ہیمنت کرکرے کا قتل کس نے کیا؟

ہیمنت کرکرے
Image caption ہیمنت کرکرکے دیگر دو پولیس افسران کے ہمراہ ممبئی حملوں کے دوران مارے گئے تھے

مہاراشٹر پولیس فورس کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس ایم مشرف کی کتاب ’ہو کلڈ کرکرے؟ دی ریئل فیس آف ٹیررازم ان انڈیا‘ یعنی کرکرے کا قتل کس نے کیا، ہندوستان میں دہشت گردی کا اصل چہرہ، اس وقت انٹیلی جنس بیورو، ذرائع ابلاغ اور عوام میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

مشرف نے اپنی کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ شروع کے اسباق میں انہوں نے ملک میں پھیلے اس برہمن ذہنیت کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے جن کی وجہ سے اس وقت ملک کی سلامتی کو خطرہ ہے اور جس کی جڑیں اب ملک کی خفیہ ایجنسی انٹلی جنس بیورو میں اندر تک پھیل چکی ہیں۔ مشرف کے مطابق اس ذہنیت کے لوگوں نے ملک کی علاقائی زبان کے میڈیا کو قبضہ کر رکھا ہے۔

مشرف نے مہاراشٹر میں ہوئے بم دھماکوں کے لیے ایسی ہی برہمن ذہنیت اور انتہا پسند نظریات رکھنے والی تنظیموں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جو بم دھماکے کر کے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے اور پورے ملک میں مسلم مخالف لہر پیدا کرنے کا مقصد حاصل کر رہے ہیں اور اس میں ان کے معاون ہیں آئی بی کا پورا کیڈر۔

کتاب میں ان کا موقف ہے کہ تین واقعات کو وہ مسلمانوں سے منسلک کر سکتے ہیں۔ انیس سو ترانوے بم دھماکہ، کوئمبتور بم دھماکہ اور قندھار طیارہ ہائی جیک کیس۔ ان کے مطابق انیس سو ترانوے میں بم دھماکہ بابری مسجد انہدام کے بعد ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے بدلہ کے طور پر چند مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد نے کرائے تھے اور کوئمبتور دھماکہ کو بھی وہ اسی زمرے میں رکھتے ہیں البتہ قندھار طیارہ ہائی جیک کو وہ دہشت گرد کارروائی قرار دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرف نے ملک میں ہوئے دیگر بم دھماکوں کو اسی برہمن واد ذہنیت کی تنظیموں کا کارنامہ قرار دیا جسے ہیمنت کرکرے نے بے نقاب کرنے کی جراءت کی تھی۔

کرکرے جنہوں نے مالیگاؤں بم دھماکہ کے الزام میں گرفتار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت ، سوامی دیا نند پانڈے سمیت گیارہ ملزمین کو گرفتار کیا تھا اور ان کے بارے میں عدالت میں داخل کی گئی فرد جرم کے مطابق یہ تمام افراد اپنی تنظیم ابھینو بھارت ، جن جاگرن سمیتی،اور دیگر ہندو سخت گیر تنظیموں کے بینر تلے ایک ہندو راشٹر بنانے کی کوشش میں تھے۔ جس کے لیے انہوں نے نیپال کے سابق راجہ سے مذاکرات کیے تھے۔ فرد جرم میں اسرائیل کا ذکر نہیں ہے جبکہ کرکرے نے مرنے سے قبل صحافیوں سے اس کا ذکر کیا تھا جس کی خبریں اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں اور مشرف نے اسے بھی اپنی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔

Image caption ممبئی حملوں میں پاکستان کے بعض شدت پسندوں کو ملوث پایا گیا لیکن ہیمنت کرکرے کی موت پر سوالات اٹھے۔

مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بابری مسجد انہدام اور گجرات فسادات کے بعد جب ان برہمن ذہینت رکھنے والوں کو ان کا مقصد حاصل نہیں ہوا تو انہوں نے پھر مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ایک طرف ملک میں کئی مقامات پر بم دھماکے کرانے شروع کیے تو دوسری جانب ہر ہفتے اخبارات میں آئی بی کے حوالے سے خبریں شائع ہونے لگیں کہ مختلف مسلم تنظیمیں اب دہلی ممبئی اور ملک کے بیشتر خفیہ ٹھکانوں پر حملے کرنے والے ہیں۔

یہاں مشرف نے ایک خبر کی مثال دی جس میں امریکہ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ القاعدہ ممبئی اور دہلی پر حملے کرنے والی ہے۔ دوسرے روز امریکہ نے اس خبر سے انکار کیا تھا۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار سے اب تک ملک میں ہوئے بم دھماکہ انہی برہمن خیالات کی حامل تنظیموں نے کرائے ہیں۔ اس میں انہوں نے ناندیڑ بم دھماکہ ، ٹرین بم دھماکہ اجمیر شریف بم دھماکہ ، مالیگاؤں بم دھماکے اور احمد آباد بم دھماکوں کی مثال دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ کام کس طرح ان برہمن ذہنیت کی تنظیموں نے کیا ہے۔

