اسرو: چاند پر پانی، بڑی کامیابی

چندریان فائل فوٹو
Image caption چندریان مشن محض چند ماہ ہی میں ختم ہوگیا

ہندوستان کے خلائی ادارے اسرو نے خلائی مشن چندریان کو چاند پر پانی کے شواہدملنے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

اسرو کے سربراہ جی مادھو نارائن نے کہا کہ چندریان نے توقع سے زیادہ چاند پر پانی پایا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہندوستان کو اس بات پر فخر ہونا چاہے کہ چندریان نے چاند پر پانی کی دریافت کو ممکن بنایا ہے۔

انکا کہنا تھا ' ہم پورے یقین سے یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن یو تو صرف شروعات ہے'۔

ہندوستانی سائسندانوں نے اس دریافت کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ چاند پر کتنا پانی ہے اور کیا یہ چاند پر زندگی بتانے کے لیے کافی ہے اس کے لیے مزید دریافت کی ضرورت ہے۔

امریکیی خلائی ادارے ناسا نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ بھارتیہ خلائی مشن چندریان سے بھیجے گئے آلات نے جو معلومات جمع کی ہیں اس سے چاند پر پانی کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔

اس مشن پر نصب امریکی آلات نے جو معلومات جمع کی ہے اس کی بنیاد پر امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہاں اتنا پانی مل دستیاب ہوسکتا ہے کہ چاند پر ایک کالونی آباد کی جاسکے۔ لیکن فی الحال چاند کی زمین ریگستانوں سے بھی زیادہ خشک ہے۔

چاند پر بھیجےگئے پہلے بھارتی خلائی جہاز چندریان کا مشن وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔

چندریان کو تقریباً دس ماہ قبل دو برس کے لیے چاند پر بھیجا گیا تھا لیکن مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اس سے رابطہ ختم ہوگیا۔

بھارت کی طرف سے خلا نورد کے بغیر پرواز کرنے والے خلائی جہاز چندریان کو جب پہلی بار چھوڑا گیا تھا تو اس کی کامیابی پر کافی خوشیاں منائی گئی تھیں۔ لیکن تھوڑے دن بعد ہی اس میں خرابی آنے کی وجہ سے بھارت کے چاند مشن کو دھچکا لگا تھا۔

تمل ناڈو کے نزدیک اور آندھرا پردیش کی سرحد پر واقع شری ہری کوٹا ستیش دھون خلائی مرکز سے چندریان کو 22 اکتوبر 2008 کو روانہ کیا گیا تھا۔ مشن کے لانچ کے وقت سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ چندریان -1 چاند کی سطح سے سو کلومیٹراوپر معلق رہے گا۔

اس مشن کے لیے یورپی خلائی ایجنسی اور امریکی خلائی ایجنسی (ناسا) سے اشتراک کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا۔

اسی بارے میں