ممبئی حملے: فیصلہ تین مئی کو

ممبئی پر ہوئے شدت پسندانہ حملوں کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت تین مئی کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔

فائل فوٹو
Image caption چھبیس نومبر سن دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر سلسلہ حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے

عدالت کے خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی نے بدھ کے روز دفاعی وکلاء کی حتمی جرح مکمل ہونے کے بعد فیصلہ کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔

تقریباً ایک سال تک چلنے والے اس مقدمہ میں سرکاری وکیل اجول نکم نے قصاب کو ملزم قرار دینے کی پوری کوشش کی اور عدالت سے ان کے لیے موت کی سزا طلب کی۔

وہیں اجمل امیر قصاب کے دفاعی وکلاء کے پی پوار اور ان کے اسسٹنٹ ونود مورے نے اپنے موکل کی حمایت میں عدالت کے سامنے کہا کہ ان کا موکل معصوم ہے اور اس کا ان حملوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

سرکاری وکیل نکم نے بدھ کو عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سات مہینوں کےاندر ہی ایک انتہائی تاریخی کیس میں ساڑھے چھ سو سے زائد گواہان کی گواہی پیش کی اور ایک سنگین اور حساس مقدمہ کی پیروی مکمل کر لی۔

استغاثہ کی بحث مکمل ہونے کے بعد اجمل قصاب کے دفاعی وکیل کے پی پوار نے اپنی جرح شروع کی۔ عدالت کے سامنے استغاثہ کے پیش کردہ ثبوتوں، دلائل اور اپنے موکل کے بیانات کی روشنی میں پوار نے کہا کہ ان کے موکل کو پولیس نے جان بوجھ کر پھنسایا ہے۔ ان کا موکل ممبئی میں فلموں کے شوق کی وجہ سے آیا تھا۔

پوار نے اپنی جرح میں کہا کہ انہیں عدالت میں پیش کردہ سی سی ٹی وی فٹیج اور تصاویر کی صداقت پر بھروسہ نہیں ہے۔ پوار کا کہنا تھا کہ جن دو فوٹوگرافرز سباستین ڈیسوز اور سری رام ورنیکر نے سی ایس ٹی ریلوے پر فائرنگ کی تصاویر کھینچی تھیں۔ پولیس نے ان کے پاس سے ان کے میموری کارڈ ایک ماہ بعد اپنی تحویل میں لیے تھے اس لیے ان میں چھیڑ چھاڑ کےخدشات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پوار نے پولیس حراست میں قصاب کے مبینہ اقبالیہ بیان کی صداقت کو بھی چیلنج کیا۔ پوار نے بیان ریکارڈ کرنے کے دوران کی کئی خامیوں کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق قصاب چھبیس نومبر سے سترہ فروری تک پولیس حراست میں تھے۔ اس کے علاوہ اقبالیہ بیان پر ان کے موکل کے دستخط نہیں ہیں۔ اگر قصاب کا ہاتھ زخمی تھا تو پولیس ان کے انگوٹھے کا نشان لے سکتی تھی لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا۔ پوار نے براہ راست کہا کہ مبینہ اقبالیہ بیان ان کے موکل کا نہیں ہے۔

پوار نے گرگام چوپاٹی پر قصاب کی گرفتاری پر بھی سوالیہ نشان لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو پولیس نے ایک ماہ قبل گرفتار کیا تھا۔ چوپاٹی پر اسسٹنٹ پولیس سب انسپکٹر تکارام اومبلے کی موت اور پولیس انکاؤنٹر کے بارے میں پوار کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے صرف پولیس افسران کی گواہی ریکارڈ کی جس میں بھی آپس میں بیانات میں تضادات موجود ہیں۔ استغاثہ نے کسی آزاد عینی شاہد کا بیان پیش نہیں کیا۔

پوار نے بیلاسٹک ماہرین کی رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے جرح کے دوران کہا کہ جن ماہرین سے رپورٹ طلب کی گئی ہے انہیں ایسے معاملہ کی خصوصی تربیت نہیں دی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق ممبئی حملہ آور ممبئی میں کوبیر کشتی کے ذریعہ ممبئی کے ساحل پر اترے تھے۔ پوار نے اپنی جرح کے دوران کہا کہ پولیس ریکارڈ کے ہی مطابق پولیس کو کوبیر کشتی حملہ سے ایک ماہ قبل ملی تھی۔ اس پر استغاثہ اجول نکم نے کہا کہ پولیس ریکارڈ میں تاریخ غلط لکھ دی گئی تھی۔

ایڈوکیٹ پوار نے کاما ہسپتال کے اندر اور باہر ہوئے واقعات کے بارے میں کہا کہ عینی شاہدین نے جو بیانات دیے ہیں ان میں کافی تفاوت پایا جاتا ہے۔

Image caption ممبئی حملوں میں ملوث واحد زندہ بچ جانے والے ملزم اجمل قصاب

ایڈووکیٹ پوار اور ان کے اسسٹنٹ مورے کی جرح مکمل ہونے کے بعد بدھ کو ہندستانی ملزم فہیم انصاری کے وکیل آر بی موکاشی نے عدالت کے سامنے اپنی جرح شروع کی۔ فہیم پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی کے ان مقامات کا اچھی طرح جائزہ لیا تھا اور اس کے نقشے تیار کیے تھے جن پر حملہ آوروں نے حملے کیے تھے۔ فہیم کے وکیل شاہد اعظمی تھے جن کا کچھ افراد نے قتل کر دیا تھا۔ ان کی جگہ ایڈووکیٹ موکاشی اس کیس کی پیروری کر رہے تھے۔ موکاشی کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے جو نقشہ عدالت میں پیش کیا ہے وہ بعد میں تیار کیا گیا ہے۔

چھبیس نومبر سن دو ہزار آٹھ کو ممبئی پر سلسلہ وار کئی مقامات پر حملے ہوئے تھے جن میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق دس حملہ آور ممبئی پر حملہ کرنے آئے تھے جن میں سے پولیس نے ایک ملزم اجمل امیر قصاب کو زندہ پکڑنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اجمل قصاب کے علاوہ دو ہندستانی ملزمین فہیم انصاری اور صباح الدین سمیت اکتالیس ملزمین پر ممبئی کے سینٹرل جیل کے احاطے میں بنی خصوصی عدالت میں مقدمہ گزشتہ برس سترہ اپریل سے شروع کیا گیا۔

پولیس نے گیارہ ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ پچیس فروری کو داخل کی۔ ملزم قصاب پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے ، قتل، سازش ، اسلحہ قانون کی خلاف ورزی ، دھماکہ خیز اشیاء قانون ، پاسپورٹ قانون کی خلاف ورزی اور تعیزرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیے تھے۔ کیس کی سماعت سترہ اپریل سے شروع ہوئی۔ عدالت نے شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سربراہ ذکی الرحمن لکھوی اور جماعت الدعوہ چیف حافظ سعید سمیت بائیس ملزمین کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران قصاب نے دو مرتبہ اپنا جرم قبول کیا لیکن آخر اٹھارہ دسمبر کو انہوں نے عدالت کے سامنے کہا کہ سارے بیانات جھوٹے تھے اور یہ کہ انہیں چھبیس نومبر کو ہوئے حملوں سے بیس دن قبل ہی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

اسی بارے میں