ولدیت کیس میں این ڈی تیواری کو جھٹکا

نارائن دت تیواری
Image caption این ڈی تیواری ایسے کئی تنازاعات میں گھرے رہے ہیں

دلی ہائی کورٹ نے والدیت کے ایک مقدمہ میں ریاست آندھرا پردیش کے سابق گورنر این ڈی تیواری کی اپیل خارج کردی ہے اور معاملے کی سماعت اپریل کے پہلے ہفتہ میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تیس سالہ روہت شیکھر کا کہنا ہے کہ این ڈی تیواری ان کے حقیقی باپ ہیں لیکن مسٹر تیواری اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔

روہت نے اسی مسئلے پر عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا لیکن مسٹر تیواری نے یہ کہہ کر اسے خارج کرنے کی اپیل کی تھی کہ پیدائش کے اکتیس برس بعد یہ مقدمہ کیوں دائر کیا گیا۔

لیکن دلی ہائی کورٹ میں جسٹس وکرم جیت کے بینچ نے ان کی یہ اپیل مسترد کردی اور سات اپریل کو اس معاملے سے متعلق سبھی لوگوں کو طلب کیا ہے۔

روہت شیکھر نے گزشتہ برس نومبر میں عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا لیکن لیکن عدالت نے ان کے کیس کو یہ کہہ کر خارج کردیا تھا کہ نارائن دت تیواری ریاست آندھرا پردیش کے گورنر ہیں اور وہ وہیں رہتے ہیں اس لیے شنوائی دلی میں نہیں ہو سکتی۔

روہت شیکھر نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ نارائن دت تیواری اور ان کی ماں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور انہوں نے ماں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان سے شادی کر لیں گے لیکن وہ اپنے وعدے سے مکر گئے تھے۔

عدالت سے کہا گیا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو ولدیت کی تشخیص کے لیے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے۔

نارائن دت تیواری کانگریس کے سینیئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو دو ریاستوں کے وزیراعلی رہ چکے ہیں اور آخر میں انہیں گورنر کا عہدہ سونپا گیا تھا۔ لیکن ان کے حوالے سے ایسی خبریں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

دسمبر میں گورنر کے عہدہ پر رہتے ہوئے انہیں ایک سٹنگ آپریشن میں راج بھون کے اندر بعض خواتین کے ساتھ تقریبا عریاں حالت میں دکھایا گیا تھا۔

اس سکیس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد دباؤ کی وجہ سے انہوں نے استعفی دیدیا تھا اور اب وہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔

اسی بارے میں