’اوباما اسرائیل کےلیے’تباہ کن‘ نہیں‘

بنیامن نیتن یاہو
Image caption حال ہی میں اسرائیل نے مشرقی یوروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نے بنیامن نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما اسرائیل کےلیے تباہ کن نہیں ہیں۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں ان کے معتمد ساتھی نے امریکی صدر براک اوباما کو اسرائیل کے لیے’تباہ کن‘ بتایا تھا۔

خیال رہے کہ امریکہ کے نائب صدر جو بائڈین کے اسرائیل کے دورے کے دوران یہودی بستیوں کی تعمیر میں توسیع کے اعلان سے دونوں ملکوں کے تعلقات شدید بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔

اسرائیل کے مشرقی یروشلم میں سولہ سو نئےگھر تعمیر کرنے کے منصوبے کے اعلان سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی تھی جس کے بعد اقوام ِمتحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے اور یہ تعمیرات روک دی جائیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایک خطاب میں اسرائیل سے کہا ہے کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امن چاہتا ہے تو اسے ایک’مشکل مگر ضروری چناؤ‘ کرنا ہوگا۔

وہیں فلسطین کے صدر محمود عباس نے ایک بار پھر یہ کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں وہ اس وقت تک شریک نہیں ہونگے جب تک اسرائئل مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر مکمل طور پر نہیں روکتا۔

انہوں نے یہ بات عرب لیگ کے ایک اجلاس میں کہی تھی جس میں عرب ممالک کے ديگر رہنماؤں نے شرکت کی تھی اور تقریباً سبھی نے اسرائیل کے فیصلے کی تنقید کی تھی۔

عرب لیگ کےاجلاس میں ترک وزیر اعظم رجب طیب اردوگان بھی لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے خصوصی مہمان کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے بھی اسرائیل کے موقف پر سخت تنقید کی اور اسے ’پاگل پن‘ قرار دیا۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل امر موسیٰ نے کہا کہ ممبر ممالک کو اس امکان کے لیے بھی تیار ہونا چاہیے کہ امن کا عمل پوری طرح ناکام ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کا سامنا کرنا ضروی ہے اور ہمیں متبادل منصوبوں پر بھی کام کرنا چاہیے، ورنہ دیر ہوجائے گی۔‘ امر موسیٰ نے امریکہ اور اسرئیل کی جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران کے خلاف عالمی مہم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ عرب ممالک کو ایران کے بارے میں کئی خدشات ہیں لیکن اسرائیل کی حرکتوں سے یہ واضح ہو گیا ہے عربوں کی ایران سے بات چیت ضروری ہے۔

عرب لیگ کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی شریک تھے۔ انہوں نے عرب رہنماؤں کو امن مذاکرات کی امریکی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کو کہا اور یروشلم کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کے بعدیہ دونوں ریاستوں کا اہم شہر ہونا چاہیے۔

دریں اثناء اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ اقوام متحدہ کی جانب سے مشرقی یوریشلم میں یہودی بستیاں بنانے کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی قراردار میں امریکہ ووٹ نہیں ڈالے گا۔ حالانکہ واشنگٹن نے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار کم خطاس کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل پر دباؤ بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہے اور یو این رزولوشن اس کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ یروشلم بستیوں کی تعمیر پر اُن کی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی۔

حال میں فلیسطین کے علاقے غزہ میں حالات کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے بدھ کو غزہ کی پٹی کی جنوبی سرحد پر فلسطینی شدت پسند گروہ حماس کے جنگجوؤں سے ہونے والی جھڑپوں میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

خان یونس کے مشرقی علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں دو اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے تھے۔ جبکہ فلسطینی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں دو فلسطینی شدت پسند بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں