انڈیا: سود کی شرح میں اضافہ

انڈین کرنسی
Image caption ہندوستان کی حکومت کے سامنے مہنگائی پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج ہے

ریزرو بینک آف انڈیا نے سن دو ہزار دس گیارہ کے لیے اپنی مالی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔ بینک نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح میں اضافہ کیا ہے لیکن ساتھ اس کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت سالانہ آٹھ فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔

ہندوستان میں افراط زر اس وقت دس فیصد کے قریب ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے حکومت کافی دباؤ میں ہے۔ ریزرو بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح میں صفر اعشاریہ دو پانچ فیصد اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی بینکوں کو آر بی آئی کے پاس جو رقم جمع کرانی پڑتی ہے اس میں بھی چوتھائی فیصد کا اضٰافہ کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی چوبیس اپریل سے عمل میں آئے گی اور نتیجتاً مارکٹ سے ساڑھے بارہ ہزار کروڑ روپے باہر نکال جائیں گے۔

بھاسکر بزنس اخبار کے اکانمک ایڈیٹر ہرویر سنگھ کے مطابق ’رزرو بینک نے جو تبدیلی کی ہے اس کا سب سے بنیادی مقصد یہ تھا کہ مہنگائی کو کس طرح سے قابو کیا جائے۔‘

وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک افراط زر گھٹ کر ساڑھے پانچ فیصد سے بھی کم ہو جائے گی۔’مہنگائی کم کرنی ہے، لہذا مالی پالیسی میں جو تبدیلی کی جانی چاہیے تھی وہ ہو رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ بازار میں فنڈز کی دستیابی اتنی کم نہ ہوجائے کہ سرمایہ کاروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔‘

آر بی آئی نے لگاتار دوسرے مہینے سود کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔ سرکردہ بینکوں کے مطابق اگرچہ صارفین کے لیے فوری طور پر قرض مہنگے نہیں ہوں گے لیکن ماہرین کے مطابق بینک زیادہ دن تک یہ اضافی بوجھ برداشت نہیں کریں گے۔ سود کی شرح زیادہ ہو صافین زیادہ قرض لینے سے بچتے ہیں جس سے افراط زر کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے۔

حکومت نے عالمی مالی بحران کی وجہ سے فنڈز کی دستیابی کو آسان بنایا تھا اور اب حالات میں بہتری کے ساتھ یہ رعایتیں واپس لی جارہی ہیں۔ اس کا سلسلہ جنوری میں شروع کیا گیا تھا۔

آر بی آئی کے گورنر نے کہا کہ معیشت آٹھ فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کرے گی جبکہ حکومت کا تخمینہ ساڑھے آٹھ فیصد ہے۔