’صرف 219 کشمیر پنڈت ہلاک ہوئے‘

عدم تحفظ کی وجہ سے سینکڑوں گھرانے وادی چھوڑ کر جموں، دلّی اور بھارت کے دوسرے بڑے شہروں میں چلے گئے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے بیس سال کے دوران مسلح شدت پسندوں نے صرف دو سو اُنیس کشمیری پنڈتوں کو ہلاک کیا ہے۔ پنڈتوں کی نمائندہ تنظیموں نے سرکاری دعوے پر جائزے کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت میں مال اور بحالیات کے وزیرِ رمن بھلا نے منگل کو صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رکن اسمبلی بشارت بخاری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا ’اُنیس سو نواسی، نوے اور اکانوے کے دوران صرف دو سو اُنیس کشمیری پنڈت مارے گئے۔انھوں نے ستّر سے زائد کنبوں کو جموں میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے رجسٹر کیا ہے اور انہیں مناسب معاوضہ اور امداد دی جا رہی ہے۔‘

رمن بھلا نے مزید بتایا کہ کشمیر میں سترہ مندر ایسے ہیں جہاں فوج یا نیم فوجی دستے مقیم ہیں۔

یاد رہے ُانیس سونواسی کا سال شروع ہوتے ہی جب کشمیر میں مسلح شورش برپا ہوئی تو شدت پسندوں نے کشمیری بولنے والے غیر مسلم پنڈت فرقہ سے تعلق رکھنے کئی افراد کو قتل کردیا تھا۔ اس کے بعد کئی مقامات پر پنڈت گھرانوں کا اجتماعی قتل بھی کیا گیا۔عدم تحفظ کی وجہ سے سینکڑوں گھرانے وادی چھوڑ کر جموں، دلّی اور بھارت کے دوسرے بڑے شہروں میں چلے گئے۔

کشمیر میں مقیم پنڈت رہنما سنجے تِکو نے بی بی سی کو بتایا ’ہمارے حساب سے تو چھہ سو اموات ہوئی ہیں۔ ہم حکومت کے دعوے کا جائزہ لینگے اور بعد میں اپنا ردعمل پیش کرینگے۔‘

مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے پنڈتوں کی آبادکاری کو منصوبہ بندی کے عمل میں ترجیح دی ہے۔ وزیراعظم نے بذات خود سولہ سو کروڑ کی خطیر رقم ان کی بحالی اور امداد کے لیے مختص کی ہے۔

ریاستی حکومت بھی ادھمپور میں نگروٹہ کے مقام پر چھہ سو کروڑ روپے کی لاگت سے ایک علیٰحدہ شہر بسا رہی ہے جہاں وادی چھوڑ چکے پنڈتوں کو آباد کیا جائے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ جموں کشمیر کی مخلتف غیر مسلم آبادیوں میں سے پنڈت واحد فرقہ ہے جس کے لوگ کشمیری بولتے ہیں، حلال گوشت کھاتے ہیں، پھرن پہنتے ہیں اور اپنے بچوں کے گھریلو نام بھی کشمیری مسلمانوں کی طرح ہی رکھتے ہیں۔

اُنیس سو نواسی میں پنڈتوں کی ہجرت کے بعد دونوں فرقوں کے مابین تلخیاں پیدا ہوگئیں اور بعض پنڈت گروپوں نے کشمیری مسلمانوں کو اپنا دشمن قرار دیا۔

پنڈتوں کی کچھ ویب سائٹس پر ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور ان ہلاکتوں کو’ہولوکاسٹ‘ اور’جینوسائڈ‘جیسی اصطلاحات سے متعارف کرایا گیا ہے۔

سرکار کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا’ کشمیر شورش کے دوران مبالغہ آرائی کا کلچر پروان چڑھا۔ جس طرح علیٰحدگی پسند بنا کسی سروے کے ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ اور دو لاکھ کے بیچ بتا رہے تھے اسی طرح پنڈتوں کی ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے کچھ لوگ سیاست کر رہے تھے۔ حکومت نے حقائق سامنے لاکر غلط فہمیوں کے امکان کو ختم کردیا ہے۔‘

اسی بارے میں