نریندر مودی کی مشکلیں

نریندر مودی
Image caption نریندر مودی نے ذرائع ابلاغ کو ایک خط بھیجا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

ہندوستان کے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی کے سامنے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اتوار کو حاضر نہیں ہوئے ۔ ذرائع ابلاغ نے یہ خبریں شائع اور نشر کی تھیں کہ ایس آئی ٹی نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے اتوار کو اپنے روبرو طلب کیا ہے ۔

ایس آئی ٹی کے سربراہ کے راگھون نے وزیر اعلیٰ مودی کو پوچھ گچھ کے لیے یقیناً طلب کیا ہے اور اس کے لیے انہیں اکیس سے ستائیس مارچ تک کا وقت دیا گیا ہے ۔

مسٹر مودی کی طرف سے حاضر ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا ہے لیکن پیرکی شام مودی نے ایک کھلا خط جاری کیا جس میں انہوں نے کہا ہے وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے حاضر ہونگے ۔

انہون نے اس خط میں الزام لگایا ہے کہ انہیں اور ان کی ریاست کو مسلسل بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مودی نے کہا کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور بقول ان کے وہ ہمیشہ اس کے پابند رہیں گے ۔’ 2002 کے گودھرا کے واقعے کے بعد میں نے اسمبلی اور عوامی جلسوں میں قطعی طور پر یہ کہا تھا کہ ملک کے آئین اور قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہے خواہ وہ کسی ریاست کا وزیر اعلیٰ ہی کیو ں نہ ہو۔‘

مودی نے اس خط میں مزید کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کی تشکیل شدہ ایک ٹیم کے وقار کا خیال رکھتے ہوئے اور قانون کا احترام کرتے ہوئے میں ایس آئی ٹی کے ساتھ تعاون کروں گا۔‘

اگر وہ خصوصی ٹیم کے سامنے حاضر ہوتے ہیں تووہ پہلی بار 2002 کے گودھرا واقعے اور اس کے بعد ہونے والے فسادات کے سلسلے میں کسی کے سوالوں کا جواب دے رہے ہونگے ۔

مسٹر مودی کے خلاف سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے شکایت درج کرائی ہے ۔ احسان جعفری کو فسادات کے دوران احمد آباد کے گلبرگ رہائشی کمپلیکس مین 68 دیگر افراد کے ساتھ جلا کر ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ذکیہ جعفری نے مودی پر فسادیوں کی مدد کرنے، اشتعال دلانے اور دانستہ طور پر متاثرین کی کوئی مدد نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

مودی نے یہ خط ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب ریاستی ہائی کورٹ نے بھی فسادات کی تحقیقات کرنے والے ناناوتی کمیشن سے پوچھا ہے کہ مسٹر مودی کو کمیشن کے سامنے طلب کرنے کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے ۔ کمیشن کو یکم اپریل تک عدالت عالیہ کو اپنا جواب دینا ہے ۔

متاثرین کی نمائندگی کرنے والے سماجی کارکن اور وکیل مکل سنہا کہتے ہیں’ کمیشن کے سامنے حاضر ہونے سے مسٹر مودی سے فسادات کے سلسلے میں براہ راست سوال جواب کیے جا سکیں گے جس سے وہ اب تک بچتے رہے ہیں۔‘

مودی کے لیے یہ مشکل صورتحال ہے ۔ ان کو ایس آئی ٹی اور ناناوتی کمیشن دونوں کے سامنے جاضر ہونا پڑ سکتا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیر کی شام جاری کیا گیاخط مودی کی بڑھتی ہو ئی پریشانیوں اور دباؤ کا غماز ہے ۔

سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیٹی گجرات فسادات کے کم از کم نو اہم واقعات کی تفتیش کر رہی ہے ۔ یہ وہ کیسز ہیں جنہیں ریاستی حکوت بند کر چکی تھی یا جن کی تفتیش اس طرح کی گئی کہ مجرمین قانون کی گرفت مین نہ آ سکے ۔

گودھرا ٹرین مین 59 کارسیوکوں کو زندہ جلانے کے واقعات میں مودی حکومت نے سو سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف کالعدم انسداد دہشت گردی قانون، پوٹا کے تحت مقدمہ دائر کر رکھا ہے ۔ سپریم کورٹ دہشت گردی کے معاملے کو مسترد کر چکی ہے اور حکم دیا ہے کہ ملزموں پر سے دہشت گردی کے تمام الزامات ہٹائیں جائیں ۔ کئی ملزمیں جیل میں انتقال کر چکے ہیں اور تقریبًا تیراسی افراد گزشتہ آٹھ برس سے کسی مقدمے کے بغیر قید میں ہیں ۔ ایس آئی ٹی اس کے بارے میں بھی مودی سے سوال کرنے والی ہے ۔

مودی کی قانونی مشکلیں اور پیچیدگیاں ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہیں جب ان کے حامی اور ہندوتوا کی علم بردار تنظیمیں انہیں آئندہ پارلمیانی انتخابا ت میں وزارت عظمیٰ کے طور پر پیش کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں ۔ لیکن گجرات کے فسادات کا لمبا سایہ مودی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا ۔

اسی بارے میں