نلینی کی رہائی کی اپیل مسترد

نلینی سری ہرن
Image caption نلینی سری ہرن نے طبی وجوہات کی وجہ سے وقت سے پہلے رہائی کی اپیل کی تھی

ہندوستان کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث نلینی سری ہرن کی اس اپیل کو مسترد کردیا گیا ہے جس میں انہوں نے وقت سے پہلے رہائی کی عرضی دی تھی۔

تمل ناڈو کی حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ اس نے نلینی کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔

نلینی کی رہائی کے معاملے میں ریاستی حکومت نے جیل کے مشاورتی بورڈ نے مشورہ مانگا تھا لیکن بورڈ نے نلینی کو وقت سے پہلے رہا نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔

جیل مشاورتی بورڈ نے نیلنی کی رہائی کی درخواست نامنظور کرنے کی آٹھ وجوہات بتائی ہے۔ ریاستی حکومت نے مدراس ہائی کورٹ کے حکم پر اس معاملے میں جیل مشاورتی بورڈ سے مشورہ مانگا تھا۔

نلینی ان پانچ لوگوں میں شامل تھیں جہنوں نے اکیس مئی انیس سو اکیانوے کو سری پیرمبودور میں ایک انتخابی جلسے کے دوران راجیو گاندھی کو قتل کیا تھا۔ حملہ نلینی کی ساتھی دھنو نے کیا تھا جس نے اپنی کمر پر آتش گیر مادے سے بھری بیلٹ باندھ رکھی تھی۔

اس کیس میں نلینی کو سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کی جانب سے رحم کی درخواست پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ سونیا گاندھی نے اس وقت کہا تھا کہ انہوں نے نلینی کی پانچ سالہ بیٹی کی وجہ سے رحم کی اپیل کی تھی۔

دو برس پہلے راجیو گاندھی کی بیٹی پرینکا گاندھی نے نلینی سے ملاقات بعد کہا تھا کہ وہ اپنی مرضی سےملاقات کرنےگئی تھیں تاکہ وہ اپنے والد کے قتل کی وجہ سے اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی بے چینی کو ختم کر سکیں۔ پرینکا نے کہا تھا کہ انہوں نے’ تشدد اور غصے کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔‘

نیلنی نے وقت سے پہلے رہائی کے لیے مدراس ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔

نلینی کا کہناہے کہ انہیں جلد رہا کردیا جائے کیونکہ انکی صحت ٹھیک نہیں اور مرنے سے پہلے وہ اپنی زندگی کے چند برس اپنی بیٹی کے ساتھ بسر کرنا چاہتی ہیں۔

راجیو گاندھی کے قتل کےمعاملے میں وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہی ہیں اور گزشتہ 19 برس سے وہ جیل میں ہیں۔

اسی بارے میں