حیدرآباد دکن: ہنگاموں کے بعد کرفیو

بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد دکن کے کچھ علاقوں میں ہندو مسلم فسادات کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

حیدرآباد میں فسادات: تصاویر

حیدر آباد دکن کے پرانے شہر میں سنیچر کی شام کو شروع ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں ایک شخص ہلاک جبکہ پچھتر سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سوموار کے روز ایک ویگن میں سفر کرنے والے شخص کو چاقو مار کر ہلاک کردیا گیا۔

سینٹرل پیرا ملٹری فورس کو حیدر آباد روانہ کردیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق علی آباد، لال دروازہ، گولی پورہ اور شہالی بندہ کے علاقوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

اس ضمن میں سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ فرقہ وارانہ کشیدگی سنیچر کی رات اس وقت شروع ہوئی تھی جب بعض ہندو افراد نے حیدرآباد کے پرانے شہر میں مسلمانوں کی جانب سے عیدمیلادالنبی کے موقع پر لگائے گئے ہرے جھنڈے ہٹاکر ہنومان کے جنم دن پر اپنے جھنڈے لگانے کی کوشش کی۔

بعض مسلمانوں نے اس پر اعتراض کیا اور بعد میں بعض افراد نے پتھراؤ کیا اور پھر لڑائی بڑھ گئی۔

اسی بارے میں