ہیڈلی معاملہ:’بھارت کو دھچکا نہیں پہنچا‘

ہندوستان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بات کا حق کہ وہ ڈیوڈ ہیڈلی پر مقدمہ چلائے ہندوستان کے وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے ملزم ڈیوڈ ہیڈلے اور امریکہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس سے بھارت کو کوئی دھچکا نہیں پہنچا ہے کیونکہ اس کے بعد امریکی کے عدالتی کاروائی کے دوران بھارت ہیڈلی سے بات کرسکتا ہے۔

پی چدامبرم نے کہا کہ ہندوستان ڈیوڈ ہیڈلے کو بھارت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا اور صحیح وقت آنے پر ان پر ممبئی حملوں میں الزام طے کرے گا۔

پی چدامبرم نے کہا ’ممبئی حملوں میں چھ امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ امریکہ کا حق بنتا ہے کہ وہ ان کے خلاف مقدمہ چلائیں۔ مجھے پہلے معلوم تھا کہ حوالگی کے معاملے میں مشکل آئے گی۔‘

چدامبرم نے کہا ہے کہ اس بات کی امید ہے کہ ہیڈلے امریکہ کی عدالت میں گواہی دیگیں جہاں بھارتی اہلکار کہ پاس یہ موقع ہوگا کہ وہ ان سے سوال پوچھ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہیڈلے کے معاملے کی تفتیش کے دوران امریکہ نے بھارت کو اہم جانکاریاں دی ہیں۔

ڈیوڈ ہیڈلے نے شکاگو کی ایک عدالت کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے لیے ان جگہوں کے متعلق معلومات حاصل کی تھیں جنہیں منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جاتا تھا۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ وہ ڈینمارک کے اس اخبار پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے جس نے پیغمبرِ اسلام کے متعلق کارٹون شائع کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا تھا۔

اس سے پہلے 49 سالہ ہیڈلے نے اپنے اوپر لگائے گئے انہی الزامات سے انکار کیا تھا جب ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن بعد میں وہ اس شرط پر اقرار جرم کرنے پر راضی ہوئے کہ انہیں ایسا کرنے پر نہ تو سزائے موت دی جائے گی اور نہ ہی بھارت، پاکستان یا ڈینمارک کے حوالے کیا جائے گا۔

اسی بارے میں