وہ کراچی سےآئے تھے، ایف بی آئی افسر

اجمل امیر قصاب
Image caption ممبئی حملوں سےمتعلق خصوصی عدالت میں جو مقدمہ چل رہا ہے اس میں اجمل امیر قصاب اہم ملزم ہیں

فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( ایف بی آئی ) کے ایک افسر نے ممبئی حملوں کی خصوصی عدالت میں بیان دیا ہے کہ گلوبل پوزیشننگ سسٹم کےڈیوائس سے پتہ چلا ہے کہ ممبئی چھبیس نومبر کے حملہ آور کراچی سے آئے تھے۔

ایف بی آئی کے فورینسک ماہر جن کی شناخت مخفی رکھی گئی ہے، آج عدالت میں جج ایم ایل تہیلیانی کے سامنے کہا کہ انہیں فروری میں ممبئی پولیس کی جانب سے سیل بند پانچ جی پی ایس سسٹم اور ایک سٹیلائیٹ فون بھیجاگیا تھا۔ جس میں سے دو جی پی ایس سسٹم کی بیٹری خراب ہوگئی تھی اس لیے تین سسٹم کی جانچ کی گئی ہے۔

اس کی جانچ سے پتہ چلا کہ اس سسٹم میں سمندری راستے کا پورا نقشہ فیڈ کیا ہوا تھا۔ افسر کے مطابق ایک مرتبہ نقشہ فیڈ کر دیا جائے تو مشین اپنے آپ راستہ بتاتی ہے۔ افسر کے مطابق مشین اپنے طور پر جانے کا راستہ بھی ریکارڈ کر لیتی ہے۔

ایف بی آئی افسر نے عدالت میں گواہی کے دوران مزید کہا کہ سیٹیلائٹ فون سے جو ڈاٹا حاصل کیا ہے اس کے مطابق اس فون پر دو کال موصول کی گئی تھی جو ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ایک مس کال تھی۔

ممبئی پولیس نے جی پی ایس سسٹم اور سیٹیلائٹ فون ہوٹل تاج ہوٹل ٹرائیڈنٹ اور کشتی ایم وی کوبیر سے حاصل کیا تھا۔

ممبئی حملوں کے کیس میں پہلی مرتبہ کسی غیر ملکی کی گواہی عدالت میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ جمعرات کے روز صبح ساڑھے نو بجے ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ یاما کمپنی کے کسی ذمہ دار شخص کی گواہی ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعہ ریکارڈ کی جائے گی جس کے لیے عدالت میں تین بڑے سکرین لگائے گئے ہیں۔

ممبئی حملوں کی تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ نے جی پی ایس سسٹم اور سیٹیلائٹ فون کال فونکس کیجانچ کے لیے ایف بی ئی کی مدد حاصل کی تھی۔

ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت ممبئی کے سینٹرل آرتھر روڈ جیل میں جاری ہے۔ اس کیس میں ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچے حملہ آور اجمل امیر قصاب کے علاوہ ممبئی کے دو ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین شیخ بھی اس مقدمہ کے ملزمین ہیں ان پر حملوں کی سازش رچنے والوں کو ممبئی کا نقشہ فراہم کرنے کا الزام ہے۔

اسی بارے میں