للت مودی: پوچھ گچھ سے مطمئن

محکمہ انکم ٹیکس کے اعلی افسران کی جانب سے پوچھ گچھ کے بعد انڈین پریمیئر لیگ کے چیئرمین للت مودی نے کہا ہے کہ ان سے جو سوالات پوچھے گئے تھے، ان کے اطمینان بخش جواب دے دیے گئے ہیں۔

انکم ٹیکس کے افسران نے جمعرات کی شام اچانک مبئی میں موجود آئی پی ایل کے دفتر میں دستاویزات کی جانچ کی تھی اور اور اطلاعات کے مطابق سات گھنٹے تک للت مودی سے پوچھ گجھ کی گئی۔

مودی نے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی اس جانچ کے بارے میں کہا تھا کہ دفتر پر چھاپہ نہیں مارا گیا ہے بلکہ کاغذات کی جانچ کی جا رہی ہے کیونکہ محکمہ انکم ٹیکس کو کوچی کی نئی ٹیم سے متعلق معلومات حاصل کرنی تھی۔

اطلاعات کے مطابق انکم ٹٰکس ڈپارٹمنٹ یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ آئی پی ایل ٹیم کے مالکان نے فنڈنگ کہا سے حاصل کی تھی۔ محکمہ انکم ٹیکس کے ذرائع کے مطابق اب آئی اپی ایل کی تمام دس ٹیموں کے تمام کاغذات اور مہیا کرائے گئے فنڈز کی جانچ ہو گی۔

لیکن للت مودی نے جمعہ کو کہا کہ پرانی ٹیموں کے بارے میں انکم ٹیکس کے افسران نے کوئی سوال نہیں کیے۔

’وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ فرینچائز کا نظام کس طرح کام کرتا ہے، اور بولی لگانے کا کیا سسٹم ہے۔اور ہم نے متعلقہ دستاویزات انہیں دے دیے ہیں اور وہ اس سب سے مطمئن ہیں۔’

لیکن مودی کے مطابق انکم ٹیکس افسران نے یہ بھی کہا کہ وہ پرانی ٹیموں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کی زیادہ دلچسپی کوچی کی ٹیم میں تھی۔

آئی پی ایل میں فنڈ کی دستیابی کا یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کوچی کی نئی ٹیم کے پروموٹرز کی شناخت پر سوالیہ نشان لگایا گیا۔ مودی نے بدھ کے روز ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کوچی ٹیم کے مالک کون ہیں اور اس ٹیم میں کس کا کتنا حصہ ہے یہ بات وہ بھی نہیں جانتے جنہوں نے ٹینڈر بھرا تھا۔ مودی کا کہنا تھا کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ جانیں کہ اصل میں ٹیم کا مالک کون ہے۔

اسی بارے میں