیئے گئے اپنے مبینہ اقبالی بیان میں ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے اور انہیں تربیت دینے کا ذکر کیا تھا۔

گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر دس حملہ آوروں نے حملے کیے تھے جس میں پولیس ریکارڈ کے مطابق ایک سو چھیاسٹھ لوگ ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

دس مبینہ حملہ آوروں میں سے نو کو آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا اور واحد زندہ مبینہ ملزم اجمل قصاب کے خلاف مقدمہ کے لیےایک خصوصی عدالت قائم کی گئی۔ اس عدالت میں روزانہ اس کیس کی سماعت جاری ہے۔

اسی بارے میں