جیوتی باسو، سیاست کا افسانوی کردار

جیوتی باسو
Image caption جیوتی باسو ایک کامیاب سیاست دان کے طور پر یاد کیے جائیں گے

انیس سو چھیانوے کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے شاید ہی کسی نے جیوتی باسو کے بارے میں سوچا ہوگا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے ایک ایسے رہنما تھے، جن کا اثر ملک کی محض تین ریاستوں تک محدود تھا بلکہ اس لیے کہ قومی سیاست میں ان کا کردار صرف پارٹی کی مرکزی کمیٹی اور پولٹ بیورو کی میٹنگوں میں شرکت تک محدود تھا۔

جیوتی باسو انتقال کر گئے

لیکن جیسے جیسے ہندوستان کےسیاسی نظام میں مسابقت بڑھتی گئی اور کسی ایک سیاسی جماعت کی اجارہ داری ختم ہوتی گئی، بعض علاقائی سیاسی جماعتوں کی قسمت بھی چمکنے لگی۔

لیکن جیوتی باسو کا ستارہ نہیں چمکا۔ جب بائیں بازو کی قیادت میں علاقائی جماعتیں اور پسماندہ ذاتوں کی جماعتیں ایک ساتھ جمع ہوئیں تو جیوتی باسو کو متفقہ طورپر وزارت عظمٰی کا امیدوار منتخب کیا گیا۔ مغربی بنگال میں ایک طویل عرصے تک بائیں بازو کی جماعتوں کی مخلوط حکومت چلانے کا ان کا تجربہ بہت اہمیت کا حامل تھا اور بیشتر جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ کہ وہ اپنے تجربے سے وفاق میں درجنوں جماعتوں کی مخلوط حکومت چلانے کے اہل ثابت ہونگے۔

لیکن جیوتی باسو کی پارٹی، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی سوچ اس کے بر عکس تھی۔ اس نے مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے بجائے باہر رہ کر اس کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح باسو کے وز یر اعظم بننے کا یہ موقع ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ انہوں نے بعد میں اپنی پارٹی کے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا تھا۔

Image caption جوانی کی عمر میں ہی انگریزوں کے خلاف جد و جہد شروع کر دی تھی

جیوتی باسو کی پیدائش 8 جولائی 1914 کو مشرقی بنگال (جو اب بنگلہ دیش ہے) کے ایک خوشحال متوسط خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کا بچپن بہت اچھا گزرا۔ انہوں نے کولکتہ کے کیتھولک سکول اور سینٹ زیویر کالج میں تعلیم حاصل کی۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے اپنے دوستوں کے ہمراہ کولکتہ کے ایک ایسے کلب پر دھاوا بولا تھا جو صرف انگریزوں کے لیے مخصوص تھا۔

انہوں نے لندن سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور 1930 کے عشرے میں سرکردہ برطانوی کمیونسٹ لیڈر رجنی پام دت سے وابستگی کے بعد کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ ریلوے ورکرز فیڈریشن میں اپنی سرگرمیوں کے سبب پہلی بار نوٹس میں آئے۔

1957 میں وہ مغربی بنگال اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما منتخب ہوئے۔ 1967 میں بائیں بازوکے غلبے والی متحدہ محاذ کی حکومت میں وہ وزیر داخلہ مقرر ہوئے۔ لیکن مخلوط حکومت زیادہ روز نہیں چل سکی اور نکسلی تشدد کی زبردست لہر کے بعد مغربی بنگال میں صدر راج نافذ کر دیا گیا۔

لیکن جب 1977 میں کمیونسٹ پہلے سے بہتر حالت میں اقتدار میں آئے تو جیوتی باسو کو متفقہ طور پر وزیر اعلی منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے پہلے منتخب رہنما بن گئے۔ وہ تئیس برس تک مغربی بنگال کے وزیر اعلی رہے اور جب ان کی صحت خراب ہونے لگی تو ان کی جگہ موجودہ وزیر اعلی بدھ دیو بھٹا اچاریہ نے لی۔ اس طرح وہ دنیا کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے پہلے منتخب کمیونسٹ رہنما تھے۔

دنیا کے دیگر ملکوں کے کمیونسٹ رہنماؤں کے برعکس باسو 23 برس تک اقتدار میں رہنے کے بعد اپنی مقبولیت کے عروج پر اپنی مرضی سے سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ باسو کی حکومت ریاست میں کئی اہم کامیابیوں کا دعویٰ کر سکتی ہے۔

