ممبئی : اے ٹی ایس کے نئے سربراہ کا تقرر

ذرائع کا دعوی ہے کہ پونے بم دھماکہ تفتیش میں اب تک کسی بھی طرح کی پیش رفت نہ ہونا بھی رگھوونشی کو اس اہم عہدے سے ہٹائے جانے کی ایک وجہ بتائی جا رہی ہے ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر میں محکمہ وزارتِ داخلہ نے مہاراشٹر انسدادِ دہشت گردی عملہ کے سربراہ کے پی رگھوونشی کو ان کے اس عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔

جمرات کو جارے ہونے والے حکم نامے کے مطابق مسٹر رگھوونشی کی جگہ کرائم برانچ کے چیف راکیش ماریا کو یہ عہدہ دیا گیا ہے۔ راکیش ماریا جمعہ کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ ماریا کی جگہ ہیمانشو رائے کرائم چیف مقرر کیے گئے ہیں۔

مہاراشٹر اے ٹی ایس چیف کے عہدے کو کافی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ریاست میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی تفتیش ان کے ذمہ ہوتی ہے۔ رگھوونشی کو ایک ایسے موقع پر اپنے عہدے سے ہٹایا گیا ہے جب وہ پونے بم دھماکہ کے ساتھ ساتھ ممبئی پر مبینہ حملوں کے لیے گرفتار دو مشتبہ افراد سے تفتیش کر رہے تھے۔

محکمہ داخلہ اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ رگھوونشی نے حال ہی میں دو مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں صحافیوں کو کچھ ایسی اطلاعات فراہم کر دی تھیں جس پر مرکزی تفتیشی ایجنسیوں نے اعتراض کیا تھا۔

مرکزی حکومت کی ناراضگی کے بعد ریاستی وزیر اعلیٰ اشوک چوان نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ مرکز کو احساس ہے کہ اے ٹی ایس چیف کے بیان سے تفتیش میں خلل پیدا ہوا ہے۔

ریاستی وزیراعلیٰ چوان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اس سلسلے میں وزیرِ داخلہ آر آر پاٹل سے گفتگو کے بعد ضروری کارروائی کریں گے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پونے بم دھماکے کی تفتیش میں اب تک کسی بھی طرح کی پیش رفت نہ ہونا بھی رگھوونشی کو اس اہم عہدے سے ہٹائے جانے کی ایک وجہ بتائی جا رہی ہے۔

رگھوونشی اب ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ( نظم و نسق ) بنائے گئے ہیں۔ جوائنٹ پولیس کمشنر نظم و نسق ہیمانشو رائے کی جگہ رجنیش سیٹھ کو مقرر کیا گیا ہے۔

اے ٹی ایس چیف رگھوونشی کی کارکردگی پر اقلیتی طبقہ خاصہ ناراض تھا۔ مالیگاؤں بم دھماکہ میں جس کی تفتیش رگھوونشی کی سربراہی میں ہوئی تھی ، مقامی افراد نے اس تفتیش کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

جمعیت علماء کے جنرل سیکریٹری مولانا مستقیم اعظمی جو مالیگاؤں بم دھماکوں کے علاوہ کئی کیسوں میں گرفتار مسلم نوجوانوں کے کیس کی پیروی کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہیمنت کرکرے کی طرح ایماندار غیر جانبدار افسر کی ضرورت ہے اور یہ کہ وہ راکیش ماریا کی تفتیش سے اچھی طرح واقف ہیں اس لیے مسلم تنظیموں کو ماریا کی تقرری سے کوئی خوشی نہیں ہوئی ہے۔

رگھوونشی کا بہ حیثیت ای ٹی ایس چیف یہ دوسرا دور تھا۔ سن دو ہزار چار میں اے ٹی ایس کی تشکیل کے بعد رگھوونشی پہلے سربراہ مقرر کیے گئے تھے۔ ان سے قبل ہیمنت کرکرے کی موت کے بعد انہیں دوبارہ اے ٹی ایس چیف مقرر کیا گیا تھا۔

کرکرے نے ہی تفتیش کے بعد مالیگاؤں دوسرے بم دھماکہ میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کا اس دھماکہ کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور اپنی تفتیش میں کہا تھا کہ یہ ایک بڑی سازش کا معمولی حصہ ہے۔ کرکرے چھبیس گیارہ ممبئی حملوں میں ہلاک کر دیے گئے۔

اسی بارے میں