ہماری ادھوری کہانی۔۔۔۔

پاکستان سے ہندوستان آنے والے مراد یہاں آئے تو تھے کسی اور مقصد کے لیے لیکن ایک کشمیری لڑکی سے محبت کر بیٹھے لیکن اب انہیں اپنی محبوبہ کے بغیر ہی پاکستان لوٹنا پڑ رہا ہے۔

مراد اور نسیمہ پاکستان جانے کے لیے راجستھان پہنچے تھے

کہانی کی شروعات سنہ انیس سو ستانوے میں ہوئی جب پولیس کے مطابق مراد شدت پسند بن کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر پہنچے اور وہاں ان کی ملاقات نسیمہ نامی ایک لڑکی سے ہو گئی اور وہ مبحت کی راہ پر چل پڑے۔ مراد اور نسیمہ نے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کا وعدہ کیا اور راجستھان کے راستے پاکستان جانے کے لیے راجستھان پہنچ گئے۔

لیکن کہانی ميں موڑ اس وقت آیا جب شہر مناباؤ کی پولیس نے تیرہ اپریل دو ہزار پانچ کو انہیں اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ پاکستان جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔خود کو بچانے کے لیے مراد نے پولیس سے کہا کہ وہ ایک ہندوستانی شہری ہیں لیکن عدالت میں وہ یہ ثابت نہیں کر سکے۔

اس لیے سنہ دو ہزار آٹھ ميں غیر ملکی شہری سے متعلق قانون کے تحت مراد کو تین سال اور نسیمہ کو ایک غیر ملکی کی مدد کرنے کے الزام میں ایک سال کی سزا سنائی گئی۔

اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد نسیمہ تو کشمیر واپس لوٹ گئیں لیکن مراد جیل میں رہ گئے اور اس کے بعد نسیمہ نے مراد کی کوئی خبر نہیں لی۔ پیر کو تین سال جیل میں گزارنے کے بعد مراد رہا تو ہو گئے لیکن وہ تنہا ہیں۔

بڑمیر کے سينیئر پولیس افسر نوجیوتی گگوئی کہتے ہیں ’ مراد کی سزا پوری ہوگئی تھی۔ ان کے پاکستانی شہری ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد قانوناً مراد کو ان کے ملک بھیجا جا رہا ہے۔‘

راجستھان کی پولیس مراد کو پنجاب لے گئی ہے جہاں اٹاری پر انہیں پاکستان کے اہلکاروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔

پولیس نے عدالت کو بتایا تھا مراد کا تعلق پاکستان کے صوبے سرحد میں واقع شہر پشاور کے نزدیک سے ہے اور سنہ انیس سو ستانوے میں وہ ایک شدت پسند بن کر بھارت ميں داخل ہوئے تھے لیکن مراد کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی مدد کرتے رہے۔ تاہم وہ عدالت میں یہ بھی ثابت نہیں کر سکے۔

اسی بارے میں