عائشہ اب شعیب کے لیے اتنی لکی نہیں

عائشہ صدیقی کے والدین
Image caption شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے

پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور عائشہ صدیقی کے درمیان کیا رشتہ ہے، یہ بات تو دن بہ دن الجھتی ہی جارہی ہے اور فی الحال اس پر کمنٹ کرنا مناسب نہیں ہوگا لیکن حیدرآباد دکن سے ان کے بدلتے ہوئے رشتے کو میں نے بھی قریب سے دیکھا ہے۔

جب مارچ دو ہزار پانچ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلنے ہندوستان آئی تھی تو رپورٹنگ کے لیے مجھے بھی لندن سے یہاں بھیجا گیا تھا۔ حیدرآباد میں ایک پریکٹس میچ کھیلا گیا تھا لیکن صرف مٹھی بھر لوگ ہی یہ میچ دیکھنے پہنچے تھے۔ ٹیم کی شہر میں موجودگی میں کسی کی خاص دلچسپی نہیں تھی۔

اس گیم میں شعیب ملک نے اکیاسی رن بناکر ’مین آف دی میچ‘ کا ایوارڈ جیتا تھا۔ حیدرآباد میں قیام کے دوران پوری پاکستانی ٹیم کی شعیب کے ’سسرال‘ میں دعوت ہوئی تھی۔ اس وقت بھی یہ بہت بڑی خبر بنی تھی۔ سکیورٹی سخت تھی اور میں کوشش کے باوجود بھی محمد صدیقی (جن کا دعویٰ ہے کہ وہ شعیب ملک کے سسر ہیں) کے عالیشان گھر میں داخل نہیں ہو سکا تھا۔

میچ کی شام ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ کوٹھی میں داخل ہوتے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کافی خوشحال ہیں۔ محمد صدیقی اور ان کی اہلیہ میڈیا کی دلچسپی سے کافی خوش تھے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ میچ کے بعد شعیب نے آپ کو کال کیا؟

’جی میچ کے بعد انہوں نے فون کیا اور میں نے اور میری بیگم نے انہیں مبارکباد دی، جس پر انہوں نے کہا کہ ڈیڈی، دراصل بات یہ ہے کہ حیدرآباد مجھے راس آیا اور حیدر آباد کے علاوہ عائشہ کے ساتھ جو رشتہ بنا ہے ہمارا وہ بہت راس آیا اور اس کے بعد انہوں نے(شعیب نے) کہا کہ ’یہ عائشہ کا شہر ہے اور یہ میرے لیے خوش قسمتی لایا ہے‘۔‘

جب میں نے پوچھا کہ پاکستان میں لڑکیوں کی شادی کرنے سے آنے جانے میں بڑی دشواری ہوجاتی ہے، خاندان بٹ جاتے ہیں، تو ان کا جواب تھا کہ (میں اسے تعلقات کی بہتری اور مضبوطی کی راہ میں) ’ایک کڑی سمجھتا ہوں کہ یہاں کی لڑکیوں کی شادی وہاں کے لڑکوں اور وہاں کی لڑکیوں کی شادی یہاں کے لڑکوں سے ہو رہی ہے تو یہ سلسلہ بڑھے گا اور وہ کہتے ہیں نا کہ ہمیشہ اچھے کی امید کرنی چاہیے۔ اور پھر قرآن میں بھی کہا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ تو ہمشہ اچھے کی امید ہی کرنی چاہیے۔

میری عائشہ سے ملاقات نہیں ہو پائی تھی حالانکہ وہ گھر پر موجود تھیں۔ میں نے بہت کوشش کی، لیکن عائشہ کی والدہ نے مجھے بتایا کہ ان کے گلے میں انفیکشن ہے۔ میرے کافی اصرار کے باجود نہ انہوں نے مجھے عائشہ سے بات کرنے دی نہ ان کی کوئی تصویر ہی دی۔ لیکن ماں باپ کی میں نے کئی تصاویر کھینچیں۔

مجھے محمد صدیقی کافی دلچسپ انسان لگے۔ بات چیت کے دوران انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ بی بی سی کے بڑے مداح ہیں اور ہمارے پروگرام پابندی سے سنتے ہیں۔

وہ عربی کے سکالر اور بغداد یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں۔ بات سے بات نکلی، تو کہنے لگے کہ انہیں حیدرآباد کی ہر بات پسند ہے لیکن جب لوگ آپ کو شادی کی ’تخریب‘ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں تو روح فنا ہوجاتی ہے۔

میچ سے اگلے دن ٹائمز آف انڈیا میں شعیب ملک کی ایک بڑی تصویر شائع ہوئی تھی جس کا عنوان تھا ’شہر کا داماد: مرد آف دی میچ‘۔

پانچ سال میں بس لڑکی بدلی ہے، شہر بھی وہی ہے اور داماد بھی۔ اور ہاں، عائشہ اب شعیب کے لیے اتنی لکی نہیں ہیں جتنی پانچ سال پہلے انہیں لگ رہی تھیں۔

اسی بارے میں