بھارت میں مردم شماری کا آغاز

ہندوستان میں ہر دس برس بعد ہونے والی مردم شماری کا آغاز جمعرات سے شروع ہو گیا ہے۔

بھارتی آبادی
Image caption پورے عمل میں تقریبا چھ ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

اس عمل کی باضابطہ ابتدا صدر کے اندراج سے ہوگی۔ آزادی کے بعد سے یہ ساتویں مردم شماری ہے۔

اس عمل میں بھارت کی پینتیس ریاستیں اور یونین ٹریٹریز، 640 اضلاع ، ایک ارب بیس کروڑ کی آبادی اور تقریبا چوبیس کروڑ گھر شامل ہوں گے۔

مردم شماری دو مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔ پہلا مرحلہ اس برس اپریل سے ستمبر کے درمیان مکمل کیا جائے گا جبکہ دوسرا اگلے برس نو فروری سے اٹھائیس فروری کے درمیان پورا کیا جائے گا۔

اس مرتبہ ہونے والی مردم شماری میں خاص بات یہ ہے کہ اس میں سب ہی شہریوں کا باقاعدہ ڈیٹا بیس بھی تیار کیا جائے گا اور قومی مردم شماری رجسٹر بھی بنایا جائے گا۔

اسی رجسٹر سے موصول ہونے والی معلومات سے مستقبل میں پندرہ برس کی عمر سے زیادہ کے ہر ہندوستانی شہری کو ایک ’یونیک آڈنٹیٹی‘ نمبر یعنی شناختی نمبر جاری کیا جائے گا۔

اس رجسٹر ميں ہر شہری کی فوٹو اور اس کی دسوں انگلیوں کے نشانات بھی لیے جائيں گے۔

پورے عمل میں تقریبا چھ ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب مردم شماری کرنے والے اہلکار بھارتیوں سے یہ بھی پوچھيں گے کہ ان کے پاس کتنی گاڑیاں ہیں، وہ کون سا موبائل فون استعمال کرتے ہیں یا ان کے پاس کتنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ ہیں۔

مردم شماری میں مذہب، زبان ، تعلیم اور پیشے سے متعلق بھی پوچھا جائیگا۔

تاہم اس طرح موصول ہونے والی معلومات کو کسی بھی عدالت میں پیش نہيں کیا جا سکتا ۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ہر شہری بغیر کسی خوف کے اپنے بارے میں جانکاری دے سکے۔

اسی بارے میں