سات کروڑ بچے تعلیم سے محروم

Image caption بھارت کو حال ہی میں ایک تجزیے میں بھوک کا مرکز کا قرار دیا گیاہے۔

بھارت کی پارلیمان نے ایک قانون کی منظور دی ہے جس کے تحت چھ سے چودہ سال کے درمیان بچوں کے لیے تعلیم لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

اس قانون کے تحت ملک بھر میں ہر گاؤں اور قصبے میں نئے سکول کھولیں جائیں گے جبکہ نجی سکولوں کو غریب بچوں کے لیے پچیس فیصد سیٹیں کے مختص کرنا پڑیں گی۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں سات کروڑ بچوں کو سکول جانا نصیب نہیں ہوتا۔

دوسری طرف بھارت کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارے یونسیف کی غریب بچوں میں کروڑوں روپے کی غذائی امداد کی تقسیم کو فوری طور پر روک دیا گیا۔

بھارت کی سرکار کے مطابق یونسیف نے بچوں میں غذائی امداد کی تقسیم سے پہلے اجازت نہیں لی تھی۔

ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ یونسیف نے زیادہ غذایت والی یہ خوراک برآمد کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت نہیں لی تھی۔

یونسیف کا کہانا ہے کہ خوراک کی کمی کا شکار بچوں کے لیے یہ زیادہ غذایت والی خوراک بہت کارگر ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ خوارک کی کمی یا بھوک سے متاثرہ بچوں کو موت سے بچانے کے لیے یہ خوراک عالمی ادارہ صحت نے منظور کی ہے۔

بھارت میں بھوک سے متاثرہ یا خوراک کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

یونسیف بھارت کی ریاستوں بہار اور مدھیہ پردیش میں یہ خوراک تقسیم کر رہا تھا۔