ممبئی حملے :تفتیشی رپورٹ تنازعہ کا شکار

تاج ہوٹل
Image caption چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی میں دہشتگردانہ حملہ ہوا تھا۔

ممبئی پر ہوئے شدت پسندانہ حملوں کی تفتیش کے لیے بنائی گئی رام پردھان کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے لیے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے ہنگامے کے بعد اب شہر کی چند تنظیمیں احتجاج کرنے پر آمادہ ہیں۔

احتجاجیوں کا مطالبہ ہے کہ عوام کو پورا سچ جاننے کا حق حاصل ہے۔

'فورم اگینسٹ وار اینڈ ٹیرر' کے ممبر فیروز مٹھی بوروالا کے مطابق حکومت عوام سے سچائی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمیشن کی رپورٹ پر عوام کا حق ہوتا ہے اب اگر حکومت اسے منظر عام پر نہیں لاتی ہے تو ان کی تنظیم شہر کی دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر نہ صرف احتجاج کریں گے بلکہ عدالت میں مفاد عامہ کی عرضی بھی داخل کی جائے گی۔

فیروز کے طابق ان کی تنظیم کا خیال ہے کہ ممبئی حملوں کی مکمل جانچ مرکزی حکومت کو نیشنل جوڈیشیل کمیشن کے ذریعہ کرانی چاہئے کیونکہ یہ معاملہ ریاستی سطح کا نہیں تھا یہ حملہ پورے ملک پر کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس نومبر میں ممبئی پر ہوئے شدت پسندانہ حملوں کے بعد حکومت پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی۔

اسمبلی کے دونوں اجلاس میں دو دنوں تک ہنگامہ مچا اور تین مرتبہ اجلاس کی کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔

اپوزیشن کا ماننا تھا کہ حکومت نے انٹلی جنس سے ملی معلومات پر کارروائی نہیں کی اور انہوں نے ممبئی پولیس سربراہ حسن غفور اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اے این رائے پر حالات سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

ان تنقیدوں کے بعد حکومت نے اس پورے معاملہ کی مکمل تفتیش کے لیے سابق گورنر اور مرکزی داخلہ سکریٹری رام پردھان کی سربراہی میں اس کی تفتیش کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دی تھی۔

تفتیش میں ان کا ساتھ ' راء ' کے سابق اور آئی پی ایس افسر وی بال چندرن نے دیا۔ اس کمیٹی نے تین ماہ کے عرصے میں سو صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دی۔

ریاستی وزیراعلی اشوک چوان نے اس رپورٹ کو اسمبلی اجلاس میں پیش کرنے کا وعدہ کیا لیکن انہوں نے رپورٹ کا چند مخصوص حصہ اور 'ایکشن ٹیکن رپورٹ ' ہی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی تھی۔

اس وعدہ خلافی کی وجہ سے ناراض اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی اجلاس میں کافی ہنگامہ مچایا تھا۔

وزیراعلی نے اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے کی وجہ میڈیا کو یہ بتائی تھی کہ اس رپورٹ میں کچھ حساس باتیں ہیں جسے وہ عوام کے سامنے پیش نہیں کر سکتے لیکن حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا دعوی ہے کہ حکومت ریاست کے تین وزراء کو بچانے کی کوشش میں ہے۔

سینئر صحافی کمار کیتکر کا ماننا ہے کہ حکومت اپنے کچھ وزراء کو بچانے کی کوشش میں ہے کیونکہ پردھان کمیٹی رپورٹ میں اس جانب نشاندہی کی گئی ہو گی کہ کس طرح ریاستی مشینری کے کچھ وزراء نے اپنے کام میں تساہلی برتی اور حملے کی انٹلی جنس خفیہ رپورٹ ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا۔

پردھان کمیٹی رپورٹ پر کئی تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ یہ محض حکومت کی لیپا پوتی ہے اور رپورٹ نے ان خامیوں کی نشاندہی نہیں کی جس کی وجہ سے اس پورے آپریشن میں کئی اعلی پولیس افسران سمیت ایک سو چھیانسٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

رام پردھان نے اپنے اوپر ہوئی تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ انہیں محدود اختیارات دیے گئے تھے پردھان کے مطابق انہیں محض تین باتوں کی تفتیش کرنی تھی ایک تو یہ کہ کیا ممبئی حملوں کے پہلے سے انٹلی جنس اطلاع موجود تھی دوسرے یہ کہ کیا اس عمل میں کسی افسر سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے اور تیسرے ہماری سفارشات کہ آئندہ اگر ایسا ہوا تو کیا اقدامات کرنے چاہئے۔

حکومت نے اس رپورٹ کے بعد محض شہر کے پولیس کمشنر حسن غفور کا تبادلہ کر دیا کیونکہ اپوزیشن نے شروع سے پولیس کمشنر کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے پورے حالات کو برابر سے کنٹرول نہیں کیا بلکہ ایک ہی مقام پر بیٹھے رہے۔

پردھان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی رپورٹ میں پولیس کمشنر کو نشانہ نہیں بنایا تھا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان حالات میں انتہائی چابکدستی کے ساتھ کام کیا۔ البتہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان حالات میں پولیس کمشنر کو شہر کو کنٹرول کرنے کے لیے آزادانہ اختیارات دیے جانے چاہئے ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو صرف انٹلی جنس ایجنسی ، پولیس اور حکومت کے درمیان رابطہ کی کڑی کے طور پر کام کرنا چاہئے۔

وزیراعلی اشوک چوان کے ساتھ ہی ریاستی وزیر داخلہ جینت پاٹل نے اس رپورٹ کو منظر عام پر لائے جانے کی ایک الگ ہی وجہ بتائی ان کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے ایسے میں اس رپورت کے منظر عام پر آنے کی وجہ سے اس مقدمپ پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔

بہر حال سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسمبلی الیکشن قریب ہیں اور اس لیے حکومت اپنی کوتاہیوں کو عوام کو سامنے لانے کی ہمت یا بے وقوفی نہیں کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں