فن، ادب اور تنگ نظری

گزشتہ دنوں جب قطر کی حکومت نے ہندوستان کے معروف مصور مقبول فدا حسین کو اپنے ملک کی شہریت دینے کا اعلان کیا تو ہندوستان کی سول سوسائٹی اور ادب و فن کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔

ایم ایف حسین
Image caption ایم ایف حسین کئی برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں

ایم ایف حسین سخت گیر ہندو تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کے سبب کئی برس سے دبئی میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہی۔ سخت گیر ہندو تنطیموں نے ان کی بعض پینٹنگز پر اعتراض کرتے ہوئے ان کے خلاف ملک بھر میں درجنوں مقدمات درج کر رکھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندو دیوی دیوتاؤوں کو اپنی تصویروں میں بے لباس دکھا کر ہندو مذہب کی توہین کی ہے۔

ایم ایف حسین کی مصوری کی نمائشوں پر کئی بار حملے ہوئے اور ان کی پینٹنگز کو نقصان پہنچایا گیا ۔ان کی رہائش گاہ پر حملے بھی ہوئے ۔ بالآخر وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

آر وی بھسین ہندو نظریات کے حامل ایک ادیب ہیں انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ مذہب اسلام پر ان کی ایک کتاب پر حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن اور حدیث کی تشریح کی بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بعض منفی نتائج اخذ کیے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک جمہوری نظام میں حکومت کو کسی کتاب یا فلم یا آرٹ پر پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں ہے' کسی تحریر، مصوری یا فلم سے پہلے خیالات اور تصور ہوا کرتے ہیں تو کیا آپ خیالات اور تصورات پر پابندی لگائیں گے ۔‘

دلی کی شاہی مسجد کے امام مفتی محمد مکرم کہتے ہیں کہ اظہار آزادی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کو ئی مذہب پر تنقید کرے ’مذہب پر کسی طرح کی تنقید قطعی طور پر ناقابل قبول ہے ۔‘

کے بکرم سنگھ ہندوستان کے آرٹ کے سرکردہ ناقد ہیں۔ ایم ایف حسین کی مصوری پر انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ ان کا خیال ہے مصوری میں سبجکٹ کو بے لباس دکھانا آرٹ کا ایک پہلو ہے اور حسین کی پینٹنگز کسی طرح بھی بد نیتی پرمبنی نہیں ہیں۔ ’حسین کا نا تو کسی کی توہین کرنے کا کوئی ارادہ رہا ہے اور نہ ہی انہوں نے کسی کی توہین کی ہے۔ ہندو تنطیمیں مذہب کو صرف اپنےمتعصبانہ زاویہ سے دیکھنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔‘

شیو جی پانکٹر گجرات کے شہر بڑودہ کے آرٹ یونیورسٹی میں آرٹ کی تاریخ کے شعبے کے سربراہ ہیں ۔ آرٹ کے شعبے میں طلبہ کے ذریعے بنائی گئی دیوی دیوتاؤں کو بعض تصویروں پر ہندو تنظیمون کی جانب سے اعتراضات اور حملے کے بعد مودی حکومت نے انہیں 2007 سے معطل کر رکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اظہار کی آزادی پیدائشی اور جمہوری حق ہےلیکن وہ ادب اور فن کے فروغ میں حکومت کے کردار سے نالاں ہین 'حکومت اس میں زیادہ مثبت کردار ادا نہیں کر رہی ہے ۔ سبھی صورتحال سے سیاسی فائداہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ حکومت کوئی واضح موقف اختیار نہیں کرتی '۔

Image caption ایک لمبے وقت سے ہندوستان میں بعض مسلم تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ تسلیمہ نصرین کو ملک میں پناہ نہ دے

سرکردہ ادیب اور ناقد شمس الرحمن فاروقی ادب اور آرٹ کے بارے میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے بارے میں کہتے ہیں کہ عدم رواداری پہلے بھی تھی لیکن اب زیادہ سامنے آنے لگی ہے ’پوری دنیا میں مذہبیت میں اضافہ ہوا ہے۔ غلط یا صحیح، لوگوں کامذہبی شعور ضرور مضبوط ہوا ہے اور وہ ہر پہلو پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ جہاں تک حسین کا معاملہ ہے اس کے پیچھے ہندوئیت کی کار فرمائی تھی ۔‘

کے بکرم سنگھ کا خیال ہے ہندوستانی معاشرے میں عدم روادری کو تفویت ملی ہے ’ہمارے یہاں ڈسڈنٹ کا رول کم ہو رہا ہے ۔ امیرجنسی کے دوران سیاسی اختلاف کو کچلنے کا کلچر شروع ہوا اب سماجی اور تہذیبی پہلو بھی اس کی زد میں ہیں ۔'

حال میں کنڑ زبان میں متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کے ایک پرانے مضمون کی اشاعت کے بعد کرناٹک کے دو شہروں میں مسلمانوں نے پر تشدد مظاہرے کیے۔ کئی لو گ مارے گئے۔ سخت گیر مسلم تنطیمیں ایک بار پھر مطالبہ کرنے لگیں کہ محترمہ تسلیمہ کو ملک سے باہر کیا جائے۔ تسلیمہ نسرین پرایک بار مسلم سخت گیروں نے حملہ بھی کیا تھا ۔

معروف دانشور مشیر الحسن کا خیال ہے کہ چونکہ سول سوسائٹی کا بہت سطحی ردعمل رہا ہے اس لیے عدم رواداری کی قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ ان کے مطابق حکومت کو آرٹ اور ادب کے بارے میں ایک واضح موقف اختیار کرنا ہو گا ’ کوئی بھی حکومت اگر بیلنسنگ ایکٹ کرنے کی کوشش کرے گی تو وہ کاؤنٹر پروڈکٹیو ہو گا ۔‘

کے بکرم سنگھ کو موجودہ صورتحال پر تشویش ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عدم رواداری کو شہ ملنے سے آرٹ اور ادب میڈیو کریٹی کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ افسانوی شہرت یافتہ مصور پکاسو کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو فن بارہ ذہن دماغ اور شعور کو پریشان نہ کرے وہ فن بارہ نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں یہ ادب اور آرٹ کے لیے برا وقت ہے۔

اسی بارے میں