1970 کے عشرے میں نکسلی تحریک اور اس پر قابو پانے کے لیے پر تشدد ٹکراؤ ہوا تھا جو ریاست میں سیاسی عدم استحکام کا سبب بن گیا تھا۔ باسو کی سب سے بڑی کامیابی ریاست میں سیاسی استحکام کی شکل میں سامنے آئی۔ ان کی حکومت نے زمینی اصلاحات کا عمل شروع کیا اور اسے کامیابی کے ساتھ نافذ کیا۔

اس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ بے زمین کسان زمینوں کے مالک بن گئے۔ حکومت دیہی علاقوں میں محض بیس برس کے عرصے میں غربت میں 25 فی صد کمی لانے میں کامیاب ہوئی۔ اس نےگاؤں اور مقامی سطح پر خود انتظامی کے نظام پر توجہ دے کر عام لوگوں کے جمہوری حقوق کو تقیوت بخشی۔ یہی نہیں حکومت نے مغربی بنگال کی زرعی اور مچھلیوں کی پیداوار میں زبردست اضافہ کیا۔

لیکن جیوتی باسو کو اپنے دورِ اقتدار میں بہت سی ناکامیاں بھی دیکطنا پڑیں۔ ان کی حکومت سخت گیر ٹریڈ یونین پر کنٹرول کرنے، صنعت کو فروغ دینے اور بیرونی سرمایہ کاری کو لانے میں ناکام رہی۔ وہ بنگال کے تعلیم یافتہ اور تکنیکی ماہرین کی صلاحیتوں کو جنوبی ریاست کرناٹک یا آندھرا پردیش کے طرز پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے استعمال کرنے سے قاصر رہے۔

سرمایہ کاری کے لیے بیرونی ممالک کی کمپنیوں کے ساتھ سینکڑوں معاہدے ہوئے لیکن سخت گیر ٹریڈ یونینز کی وجہ سے ان پر کبھی بھی عمل نہیں ہوسکا۔ وہ اپنی آخری کابینہ کی میٹنگ تک سخت گیر یونینز کے خلاف لڑتے رہے اور بالآخر بڑی مشکل کے بعد کولکتہ کا سرکاری ’گریٹ ایسٹرین ہوٹل‘ فرانس کی ایک کمپنی ’اکورا ایشیا‘ کو دینے کی ان کی تجویز منظور کرلی گئی۔

جیوتی باسو کو سخت گیر شوشلسٹ کی بجائے فیبن ازم کاحامی تصور کیا جاتا تھا اور وہ اتفاق رائے سے کام کے لیےجانے جاتے تھے۔وہ دوسرے کی رائے کا احترام کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ مخلوط حکومت کو بڑی خوبی سے چلاتے رہے۔ وہ اپنے فیصلوں کا نفاذ حتمی طور پر کرتے تھے لیکن ان کے کام کرنے کا طریقہ آمرانہ نہیں تھا۔ سبیہ ساچی رائے باسو کے مطابق جیوتی باسو نے ’کمیونزم کو اس مقام پر پہنچایا جہاں لوگ اسے عزت کے مقام سے دیکھنے لگے‘۔

اخبار ٹیلیگراف کے پولیٹیکل ایڈیٹر اشیش چکرورتی کا کہنا ہے کہ جیوتی باسو کمیونسٹ سے زیادہ ایک معقولیت پسند دکھتے تھے ’لیکن ان کی کامیابی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سماجی جمہوریت یا سوشل ڈینوکریسی کا مستقل روشن ہے اور کمیونزم کا نہیں‘۔

جیوتی باسو سیاسی سطح پر اور کامیاب ہوتے اگر سنہ انیس سو چھیانوے میں انہیں وزیراعظم بننے کا موقع دے دیا جاتا۔ اس وقت مرکز میں انہیں مخلوط حکومت کا وزیراعظم بننے کی دعوت ملی لیکن ان کی جماعت نے یہ کہہ کر اسے مسترد کردیا تھا کہ اس حکومت میں کمیونسٹ پارٹی فیصلوں میں اتنی زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ مسٹر باسو کے لیے صرف وہی ایک واحد موقع تھا جب وہ وزیراعظم بن سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا جس پر پارٹی کو آج بھی افسوس ہے اور اس فیصلہ کو تاریخ کا سب سے ’برا باب‘ کہا جا تا ہے۔

باسو نے پارٹی کے اس فیصلہ کو تو تسلیم کرلیا تھا لیکن اس شرط پر کہ وہ بطور وزیراعلی ہی ریٹائر ہوں گے۔

اسی بارے میں