ممبئی حملہ مقدمہ ، اختتام کے قریب

ممبئی پر ہوئے حملوں کے مقدمہ میں اجمل امیر قصاب کے دفاعی وکلاء نے تین روز تک جاری جرح کو منگل کو ختم کر لیا ہے۔

Image caption پوار نے پولیس حراست میں قصاب کے مبینہ اقبالیہ بیان کی صداقت کو بھی چیلنج کیا

قصاب کے وکیل کے پی پوار اور ونود مورے نے اپنے موکل کی حمایت میں عدالت کے سامنے کہا کہ ان کا موکل معصوم ہے اور اس کا ان حملوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

اجمل قصاب کے دفاعی وکیل کے پی پوار نے عدالت کے سامنے استغاثہ کے پیش کردہ ثبوتوں ، دلائل اور اپنے موکل کے بیانات کی روشنی میں کہا کہ اس کے موکل کو پولیس نے جان بوجھ کر پھنسایا ہے۔ ان کے موکل کو فلموں کے شوق نے پاکستان سے ممبئی پہنچایا تھا۔

پوار نے اپنی جرح میں کہا کہ انہیں عدالت میں پیش کردہ سی سی ٹی وی فٹیج اور تصاویر کی صداقت پر بھروسہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن دو فوٹوگرافرز سباستین ڈیسوز اور سری رام ورنیکر نے سی ایس ٹی ریلوے پر فائرنگ کی تصاویر کھینچی تھیں پولیس نے ان کے پاس سے ان کے میموری کارڈ ایک ماہ بعد اپنی تحویل میں لیے تھے اس لیے ان میں چھیڑ چھاڑ کےخدشات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پوار نے پولیس حراست میں قصاب کے مبینہ اقبالیہ بیان کی صداقت کو بھی چیلنج کیا۔ پوار نے بیان ریکارڈ کرنے کے دوران کی گئی خامیوں کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق قصاب چھبیس نومبر سے سترہ فروری تک پولیس حراست میں تھے۔

اس کے علاوہ اقبالیہ بیان پر ان کے موکل کے دستخط نہیں ہیں۔ اگر قصاب کا ہاتھ زخمی تھا تو پولیس ان کے انگوٹھے کا نشان لے سکتی تھی لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا۔ پوار نے براہ راست کہا کہ مبینہ اقبالیہ بیان ان کے موکل کا نہیں ہے۔

پوار نے گرگام چوپاٹی پر قصاب کی گرفتاری پر بھی سوالیہ نشان لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو پولیس نے ایک ماہ قبل گرفتار کیا تھا۔ چوپاٹی پر اسسٹنٹ پولیس سب انسپکٹر تکارام اومبلے کی موت اور پولیس انکاؤنٹر کے بارے میں پوار کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے صرف پولیس افسران کی گواہی ریکارڈ کی جس میں بھی آپس میں بیانات میں تضادات موجود ہیں۔ استغاثہ نے کسی آزاد عینی شاہد کا بیان پیش نہیں کیا۔

پوار نے بیلاسٹک ماہرین کی رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے جرح کے دوران کہا کہ جن ماہرین سے رپورٹ طلب کی گئی ہے انہیں ایسے معاملہ کی خصوصی تربیت نہیں دی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق ممبئی حملہ آور ممبئی میں کوبیر کشتی کے ذریعہ ممبئی کے ساحل پر اترے تھے۔ پوار نے اپنی جرح کے دوران کہا کہ پولیس ریکارڈ کے ہی مطابق پولیس کو کوبیر کشتی حملہ سے ایک ماہ قبل ملی تھی۔ اس پر استغاثہ اجول نکم نے کہا کہ پولیس ریکارڈ میں تاریخ غلط لکھ دی گئی تھی۔

ایڈوکیٹ پوار نے کاما ہسپتال کے اندر اور باہر ہوئے واقعات کے بارے میں کہا کہ عینی شاہدین نے جو بیانات دیے ہیں ان میں کافی تفاوت پایا جاتا ہے۔

Image caption فہیم کے وکیل شاہد اعظمی تھے جن کا کچھ لوگوں نے قتل کر دیا تھا

ایڈوکیٹ پوار اور ان کے اسسٹنٹ مورے کی جرح مکمل ہونے کے بعد آج ہندستانی ملزم فہیم انصاری کے وکیل آر بی موکاشی نے عدالت کے سامنے اپنی جرح شروع کی۔ فہیم پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی کے ان مقامات کا اچھی طرح جائزہ لیا تھا اور اس کے نقشے تیار کیے تھے جن پر حملہ آوروں نے حملے کیے تھے۔ فہیم کے وکیل شاہد اعظمی تھے جن کا کچھ لوگوں نے قتل کر دیا تھا۔

ان کی جگہ ایڈوکیٹ موکاشی اس کیس کی پیروری کر رہے ہیں۔ موکاشی کا دعوی تھا کہ پولیس نے جو نقشہ عدالت میں پیش کیا ہے وہ بعد میں تیار کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز صباح الدین کے وکیل اعجاز نقوی اپنے موکل کا دفاع کریں گے اس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ جج ایم ایل تہیلیانی تقریبا ایک ماہ کے اندر اس مقدمہ کا فیصلہ سنائیں گے۔

چھبیس نومبر سن دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر سلسلہ وار کئی مقامات پر حملے ہوئے تھے جن میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق دس حملہ آور ممبئی پر حملہ کرنے آئے تھے جن میں سے پولیس نے ایک ملزم اجمل امیر قصاب کو زندہ پکڑنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اجمل قصاب کے علاوہ دو ہندستانی ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین سمیت اکتالیس ملزمین پر ممبئی کے سینٹرل جیل کے احاطے میں بنی خصوصی عدالت میں مقدمہ گزشتہ برس سترہ اپریل سے شروع کیا گیا جو اب اختتام کے قریب ہے۔

اسی بارے میں