’اڈوانی نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی‘

بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں سینیئر پولیس افسر انجو گپتا نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد گرائے جانے کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیئنر رہنما لال کرشن اڈوانی نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔

بابری مسجد فائل فوٹو
Image caption چھ دسمبر انیس سو بانوے میں بابری مسجد کو گرایا گیا تھا اور اس روز لال کرشن اڈوانی وہاں موجود تھے۔

ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے رائے بریلی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں جمعہ کے روز اس کیس کی سماعت ہوئی۔

چھ دسمبر انیس سو بانوے کو بابری مسجد گرائی گئی تھی اور اس روز لال کرشن اڈوانی وہاں موجود تھے۔ انجو گپتا اس وقت لال کرشن اڈوانی کی پرائیوٹ سکیورٹی افسر تھیں۔

انہوں نے استغاثہ کی جانب سے گواہی دیتے ہوئے کہا ’میں فیض آباد کی سرحد سے اڈوانی کے ساتھ تھی اور وہ رام کتھا کنج میں دیگر بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ موجود تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ کلراج مشر، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار، گری راج کشور، اشوک سنگھل اور پرمود مہاجن جیسے دیگر رہنما بھی وہاں موجود تھے۔‘

انجو گپتا نے اڈوانی کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’اڈوانی نے اپنے حامیوں سے کہا کہ مندر اسی جگہ بنے گا۔‘

انجوگپتا کے بیان کے مطابق اڈوانی کی تقریر کے بعد کار سیوک بابری مسجد کی طرف بڑھنے لگے جو رام کھتا کنچ سے محض ڈیڑھ سو میٹر کی دوری پر واقع تھی۔

انجو گپتا نے یہ بھی بتایا کہ ونیے کٹیار نے بھی بھیڑ کو اکسانے والی تقریر کی تھی۔ انجو گپتا سے دفاعی وکیل نے بھی سوال جواب کیے۔

فی الوقت انجو گپتا مُلک کی خفیہ ایجنسی راء کی ایک اہلکار ہیں۔

اسی بارے میں