کیا بھارت چین سے آگے نکل سکتا ہے؟

Image caption بھاتی کی معیشت پر عالمی اقتصادی بحران کا اثر نہیں پڑا تھا

اقتصادی ماہرین کے مطابق دو ہزار دس ميں ہندوستان کی معیشت چین سے زيادہ تیز رفتار سے ترقی کر سکتی ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنوبی ایشیاء مشرقی ایشاء سے بھی آگے جا سکتا ہے۔

ان حالات میں کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ بھارت چین سے آگے نکل جائے۔ سوچنے ميں تو یہ ممکن نہيں لگتا ہے لیکن شاید ایک دن آئے کہ یہ خواب ایک حقیقت بن جائے۔

ان ماہرین کی کوئی کمی نہیں ہے جو چین کی تیزی سے ترقی کر رہی معیشت کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہيں کہ یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا لیکن ایک اور طبقہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ بھارت اور چین جیسی دو معیشتیں جس طرح ترقی کر رہی ہیں اس کا رخ کبھی بھی بدل سکتا ہے اور اس طرح یہ کوئی ناممکن بات نہیں ہے کہ ایک دن بھارت چین سے آگے نکل جائے۔

دنیا کی کل ساڑھے چھ ارب آبادی کا چالیس فیصد حصہ چین اور بھارت میں آباد ہے۔ بھلے ہی یہ دونوں معیشتیں اس وقت دنیا کی سب سے تیز رفتار معیشتیں نہيں ہیں لیکن ان معیشتوں نے اس وقت ترقی درج کی ہے جس وقت دنیا عالمی بحران سے گزر رہی تھی۔

Image caption چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پاٹنر بن گیا ہے

انیس سو پچاس کے عشرے ميں بھارت اور چین میں ہر آدمی کی آمدنی اور معاشی ترقی کی سطح میں خاص فرق نہيں تھا۔ اس وقت ان ملکوں کی آدھے سے زیادہ آبادی غربت کی زندگی گزار رہی تھی۔

1970 کے عشرے سے چین کی معیشت نے تیزی سے ترقی کرنی شرو ع کر دی لیکن ہندوستان کی معیشت سسست رفتار سے ترقی کرتی رہی اور 3.5 فیصد کی شرح سے ترقی درج کی۔

جہاں چین کی معیشت چالیس برسوں تک دس فیصد سے اوپر کی شرح سے ترقی کرتی رہی وہیں انیس سو نوے کے عشرے میں بھارتی حکومت کی جانب سے کھلی معیشت کی طرف رخ اختیار کرنے کے بعد بھارتی معیشت نے بھی رفتار پکڑنا شروع کر دیا۔

اسی وقت آزادی کے بعد پہلی بار ہندوستان کی معیشت کی ترقی کی شرح نو فیصد پر پہنچ گئی اور یہ سلسلہ حالیہ دنوں ميں آئے عالمی بحران تک جاری رہا۔

اقتصادی ماہرین بھارت کی معیشت کی ترقی کی شرح میں تیزی آنے کی ایک وجہ ' بیس افیکٹ ' بتاتے ہیں یعنی ہندوستان کی ترقی کی شرح اس لیے زیادہ ہے کیونکہ جس بنیاد پر ترقی کی شرح نکالی جاتی ہے اس کا دائرہ چھوٹا ہے۔

چین کی مجموعی داخلی پیداوار بھارت سے ساڑھے تین گنا زيادہ ہے لیکن بھارت پر موجودہ عالمی اقتصادی بحران کا اثر نہ پڑنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ بھارت میں برآمد سے ہونے والی آمدنی مجموعی گھریلو پیداوار کی محض پچاس فیصد ہے جبکہ چین ميں یہ اسّی فیصد ہے۔

Image caption چین کی مجموعی گھریلو پیدا وار کی اسّی فیصد آمدنی درآمدگی اور برآمدگی پر منحصر ہے

دو برس قبل امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن گیا تھا۔

وہیں جون میں ورلڈ بینک نے گلوبل ڈویلپمنٹ فنانس کی 2009 کی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2010 میں ہندوستان کی معیشت 8 فیصد کی رفتار سے چین سے زيادہ تیز رفتار سے ترقی کرے گی۔

اسی بینک کے چیف اقتصادی ماہر جسٹن لین کا کہنا تھا ' ترقی پذیر ممالک دنیا کو اقتصادی بحران سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کريں گی۔

وہیں حال میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل اجے چھبر نے دلی میں ایک سیمنار میں کہا ' میں نے اپنی زندگی ميں نہيں سوچا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ جنوبی ایشاء مشرقی ایشاء سے زیادہ رفتار سے ترقی کرے۔'

اسی بارے میں