’تقسیم کے لیے نہرو بھی ذمہ دار‘

جسونت سنگھ
Image caption میری کتاب تحقیق پر مبنی ہے اس لیے یہ متنازعہ نہیں ہوگی: جسونت سنگھ

بھارت کے سابق وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے اپنی نئی کتاب ’جناج : انڈیا، پارٹیشن، انڈیپینڈنس‘ میں سن انیس سو سینتالیس میں تقسیم ہند کےلیے بھارت کے سابق وزیراعظم پنڈت جواہر نہرو کو ’اصل معمار‘ بتایا ہے۔

جسونت سنگھ کی کتاب آئندہ ہفتہ ریلیز ہوگی جس کے اہم اقتباسات بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئے ہیں۔ مسٹر سنگھ کے مطابق پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح سیکولر اور ’ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھے۔‘

اپنی نئی کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ محمد علی جناح ’سنہ انیس سو پینتالیس تک ہندو مسلم مسائل کو فرقہ پرستی کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے وہ اسے قومی مسئلہ سمجھ کر اسے حل کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔‘

انہوں نے لکھا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو ’اصولی معمار یعنی حقیقت میں تقسیم ہند کی دستاویزات تیار کرنے والے تھے۔‘

اس کتاب کو ہندوستان کی مشہور پبلشنگ کمپنی روپا اینڈ کمپنی نے شائع کیا ہے۔ اس کے اجراء سے پہلے ہی کتاب کے اہم اقتباسات میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔

پبلشنگ کمپنی کی ایڈیٹر سنجنا نے ایک سوال کے جواب میں بی بی سی کو بتایا کہ ان کی معلومات کی حد تک ’یہ تمام باتیں جسونت سنگھ کی کتاب میں کہی گئی ہیں۔‘

جسونت سنگھ اپنی نئی کتاب کو اپنی پانچ برس کی تحقیق کی کاوش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے لکھنے کے لیے انہوں نے دنیا کی مختلف لائبریریوں کی خاک چھانی ہے اور ان کا کام ’رائیگاں نہیں جائیگا۔‘

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی نے بھی ایک بار اپنے بیان میں بانی پاکستان محمد علی جناح کو سیکولر بتایا تھا جس پر ہندوستان میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔ خاص طور ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس نے ان پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔

اپنی کتاب کے متعلق بی بی سی سے بات چیت میں ایک بار مسٹر سنگھ نے کہا تھا کہ ان کی کتاب تحقیق پر مبنی ہے اس لیے اس سے کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن جو باتیں انہوں نے کہی ہیں اس سے ان کی پارٹی ابھی سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگی ہے۔

بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاوڈیکر نے اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کتاب نہیں پڑھی ہے ’اس لیے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے لیکن جناح کے متعلق پارٹی کا موقف واضح ہے اور وہ اس پر قائم ہے۔‘

بھارتیہ جنتا پارٹی میں جسونت سنگھ ہی ایک ایسے بڑے رہنما ہیں جن کا تعلق آر ایس ایس سے نہیں رہا ہے۔ چونکہ ابھی کتاب منظر عام پر نہیں آئی ہے اس لیے اس پر کوئی سخت رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن اس بات کا امکان ہے کہ تقسیم کے سوال پر نہرو اور پٹیل کے متعلق جو باتیں جسونت سنگھ نے کہیں ہے اس سے ایک نئی بحث چھڑے گي اور اس بحث کو حکمراں جماعت کانگریس ہوا دے سکتی ہے۔

ہندوستان میں بانی پاکستان محمد علی جناح کو عموماً تقسیم کا معمار مانا جاتا ہے اسی لیے انہیں بھارت میں پذیرائی حاصل نہیں۔ آر ایس ایس تقسیم ہند کے لیے مسٹر جناح کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے اس لیے امکان ہے کہ جسونت سنگھ کو ان کی طرف سے سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑے۔

اسی بارے میں