ممبئی: پانی کی قلت کا ذمہ دار کون

سنیچر تک شہر کو پانی کی فراہمی میں تیس فیصد کٹوتی کی جائے گی:ممبئی میونسپل کارپوریشن بھارت کے شہر ممبئی کے مغربی اور مشرقی مضافات میں شہریوں کو پانی فراہم کرنے والی اہم پائپ لائن پھٹنے کی وجہ سے جمعہ کو علاقے کے تقریبا پچیس لاکھ لوگوں کو پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔

پانی کی پائپ لائن پھٹنے کے باعث پانی کے حصول کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔

جمعرات کو ملنڈ اور تھانے میں پائپ لائن پھٹنے سے تین ملین لیٹر پانی ضائع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ان علاقوں میں پانی کی سپلائی نہیں کی جا سکی لیکن ممبئی کے دیگر علاقوں میں رہنے والوں کو بھی اب تیس فیصد پانی کی کٹوتی جھیلنی پڑ رہی ہے۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مطابق اب سنیچر تک شہر کو پانی کی فراہمی میں تیس فیصد کٹوتی کی جائے گی۔

ملاڈ مالونی میں رہنے والی طاہرہ منیہار کے مطابق انہیں کل سے پانی نہیں مل رہا ہے۔ ’ویسے بھی گرمی کے موسم میں پانی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس سال پانی بہت کم مل رہا ہے۔ پندرہ فیصد پانی کی کٹوتی کے بعد جب آج صبح پانی بالکل نہیں آیا تو انہیں پانی لینے کے لیے ٹینکر سے پانی لانے کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑا۔

ممبئی میں سب سے پہلے ملاڈ میں بورویل کی کھدائی کے دوران زیرِ زمین پانی کی پائپ لائن پھٹ گئی۔ پائپ لائن کی مرمت کے دوران پائپ لائن کے چند والوز کو بند کرنا پڑا۔

بی ایم سی ہائیڈرولک انجینیئر ونے دیش پانڈے کے مطابق والوز بند کرنے کی وجہ سے بہترانچ ڈائی میٹر کی پائپ لائن میں پانی کا پریشر بڑھ گیا اور جہاں پائپ لائن خستہ ہو چکی تھی وہاں سے پائپ پھٹ گیا۔

دیش پانڈے کے مطابق مذکورہ پائپ لائن پچاسی برس پرانی ہے اور زمین کی تیزابیت کی وجہ سے پائپ لائن کا نچلا حصہ کمزور ہو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ممبئی کے بیشتر علاقوں کی پائپ لائن پھٹ جاتی ہیں۔

ملنڈ اور تھانے کے علاقوں میں پانی کی پائپ لائن پھٹنے سے ڈھائی فٹ تک پانی پورے علاقہ میں پھیل گیا۔ لوگوں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر یہ پانی رستے ہوئے بلڈنگ کی بنیادوں تک پہنچ گیا تو بلڈنگ کی بنیادوں کو کمزور کر دے گا۔

پائپ لائن کی مرمت کا کام جنگی پیمانے پر جاری ہے تاہم بی ایم سی کے مطابق کام مکمل ہونے میں مزید چوبیس گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

ممبئی میں جو پائپ لائن پھٹی ہے وہ تانسا جھیل سے ممبئی شہریوں کو پانی فراہم کرتی ہے۔ ممبئی کی بیشتر پائپ لائن سو سال پرانی ہو چکی ہیں حالانکہ انگریزوں کے دور میں بنی پائپ لائن کو چند برس قبل ورلڈ بینک کی مدد سے تبدیل کیا گیا تھا لیکن شہر میں پائپ لائن پھٹنے کے کئی واقعات پیش آتے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں لیٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ دو ہزار آٹھ اور نو میں پینتیس کلومیٹر پائپ لائن جبکہ سنہ دو ہزار نو اور دس میں چونسٹھ کلومیٹر پرانی پائپ لائن کو تبدیل کیا گیا۔

بی ایم سی نےگزشتہ برس پائپ لائن کی مرمت کے لیے اپنے بجٹ میں ترسٹھ کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن ان واقعات میں اضافہ کی وجہ سے اس برس بجٹ میں مزید ایک سو بتیس کروڑ کا فنڈ فراہم کیا گیا ہے۔

بی ایم کمشنر سوادھین چھتریہ نے ان حالات کے پیشِ نظر تانسا جھیل سے ممبئی تک پانی فراہم کرنے والے پوری پائپ لائن کو بدلنے کے لیے تین سو اسی کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

ملاڈ علاقہ کے کارپوریٹر اسلم شیخ کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے بعد جب تک برابر دیکھ بھال نہیں ہو گی ممبئی میں ایسے حالات پیدا ہوتے رہیں گے۔

ایک کروڑ پچاس لاکھ آبادی والے شہر ممبئی میں شہریوں کو روزانہ تین ہزار چار سو پچاس ملین لیٹر پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن دو ماہ سے پانی کی فراہمی میں کمی واقع ہوئی ہے اب روزانہ دو ہزار نو سو ملین لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ اس سال بارش میں کمی بتائی جا رہی ہے۔

شہریوں کو تشویش ہے کہ اگر اسی طرح پائپ لائن پھٹنے سے پانی ضائع ہوتا رہا تو شاید آئندہ ایک دو ماہ میں وہ ایک ایک بوند پانی کو ترسیں گے۔

اسی بارے میں