گجرات کے پالیتانہ میں جین مندر

جین مندر
Image caption جین مذہب بھی ہندو مذہب سے ملتا جلتا ہے

بھارت کی ریاست گجرات میں پالیتانا شہر جین مذہب کے عقیدت مندوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے جہاں تقریبا پندرہ سو شاندار مندر ہیں۔

پہاڑی کی گود میں مندر ایک دوسرے کے آس پاس اس طرح بنائے گئے ہیں کہ ننگے پاؤں چلنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ بیشتر مندروں کی تعمیر پتھروں اور سنگ مرمر سے کی گئی ہے۔

جین مذہب کے پیروکار اس شہر کی طرف سب سے زیادہ متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہاں ایک ہی جگہ اتنی تعداد میں مندر موجود ہیں۔ دنیا میں تقریبا ایک کروڑ لوگ جین مذہب کے ماننے والے ہیں جن میں سے تقریبا پانچ لاکھ جین ہر برس ان مندروں کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

جین مذہب کا بنیادی عقیدہ عدم تشدد اور ہر جاندار شئے کے ساتھ پیار و محبت کے ساتھ پیش آنے پر مبنی ہے۔

اس مذہب کی ابتدا بھی قدیم بھارتی تہذیب کا حصہ ہے اس لیے مذہبی رسومات ہندو مذہب سے ملتی جلتی ہیں۔ ہندوؤں کی طرح جین لوگ بھی یہ مانتے ہیں کہ خاص مندروں کی زیارت ان کے اہم فرائض میں سے ہے اور نجات پانے میں یہ زیارتیں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مندر اونچی پہاڑیوں پر تعمیر کیے جاتے ہیں۔

Image caption پہاڑ کی اونچائی پر مندر ایسے بنائےگئے کہ ننگے پیر چلنا مشکل نہیں ہے

پالیتانا کے زائرین بیشتر ہندوستانی ہوتے ہیں لیکن بہت سے امریکہ اور یوروپ سے بھی آتے ہیں۔ برطانیہ کے ایک شہری انیس سالہ منیش شاہ کہتے ہیں ’میں نے اپنے والدین سے اس مندر کے متعلق بہت کچھ سنا تھا۔ حقیقت میں یہاں پہنچنا اور میرا خود کا تجربہ ایک بہترین احساس ہے‘۔

پالیتانا کے یہ بیشتر مندر گیارہویں یا بارہویں صدی عیسویں میں تعمیر کیےگئے تھے۔ اور ان تک پہنچنے کے لیے کافی اوپر چڑھنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے تقریباً تین سو قدم اوپر جڑھنا پڑتا ہے۔

بوڑھے لوگ جو اوپر نہیں چڑھ سکتے انہیں خصوصی انتظام کے ذریعے اوپر چڑھایا جاتا ہے۔

اس عمل میں کئی بار دو دو گھنٹے کا وقت لگ جاتا ہے لیکن بیشتر جین زندگی میں ایک بار ایسا ضرور کرتے ہیں اور جو بہت زیادہ راسخ العقیدہ ہوں وہ ایسا نناوے بار کرتے ہیں۔

مندر کے ایک متولی کا کہنا تھا ’ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارے بھگوان اس پہاڑی پر ننانوے بار چڑھے تھے اور ایک اچھے جین عقیدت مند کے لیے اسے دھرنا ضروری ہے‘۔

Image caption جو لوگ مندر پر نہیں چـڑھ پاتے انہیں مختلف طریقوں سے اوپر پہنچایا جاتا ہے

پالیتانا میں جین عقیدت مندوں کے خیراتی ہسپتال بھی ہیں جہاں معذور لوگوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ جن کے ہاتھ پیر نہیں ہیں انہیں مصنوعی ایسے اعضا لگائے جاتے ہیں اور بہت سے معذوروں کو ان کی سہولیات کی مناست سے کرسیاں تقسیم کی جاتی ہیں۔

دنیا بھر سے آنے والے رضاکار یہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی مدد کرتے ہیں۔ ’رتناندھی چیریٹیبل ٹرسٹ‘ کی آشا مہتا کہتی ہیں ’ہمارا جین مذہب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدد کریں جو بہت مجبور ہیں۔ کچھ برس پہلے ہمیں پتہ چلا کہ ہندوستان میں بے سہارا معذور بڑی تعداد میں ہیں اس لیے ہم نے ان کی مدد کے لیے یہ کیمپ لگائے تھے‘۔

آشا نے بتایا کہ بارودی سرنگوں میں زخمی ہونے والے ایسے معذوروں کی مدد کے لیے افریقی ممالک میں بھی ایسے ہی گیارہ کیمپ ہیں اور افغانستان میں بھی دورہ کر کے ایسے لوگوں کی مدد کے لیے نئے کیمپ کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

جین تعداد میں کم ہیں اور بہت گم نامی میں رہتے ہیں لیکن تاریخی اعتبار سے اس تاجر براداری میں غربت نہیں ہے۔ بھارت میں ہیروں کے بیشتر تاجروں کا تعلق جین برادری سے ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے دور میں وہ اپنی شاندار طرز تعمیر اور تعلیمی سرگرمیوں پر اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے اور اس دور میں وہ دوسروں کی مدد کرکے ایسا کر رہے ہیں۔

پالیتانا کے چیف آچاریہ شری راجیش شروجی کہتے ہیں ’جین ازم کا بنیادی فلسفہ دوسروں کی بہتری کے لیے ذاتی مفاد کو ترک کرنا ہے‘۔

اسی بارے میں