مشرف کا کہنا ہے کہ جب بھی کہیں بم دھماکہ ہوتا ہے ، ایجنسیاں فوراً بغیر ثبوت کے رٹے رٹائے انداز میں مسلم تنظیموں کا نام لینا شروع کر دیتی ہیں۔ آئی بی پولیس تفتیش میں بلاوجہ مداخلت کرتی ہے۔ انہوں نے گیارہ جولائی سن دو ہزار چھ کے ٹرین بم دھماکوں کی مثال دی کہ جب مبینہ طور پر بے قصور افراد کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس افسران پر دباؤ ڈالا جانے لگا تو ایک انسپکٹر ونود بھٹ نے خود کشی کر لی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کو فرضی پولیس مقابلوں میں ہلاک کرنے سے قبل اس شخص سے ڈائری لکھوائی جاتی ہے نقشے بنوائے جاتے ہیں کسی ساتھی کو فون کروایا جاتا ہے وغیر وغیرہ۔۔۔

مشرف نے اپنی کتاب میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح ہندو سخت گیر تنظیمیں بم بنانے اور ملٹری سکول میں انہیں ہر طرح سے لڑنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ مشرف کے مطابق یہ برہمن نواز تنظیمیں آر ایس ایس سے زیادہ خطرناک ہیں۔

مشرف نے کے پی ایس رگھوونشی کی سربراہی میں مہاراشٹر کی انسداد دہشت گردی عملہ، اترپردیش کی ایس ٹی ایف، دہلی پولیس کی سپیشل سیل سمیت جموں کشمیر پولیس کے کچھ حصہ کی کارکردگی پر شک و شبہات ظاہر کیے ہیں۔

مشرف نے شروع سے ہی اپنی کتاب میں ملک کی انتہائی اہم خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے ہیں کہ اس ایجنسی میں برہمن واد کیڈر ہے جو ملک کو اور حکومت کو مسلمانوں کے خلاف گمراہ کرتا آیا ہے۔ اس کی جڑیں اس حد تک اندر تک پھیلی ہیں کہ جو سیکولر افسران ہیں ان کی آواز دبا دی جاتی ہے اور کبھی تو انہیں پتہ تک نہیں لگتا کہ آخر حقیقی معنوں میں کیا ہو رہا ہے۔

مشرف نے اسی پس منظر میں ممبئی حملوں میں ہیمنت کرکرے کے قتل پر شک و شبہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے چند سوالات اٹھائے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ اگر یہ جھوٹ ہیں تو حکومت اس کی تفتیش کرے۔انہوں نے لکھا ہے کہ آئی بی نے امریکی خفیہ ایجنسی کی ممبئی حملوں کی خبر کو مہاراشٹر یا ممبئی پولیس کے ساتھ ساتھ ویسٹرن بحریہ کمانڈ کو بھی نہیں دی تھی۔

ان کے مطابق ممبئی حملوں کے لیے سمندری راستے سے آنے والوں کو ایک ماہی گیر عورت نے دیکھا تھا اور اس کے مطابق وہ سب چھ افراد تھے۔ مشرف جواب طلب کرتے ہیں کہ کرائم برانچ نے اس عورت کی گواہی کیوں نہیں لی اور اسے تفتیش کا حصہ کیوں نہیں بنایا؟

مشرف کا دعوی ہے کہ اصل حملہ آور صرف ہوٹل تاج ، ہوٹل ٹرائیڈینٹ ، کیفے لیوپولڈ، اور ناریمان ہاؤس تک محدود تھے کیونکہ حملے کے دوران حملہ آور مبینہ طور پر پاکستان میں بیٹھے اپنے ساتھیوں سے جو ہدایت لے رہے تھے وہ انہی مقامات کے لیے تھی کسی بھی جگہ سی ایس ٹی یا رنگ بھون کا ذکر نہیں تھا۔ مشرف یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان حملوں کا فائدہ اٹھا کر ایک منصوبے کے تحت کرکرے کو رنگ بھون کی گلی میں قتل کیا گیا۔ اپنے اس دعویٰ کے جواز میں مشرف نے کئی مثالیں دی ہیں۔ مشرف نے کرکرے کے فون کے ریکارڈ کی جانچ کرنے کے لیے کہا ہے۔

مشرف نے سی ایس ٹی ریلوے سٹیشن پر کھینچی گئی تصویر پر بھی شک و شبہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گرگام چوپاٹی پر جو حملہ آور تھے انہیں مڈبھیڑ میں ہلاک کیا جا چکا تھا اور اجمل قصاب کو تین سال پہلے ہی نیپال میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ وہی قصاب ہے۔

پونے میں رہائش پذیر مشرف نے اس پوری کتاب پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دلائل پیش کرنے کی کوشش کی کہ جو کچھ کتاب میں لکھا ہے وہ تمام باتیں انہوں نے حالانکہ اخبارات کی خبروں کو بنیاد بنا کر پیش کی ہیں لیکن جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ اپنی تیس سال سے زائد آئی پی ایس کی ملازمت کے تجربہ سے حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی باتیں غلط لگتی ہیں تو حکومت اس کی تفتیش کرے لیکن تفتیش کسی غیر جانبدار سیکولر ایسے کمیشن سے کرائی جائے جو برہمن ذہینیت سے متاثر نہ ہو۔ آئی بی برہمن واد کے شکنجے میں ہےاس پر مشرف کا کہنا تھا کہ آئی بی کے دو اعلی سبکدوش افسران نے جب آئی بی کی کارکردگی پر کتابیں لکھیں تو ان پر آئی بی نے کیس کر دیا ہے لیکن ان کے ساتھ کیا رویہ ہو گا اس کی انہیں پراوہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں