دلی، دکان میں تابکاری سےکئی افراد زخمی

فائل فوٹو
Image caption بھارت میں دنیا بھر کا آیا ہوا کباڑ بکتا ہے

بھارت کے دارالحکومت دلی کے مغربی علاقہ میں کباڑ کی ایک دکان میں تابکاری کی وجہ سے بعض افراد جلنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بہت زیادہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔

یہ واقعہ مایا پوری کے علاقہ میں جمعرات کی شب کو پیش آيا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دکان کے مالک دیپک جین نے جب اس مادہ کو چھوا تو جلنے کے سبب ان کا پورا بدن ہی کالا پڑ گیا۔ انہیں علاج کے لیے اپولو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

دیپک کے جین کے علاوہ ان کی دکان میں کام کرنے والے تین ملازم اور ایک اور شخص کو بھی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دکان میں رکھے ایک مادے کو چھونے سے ان افراد کے جسم جھلس گئے ہیں۔

دلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت کا کہنا ہے ’دکان سے کم درجہ کی تابکاری ہو رہی ہے اور ہم نے علاقے کو خالی کرا لیا ہے۔ ہماری پوری توجہ اس بات پر ہے کہ ہم تابکاری کو روک سکیں اور ہماری ٹیم اسی پر کام کر رہی ہے۔‘

راجن بھگت کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور ’ہم اس بات کی تفتیش کریں گے کہ آخر یہ مادہ کہاں سے دکان تک پہنچا اس کے بعد مزید تفتیش کی جائےگي۔‘

دکان کے آس پاس پچاس میٹر تک علاقہ کو خالی کرایا گيا ہے اور لوگ میں خوف پایا جاتا ہے۔ بعض پڑوسیوں کو شکایت تھی کہ انہیں بھی دکان کی تابکاری کا اثر محسوس ہوتا ہے۔

ہندوستان میں تمام طرح کا کوڑا اور ردی بکتی اور خریدی جاتی ہے۔ حالت یہ ہے کہ دنیا بھر کے جہاز یا دیگر پرانی کیمکل اشیاء یہیں آکر توڑی جاتی ہیں اور پھر انہیں یہیں سے دوسرے علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