پاکستان سے بات چیت کارروائی سے مشروط

منموہن سنگھ
Image caption منموہن سنگھ نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ رشتوں پر سخت موقف اپنایا ہے

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک پاکستان ممبئی حملے کے ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا اس وقت تک اس سے بات چیت نہیں ہوگی۔

واشنگٹن میں بھارتی ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں انہوں نے کہا '' ہم چاہتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس طرح کی مجرمانہ کارروائی کی تھی پاکستان ان کے خلاف متاثر کن انداز سے کارروائی کرے۔ یہ پاکستان سے ہماری کم سے کم امید ہے اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ہمیں تمام مسائل پر بات چیت کرنے میں حوشی ہوگی۔''

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کی ہے لیکن بھارت کو اس سے متعلق اور شواہد دینے کی ضرورت ہے۔

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ ان کی نظر میں '' اس بارے میں بھارت کو وزیراعطم گیلانی کو مزید ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔''

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس ماہ کے اواخر میں بھوٹان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں ان کے ساتھ ساتھ پاکستانی وزیراعطم بھی شریک ہون گے تو کیا وہاں دونوں کے درمیان کوئی ملاقات طے ہے۔

اس پر مسٹر سنگھ نے کہا '' ابھی اس بارے میں کچھ بھی نہیں سوچا اور جب وقت آئیگا تب اس بارے میں سوچیں گے۔''

واشنگٹن میں جوہری امور سے متعلق امریکی صدر باراک اوبامہ نے جو کانفرنس بلائی تھی اس میں دونوں رہنما شریک تھے اور دونوں کی ایک غیر رسمی ملاقات بھی ہوئی ہے لیکن کسی مسئلے پر بات نہیں ہوئی ہے۔

منموہن سنگھ نے باراک اوبامہ سے اپنی ملاقات میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا تھا کا پاکستان نے ممبئی حملوں کے ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں