’ہر دوسرا پولیس مقابلہ جعلی ہوتا ہے‘

ہندوستان کے انسانی حقوق کے قومی کمیشن ( این ایچ آر سی ) کے مطابق ملک میں آئے دن ہونے والے پولیس مقابلوں میں ہر دوسرا مقابلہ جعلی ہوتا ہے۔

Image caption اس سے قبل این ایچ آر سی بٹلہ ہاؤس تصادم معاملے میں دلی پولیس کو کلین چٹ دے چکی ہے

کمیشن کی جانب سے دیے گئے فرضی مقابلوں کی فہرست میں متنازعہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو بھی فرضی بتایا گیا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک طالب علم افروز عالم نے معلومات کے حقوق کے قانون یعنی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ ( آر ٹی آئی) کے تحت این آچ آر سی سے ملک میں ہونے والے مقابلوں میں سے جعلی مقابلوں کی تفصیلات مانگی تھیں۔

اس درخواست کے جواب میں این ایچ آر سی نے جو معلومات دی ہیں اس کے تحت اکتوبر سنہ انیس سو ترانوے سے اب تک ملک میں دو ہزار پانچ سو ساٹھ پولیس مقابلوں کی شکایات کمیشن کو ملی ہیں جن میں کمیشن کے مطابق ایک ہزار دو سو چوبیس پولیس مقابلے فرضی ہیں۔ این ایچ آر سی نے اس فہرست میں متنازعہ بٹلہ ہاؤس مقابلے کو بھی فرضی بتایا ہے۔

انیس ستمبر دو ہزار آٹھ کو جنوبی دلی کے علاقے بٹلہ ہاؤس میں ایک پولیس مقابلے میں دو مبینہ شدت پسند مارے گئے تھے۔ حالانکہ مقامی افراد اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس مقابلے پر سوال اٹھائے تھے اور ابھی بھی وہ اس معاملے کی عدالتی تفتیش کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

دلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی تفتیش کا حکم این ایچ آر سی کو دیا تھا۔ گزشتہ برس این ایچ آر سی نے دلی پولیس کو اس معاملے میں کلین چٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تصادم کے دوران انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ این ایچ آر سی نے اپنی رپورٹ متاثرین کے خاندان اور گرفتار شدہ افراد سے بات چیت کیے بغیر تیار کی تھی۔ انہوں نے اس رپورٹ کو یکطرفہ کہہ کر مسترد کردیا تھا۔

حال ہی میں کانگریس پارٹی کے ایک اہم لیڈر دیگوجے سنگھ نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ بٹلہ ہاؤس مقابلے کے بعد جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے مقدمے کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹس بنائے جائیں۔ واضح رہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر مختلف ریاستوں میں بم دھماکوں کا الزام ہے۔

ایک بار جب این ایچ آر سی بٹلہ ہاؤس مقابلے میں دلی پولیس کو کلین چٹ دی چکی ہے ایسے میں کمیشن کا اس مقابلے کو فرضی قرار دینا ایک دلچسپ بات ہے۔

بٹلہ ہاؤس پولیس مقابلے میں ہلاک اور گرفتار ہونے والے افراد کے حقوق کے لیے لڑنے والی جامعہ ٹیچرز سولیڈیریٹی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ’اس سے پہلے بھی ایک اور آر ٹی آئی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقابلے کے دوران جو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے ان کے سر پر بہت قریب سے گولیاں لگی تھیں اور ان کے جسم پر چوٹ کے نشان تھے۔ ایسا انکاؤنٹر میں نہیں ہوتا ہے اور اب یہ بات کہ جو این ایچ آر سی ایک بار دلی پولیس کو کلین چٹ دیتی ہے اور پھر اسی مقابلے کو فرضی بتاتی ہے اس سے تو یہ لگتا ہے کہ این ایچ آر سی کا موقف کلیئر نہیں ہے اور اتنے سنجیدہ جرم کے تعین کا کتنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ حکومت جلد سے جلد معاملے کی عدالتی تفتیش کرائے۔‘

بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے این ایچ آر سی کا موقف جاننے کے لیے ان سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن سنیچر کو چھٹی ہونے کی وجہ رابطہ نہیں ہوسکا۔ حالانکہ ذرائع ابلاغ میں این ایچ آر سی کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ ’مقابلے کے بعد شکایتوں کی بنیاد پر بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو فرضی بتایا گیا ہے۔‘

این ایچ آر سی کے گزشتہ سولہ برس کے ریکارڈ کے مطابق اتر پردیش فرضی انکاؤنٹر کے معاملے میں نمبر ایک پر ہے۔ دوسرا نمبر بہار کا ہے اور تیسرے نمبر پر ریاست آندھرا پردیش ہے۔ اترپردیش کے 716 فرضی مقابلوں میں 131 معاملوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ گجرات میں بیس تصادم ہوئے ہیں اور ان میں آدھے سے زیادہ مقابلوں میں مسلمان ہلاک ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکردہ وکیل گوتم نولکھا کا کہنا کہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ این ایچ آر کن بنیاد پر کسی مقابلے کو صحیح قرار دیتی ہے۔

انکا کہنا تھا ’جب تک ہر ایک مقابلے کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی تب تک اس کی آزاد تفتیش نہیں ہوسکتی اور اس وقت تک کسی بھی مقابلے کو صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔‘

این ایچ آر سی کی طرف سے جاری کی گئی اس فہرست سے ہندوستان میں پولیس مقابلوں پر ایک بار پھر سوال اٹھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں