کشمیر میں سیمینار پر پولیس کا چھاپہ

احمد احسن اونتو
Image caption سیمنار کے شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے چھاپہ مار کر لوگوں کو گرفتار کر لیا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بدھ کے روز پولیس نے ایک مقامی ہوٹل پر چھاپہ مار کر ’ہیومن رائٹس فورم‘ کے سربراہ محمد احسن اونتو سمیت کئی علیٰحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس سربراہ فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل میں منعقدہ ’سیمینار کاایجنڈا غیر قانونی تھا۔ اس میں حافظ سعید اور سیّد صلاح الدین جیسے لوگوں کی ٹیلی فونک تقریر کا پروگرام تھا۔ اس کا انکشاف خود اونتو نے ایک روز قبل ہی کیا تھا۔ اگر وہ ایسے لوگوں کی تقریر سیمینار میں چلوانا چاہتے ہیں تو وہ کیسا انسانی حقوق رضاکار ہے‘۔

سرینگر کے ایک پولیس تھانہ میں قید احسن اونتو نے فون پر تصدیق کی کہ انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے رہنماؤں کو سیمینار سے ٹیلی خطاب کے لیے مدعو کیا تھا ۔

اونتو کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، مظفرآباد میں مقیم کشمیری مسلح گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سیّد صلاح الدین، جماعت الدعوہ کے سربراہ اور لشکرطیبہ کے بانی حافظ محمد سعید، شدت پسند گروپ جیش محمدی کے سربراہ مولانا مسعود اظہر اور پاکستان کے سابق آئی ایس آئی سربراہ حمید گُل کو بھی سیمینار سے خطاب کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ اونتو کے پاس حافظ سعید کی صدا بند تقریر پہلے سے موجود تھی، جسے وہ سیمینار کے دوران سامعین کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ دیگر مسلح لیڈروں کی تقریر کو ٹیلی فون کے ذریعے نشر کرنے کا منصوبہ تھا۔

اونتو کے ایک قریبی ساتھی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حافظ سعید نے اپنی پانچ منٹ کی آڈیو تقریر میں کشمیر اور فلسطین کو یکساں نوعیت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے دونوں کے تصفیہ پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ حافظ نے ٹیپ میں کہا ہے کہ’ کشمیر میں لڑائی جاری رہے گی۔ بھارت ہمیں دہشتگرد جتلانا چاہے گا ، لیکن ایسا کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہونگے‘۔

سیمینار میں سیّد علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق ، محمد یٰسین ملک اور بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کے علاوہ کئی سرکردہ علیٰحدگی پسندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ہوٹل پر چھاپہ اور اونتوں کی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی جموں کشمیر کے ترجمان اعلیٰ ایڈوکیٹ زاہد علی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’یہ تو جمہوریت کا خون ہے۔ اب ہمیں سیمینار تک منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت یہاں کس قدر لاقانونیت پر عمل پیرا ہے‘۔

Image caption ترجمان کے مطابق سیمنار کی اجازت نا ہونا حکومت کا آمرانہ طرز ہے

تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے سیمینار پر پابندی اس کے ایجنڈا کی وجہ سے عائد کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ مسعود اظہر اور حافظ سعید جیسے ’اشتہاری مجرموں‘ کی تقاریر کی نشرواشاعت غیر قانونی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت ہند نے حافظ سعید کو ممبئی بم دھماکوں کا منصوبہ ساز قرار دے کر پاکستان سے اس کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

احسن اونتو کا تعلق شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع سے ہے۔ انہوں نے اُنیس سو نوّے کی دہائی میں مسلح تنظیم حزب المجاہدین میں شمولیت کرلی اور اس گروپ کے'لانچنگ کمانڈر' بن گئے۔ کئی سال کی قید کے بعد جب وہ اُنیس سو اٹھانوے میں رہا ہوگئے تو انہوں نے ’ہیومن رائٹس فورم‘ کا قیام کیا اور خود اس کے سربراہ بن گئے۔ چنانچہ انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا اور دو ہزار نو میں پانچ سال کی قید کے بعد رہا کیا گیا۔

اسی بارے میں