بہوجن سماج پارٹی ریلی تنقید کی زد میں

ریاست اتر پردیش میں حکمراں بہوجن سماج پارٹی نے لکھنؤ ميں ایک بڑی ریلی منعقد کی ہے جس کو مہا ریلی کا نام دیا گیا ہے۔ پارٹی کے بانی کانشی رام کی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی ریلی اور تقریب کو پارٹی کی سلورجوبلی جشن کے طور پر بھی منایا جا رہا ہے۔

ریلی میں بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ نے عوام سے خطاب کے دوران کانگریس پارٹی پر سخت نکتہ چینی کی اور اسے دلت مخالف پارٹی قرار دیا۔

لیکن ریلی پر خرچ کی گئی رقم اور کافی دنوں سے جاری تیاریوں کے سبب یہ ریلی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔

حزب اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ ریلی کی تیاریوں ميں نہ صرف تمام سرکاری محکمہ جی جان سے لگا ہوا ہے بلکہ سرکاری خزانے کے کروڑوں روپے پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے ریاست کے کنڈا علاقے میں واقع ایک آشرم میں بھگدڑ مچ جانے سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس وقت ریاست کی وزیر اعلی مایاوتی نے مرنے والوں کے لیے یہ کہہ کر کوئی معاوضہ دینے سے انکار کردیا تھا کہ سرکار کے اقتصادی حالات اچھے نہیں ہیں۔

بہوجن سماج پارٹی کے سینیئر ممبر بابو سنگھ کشواہا نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلی میں شرکت کرنے والوں پر خرچ ہونے والی رقم کی ذمےداری پارٹی کی ہے۔

کانگریس پارٹی نے ریلی کو سرکس قرار دیا ہے۔

ریاستی کانگریس کی صدر ریٹا بہوگڑا جوشی نے لکھنؤ میں صحافیوں سے بات چیت ميں کہا ’ ریلی کا مقصد دلتوں، غریبوں، پسماندہ اور اقلیتوں کی بہتری نہیں ہے بلکہ ریاست کے ووٹروں کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ حالات قابو میں ہیں جبکہ پارٹی یعنی بہوجن سماج وادی پارٹی کی بنیاد کمزور پڑ چکی ہے۔‘

اسی بارے میں